شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / اعجاز رانا / موت کا صحرا تھر پارکر۔۔۔!

موت کا صحرا تھر پارکر۔۔۔!

کوئلے ، گرینائیٹ پتھر اور نمک کے ذخائر سے بھر پور صحرائے تھر پارکر کے باشندوں پر بھوک و افلاس نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں ۔ بوند بوند کو ترسنے کے بعد تھر کی پیاسی زمین سے پرندوں نے تو ہجرت کرلی لیکن بڑی تعداد میں مال مویشیوں کی ہلاکت کے بعد انسان بھی مرنے لگے ہیں ، ننے معصوم پھول جیسے بچے مرجھانے لگے ہیں ، روز بروز ماؤں کی گود اجڑنے لگی ہے ، غذائی کمی کے باعث گزشتہ چند برسوں کے دوران ہزاروں نومولود بچوں کی اموات واقع ہوچکی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس مہینے میں52 بچوں کی ہلاکتوں کے بعد رواں برس ننے معصوم بچوں کی ہلاکتوں کی تعداد 478 ہوگئی ہے۔ سندھ کے پسماندہ ترین ضلع تھر پارکر کے قحط زدہ علاقہ مٹھی میں صاف پانی،اشیائے خوردونوش اورادویات ناپید ہو چکی ہیں،جبکہ بچوں کی اموات کی اصل وجہ بھی ماؤں میں خوراک کی کمی ہے۔ سندھ کے چوتھے بڑے شہر میرپورخاص سے چار گھنٹے کے فاصلے پر دنیا کے نویں بڑے صحرائے تھر کی شروعات ہوتی ہے اس صحراء کا ہیڈ کوا رٹر مٹھی شہر ہے۔ چاروں طرف ریت کے ہیبت ناک ٹیلوں سے گھرا ہوا یہ شہر آج کل افریکا کا بھوک اور افلاس زدہ علاقہ محسوس ہو تا ہے۔ ریت کے بڑے بڑے خوفناک ٹیلے دیکھتے ہی انسان کے جسم میں کپکپی طاری کردیتے ہیں،دور دور انسان تو درکنار جاندار نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی۔ کمزور دل انسان کو اگر اس صحراء کے سناٹے میں کھڑا کردیا جائے تو تیز ہواؤں کی خوفناک آواز سے اس کا دل پھٹ جائے ،اور وہ ہمیشہ کے لیے ان خوفناک آوازوں سے چھٹکارہ حاصل کرلے۔ کسی مجرم کو اگر سخت اذیت ناک سزا دی جائے اور اسے عبرت کا نشان بنانا مقصود ہو تو اسے تھرپارکر کی ریت پر چھوڑ دیا جائے، وہ مجرم سسک سسک کر اور ایڑیاں رگڑ رگڑ کر جان دے دے گا، لیکن اسے مدد کے لیے کوئی ذی روح نہیں ملے گا۔ اس صحرا ء میں زہریلے بچھو اور انتہائی خطرناک سانپ بلوں میں چھپے رہتے ہیں جو اپنے شکارکو آسانی سے نشانہ بنا کر اپنے بل میں دوبارہ سکون سے جا کرآرام کرتے ہیں۔ پاکستان تھری جی اور فور جی ٹیکنالوجی ، میٹرو بس، میٹرو ٹرین کا حامل ہوچکا ہے ، لیکن یہاں بسنے والے لوگ آج بھی گھٹا ٹوپ اندھیرے میں روشنی کے لیے لالٹین کا سہارا لینے پر مجبور ہیں۔ اس ہیبت ناک اور پراسرار صحرائے تھر میں کچھ بھوکے اور پیاسے لوگ آج بھی زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم، زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں، یہاں پینے کے تازہ پانی کا واحد ذریعہ کنویں ہیں جن کا پانی صحت کے لئے مضر ہے ،انسان اور حیوان ایک ہی جگہ سے پانی پینے پر مجبور ہیں۔ یہاں بسنے والے لوگوں کا ذریعہ معاش بارش ہے یا پھر مال مویشی ہیں۔ یہاں کے مرد سخت قحط سالی میں اپنے مویشی لے کر سرسبز وشاداب علاقوں کی طرف نکل جاتے ہیں ،تاکہ ان کی زندگی کا متاع بچ جائے چاہے وہ خود موت کا شکار ہی کیوں نہ ہوجائیں، باقی رہی عورتیں اور بچے تو وہ جانیں اور ان کا خدا جانے۔
یہاں رہنے والوں کے لیے سب سے بڑی نعمت میٹھا پانی ہے۔ میٹھے پانی کا حصول ان کے لیے آج بھی شیر کے منہ سے نوالہ نکالنے کے مترادف ہے، یہاں پانی میلوں سفر کر کے حاصل کیا جاتا ہے۔ دو سو فٹ گہرا کنواں کھود کر نکالا جانے والا پانی سمندر کے پانی سے بھی زیادہ کڑوا ہوتا ہے۔یہاں پانی کا کنواں کھودنا آسان کام نہیں۔ریت ہونے کی وجہ سے کئی لوگ کنواں کھودتے ہوئے ریت تلے دب کرپانی کی تلاش میں اپنی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ یہاں بسنے والے لوگ آج آسمان کی طرف دیکھتے ہیں اور ربّ کے حضور ہاتھ پھیلا کر بارش کی دعا مانگتے ہیں، اور جب اللہ ربّ العزت ان پر رحم فرماکر بارش برسا دے تو یہ سندھ کے کسی بھی علاقے میں بکھرے موتیوں کی طرح ہوں ،سمٹتے ہوئے اپنے دیس کی طرف چلے آتے ہیں۔بارشوں میں یہ لوگ باجرہ اور مکئی بوتے ہیں، اور یہی فصل سال کے لیے ان کی خوراک ہوتی ہے، اور اسی پر ان کی زندگی کا دارو مدار ہے۔ اب آئیں اس علاقے میں ملنے والی قدرتی معدنیات کے بارے میں جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس خشک صحراء میں کیا کیا چیزیں چھپا رکھی ہیں۔اس علاقے میں سفید چینی مٹی ملتی ہے،جس سے مہنگے ہوٹلوں اور مالدار گھرانوں میں بنے ہوئے چینی کے برتن استعمال ہوتے ہیں،اس علاقے میں کئی کلو میٹر تک پھیلے ہوئے کوئلوں کے ذخائردریافت ہوئے ہیں۔ ننگر پارکر میں گرینائیٹ پتھر ملتا ہے جو دنیا کا قیمتی اور مہنگا ترین پتھر ہے۔یہاں بارش کے موسم میں قدرتی جڑی بوٹیاں کثیر تعداد میں ملتی ہیں چالاک حکیم بارش کے موسم میں اس علاقے کا رخ کرکے ان بھولے بھالے لوگوں سے سستے داموں وہ جڑی بوٹیاں خرید کر،دنیا کو مہنگے داموں دوائیاں بنا کر دیتے ہیں۔ اس علاقے میں ملتان کے مشہور گدی نشین اور وفاقی وزیر کے مرید کثیر تعداد میں رہتے ہیں۔اسی طرح یہاں سندھ کے ایک مشہور پیر صاحب کے بھی بہت سے مرید رہتے ہیں۔ جبکہ یہ لوگ یہاں صرف الیکشن کے دنوں میں ووٹ لینے کے لیے آتے ہیں اور اس کے بعد دیکھنے کو نہیں ملتے۔ دنیا کی کئی این جی اوز اس صحراء میں موجود ہیں۔ یہ این جی اوز فنڈ دینے والے ممالک کو ان کی غربت دکھا کر فنڈ اکٹھا کرتی ہیں اور پھر مزے لے لے کر سیون اسٹار ہوٹلوں میں بیٹھ کر کھاجاتی ہیں، اور اس علاقے کے لوگوں کو فنڈز کے بارے میں پتا ہی نہیں چلتا۔
آج کل یہ علاقہ بچوں کے لیے موت کا سبب بنا ہوا ہے۔ مائیں بچے جننے سے نہیں ڈرتیں، بلکہ بچہ جننے کے بعد اس کی موت سے ڈرتی ہیں۔ مائیں نو ماہ بچے کو پیٹ میں اٹھا کر تکلیف تو برداشت کررہی ہیں لیکن بچے کا جنازہ اٹھتا دیکھ کر دھاڑیں مار مار کر روتی ہیں۔انکی چیخیں ریت کے پہاڑوں میں گم ہوجاتی ہیں اور ایوان بالا تک پہنچنے سے پہلے ختم ہوجاتی ہیں۔ میڈیا میں بچوں کی اموات کی خبریں منظر عام پر آنے کے بعد حکومتی مشینری اس علاقے کا رخ تو کرتی ہے مگر مسائل کے مکمل حل سے چشم پوشی اختیار کی جاتی رہی ہے۔ تھرپارکر کے دیہات میں ہزاروں حاملہ خواتین غذائی کمی کا شکار ہیں جوآنے والے دنوں میں مذید بچوں کی اموات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہیں۔ ضلعی ہیڈ کوارٹر اسپتال مٹھی میں بچوں کے وارڈ میں آج بھی تکنیکی عملے اور فی میل نرسوں کی کمی ہے جس کے باعث انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں داخل ہونے والے کم وزن بچوں کی دیکھ بھال سمیت علاج معالجے کا فقدان ہے۔ اطلاعات کے مطابق ضلع کے سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی تقریباً 220آسامیاں خالی پڑی ہیں ، جبکہ ضلع کے سول ہسپتال کے علاوہ کسی بھی سرکاری ہسپتال میں کوئی گائناکالوجسٹ نہیں جبکہ تحصیل ہسپتالوں میں بھی صرف ایک ایک لیڈی ڈاکٹر تعینات ہے،اس کے ساتھ ساتھ سندھ حکومت کی جانب سے فراہم کردہ گشتی موبائل یونٹس کی کارکردگی بھی مایوس کن ہے۔ حکومت سندھ کی جانب سے اس مفلوک الحال علاقے کے باشندوں کے لیے فنڈز، اور میٹھے پانی کے ٹینکرز گاؤں تک پہنچانے اور غذائی قلت کے خاتمے کے لئے مفت امدادی گندم تقسیم کرنے کا اعلان تو کیا جاتا رہا ہے، لیکن ان پر عمل نہیں ہوسکا، مٹھی اور گردونواح کے ہسپتالوں میں ادویات کا شدید بحران ہے جبکہ انتظامیہ کی جانب سے دی جانے والی امدادی گندم کی بھی غیر منصفانہ تقسیم کی شکایات عام ہیں۔ حکومتی دعوؤں کے باوجود صحرائے تھر میں غذائیت کی کمی اور مختلف امراض کے سبب سال 2017 ء میں445، سال2016ء میں 479، سال 2015 ء میں 398 اور سال 2014 ء میں 326 ننے معصوم بچے ہلاک ہوچکے ہیں۔ تھر میں پیدا ہونے والا ہر بچہ غذائی کمی کا شکار ہے کیونکہ اس کی ماں کو بھوک کا سامنا ہے، ایک عورت کا اوسطً وزن چالیس سے بیالیس کلو تک ہے جو خود ہی غذائی کمی کا شکار ہے تو ایسی مائیں صحت مند بچے کیسے پیدا کر سکتیں ہیں۔ افلاس زدہ مائیں پھول جیسے بچوں کو زندگی کی چند سانسیں تو دیتی ہیں مگر وہ بھی صرف چند مہینوں تک ، اس کے بعد وہ بچہ حالات کی سختی برداشت نہیں کر پاتا اور مر جاتا ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ محض حکومتی اعلانات کی بجائے مستقل بنیادوں پر تھر کے قحط کا حل نکالا جا ئے، سندھ اور وفاقی حکومت اس علاقے میں معیاری غذا، پینے کے میٹھے پانی کی فراہمی اور بنیادی مراکز صحت میں علاج معالجہ کی بنیادی سہولیات کو یقینی بنائے اور زچہ و بچہ کی صحت کے حوالے سے ضروری انتظامات کرے، تاکہ صحرائے تھر کے لوگوں کے حالات زندگی بہتر ہوسکیں

یہ بھی پڑھیں  اداکار حبیب طویل علالت کے بعد دارفانی سے کوچ کر گئے