تازہ ترینذیشان انصاریکالم

سیاسی اور موسمی گرم

حسب روایت ماہ جون موسم گرم ہوائوں کے ساتھ نمودار ہوا۔ مگر پاکستانی عوام کو موسم کی گرمی کے ساتھ سیاسی گرمی کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ ایک طرف عمران خان نے پارٹی الیکشن کی تیاری عروج پر کرتے ہوئے ISF کو پورے پاکستان میں ممبرسازی مہم چلانے کا حکم جاری کیا تو دوسری طرف سابقہ وزیراعظم نے عدلیہ کے فیصلوں کی خلاف ورزی کی مہم جاری رکھی ، جس پر پاکستانی عدلیہ نے تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے گیلانی کو ملتان کا راستہ دیکھایا۔ ساتھ ساتھ پانچ سال تک آرام بھی نصیب فرمایا تاکہ دماغ میں موجود عوامی فلاح کے منصوبوں کو سکون میسر آسکئے۔
قیام پاکستان سے قبل پاکستانی عوام کو جمہوریت اور پارلیمانی نظام حکو مت کے جو خواب دیکھائے گئے وہ قائد کی وفات کے بعدموروثیت و ملوکیت کی حامل سیاسی جماعتوں نے قریبی قبرستان میںدفنا دیے ، لیکن پاکستانی عوام کو اس کی خبر کانوں کان نہ ہونے دی۔ اور اب سیاسی جماعتیںنام نہاد جمہوریت کا راگ ہمیشہ الیکشن کے قریب اور اپوزیشن دور میں لگاتی ہیں ۔ عوام بھی جمہوریت کے نشے میں نام نہاد جمہوری جماعتوں کو اقتدار کی منازل طے کرواتی ہے اور ساتھ غیر جمہوری دور کا آغاز ہوجاتا ہے ۔
22جون کو عوامی فیصلوں کی مخالفت کرتے ہوئے راجہ صاحب کو پاکستانی پراجا کے سر پر25 ویں وزیراعظم کے طور پربیٹھا دیا گیا۔ پوری دنیاکو پتہ ہے کہ راجہ صاحب نے اپنے دور وزارت پانی و بجلی میںپاکستانی عوام سے کتنے وعدہ کیے اور کتنے وعدہ وفا ہوئے؟ راجہ صاحب کے وعدوں کی بدولت ہزاروں صنعتیں بند اور مزدور خودخوشیاں کررہے ہیں؟ یا ڈالر و تیل کی قیمتوں کی بدولت پاکستان سے بجلی ختم ہوئی اور ساتھ ساتھ کاروبار ذندگی کا بھی خاتمہ ہوا؟ قارئیں ان سوالات کے جوابا ت آپ مجھ سے بہتر انداز میں جانتے ہیں ، اس لیے مجھ اپنی کم عقلی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔
کیا22 جون کوپاکستان کی سیاست میں تبدیلی آسکتی تھی؟ ملک کی موجودہ دوسری بڑی جماعت پنجاب سمیت مرکز میں اپنی حکومت بنا سکتی تھی ، اور ملک کو بحرانوں کی فضائ سے ترقی راہ پر گامزن کرسکتی تھی؟
22 جون کو راجہ صاحب نے 342کے ایوان میںسے211 ووت حاصل کیے، ان کوPPPP, MQM,ANP, FATA,PML (Q) اور فنکشنل لیگ نے ووٹ دیئے جبکہ ان کے مدمقابل PML(N)کے ا میدوار سردارمہتاب خان کو89 ووٹ ملے اور 42 ارکان نے اپنے قیمتی ووٹ کا استعمال کرنا پسند نہیں کیا۔ میری کم عقل کے نزدیک اگر نواز شریف 22جون کو عوامی مشکلات کو دیکھتے ہوئے دیگر مسلم لیگیوں کے ساتھ مل کر ایک متفقہ امیدوار میدان میں لاتے تو عین ممکن تھا کہ PPPکے موجودہ اتحادی بھی لیگی امیدوار کو ووٹ دیتے ۔ اور ایک ایسا وزیراعظم قوم کو نصیب ہوتا جو سوئس عدالتوں خط لکھ کر ملک کی لوٹی ہوئی تمام دولت واپس لانے میں راہ ہموار کرتا۔ مزید برآں ملک میں موجود بدترین لوڈشیڈنگ کے بحران کو حل کرنے میں عملی اقدامات کرتا۔ اور ساتھ موجودہ اپوزیشن کے منشور کا اصل چہرہ بھی سامنے آجاتا کہ ان میں کو خوبی بھی ہیں یا صرف نعرہ ہی نعرہ ہیں۔۔
راقم کے نزدیک آنے والے الیکشن میں عوام کو امیدوار کی قابلیت کو دیکھتے ہوئے اپنا قیمتی ووٹ کاسٹ کرنا ہوگا نہ کہ جمہوریت کا راگ لگانے والوںکے ہاتھ اپنی تقدیروںکا فیصلہ کروائے۔ انشا اﷲ وہ دن دور نہیں جب عوام اپنے فیصلے خود کیا کرئے گئی۔ اور پوری دنیا دیکھی گی پاکستان جمہوریت کا گھر ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker