پاکستانتازہ ترین

کراچی کی صرتحال پرسینیٹ سےMQMاورANPکا واک آوٹ

کراچی(مانیٹرنگ سیل) سینیٹ میں ایم کیو ایم اور ایے این پی نے کراچی میں ٹارگٹ کلنگ قتل و غارت، بھتہ خوری اور بڑھتے ہوئے جرائیم کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے واک آوٹ کیا۔ ایم کیو ایم نے کراچی میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا مطالبہ کیا جبکہ اے این پی کے اراکین کا کہنا تھا کہ مسئلہ کا واحد حل فوجی آپریشن ہے۔چئیرمین نئیر حسین بخای کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں ایم کیو ایم کے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کراچی میں صوبائی حکومت کی کارکرگی سوالیہ نشان ہے امن اما قائم کرنے والے ادارے ناکام ہوچکےہیں، سرمایہ دار بھاگ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم لوگوں کی جان و مال کی حفاظت نہیں کی جاسکتی تو ایوانوں میں بیٹھنا فضول ہے، ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کو کراچی میں بیٹھنا چاہیئے۔ ایم کیو ایم کو منانے کے لئے وزیر قانون فاروق ایچ نائیک کو بھیجا گیا لیکن وہ واپس نہیں آئے۔ اے این پی کے زاہد خان اور الیاس بلور نے کہا کہ لوگوں کی جان و مال کی حفاظت حکومت کی زمہ داری ہے عاشور میں کراچی کی صورتحال خراب ہوسکتی ہے جبکہ صوبائی اوروفاقی حکومت خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔ مسلم لیگ نواز کے مشاہد اللہ خان نے کہا کہ واک آوٹ کرنا کراچی کے مسئلے کا حل نہیں کراچی میں سول وار ہے جس کی زمہ داری وہاں کے اسٹیک ہولڈرز پر عائد ہوتی ہے۔ سانحہ نشتر پارک، وکلاء کا قتل اور دیگر واقعات میں کیا طالبان ملوث ہیں۔ کراچی کا مسئلہ ایک ماہ میں پولیس کے ذریعے حل ہوسکتا تھا جو پانچ سال میں حکومت حل نہیں کراسکی۔ سینیٹ میں وازراء کی عدم موجودگی پر چئرمین نئیر حسین بخاری نے برہمی کا ظہار کیا۔ وزیر قانون فارق ایچ نائیک نے ایوان کو یقین دہانی کرائی کہ معاملہ وزیر اعظم کے نوٹس میں لایا جائے گا۔ اے این پی کے عبدالنبی بگنش نے آئی جی پنجاب کے خلاف استحقاق چئیرمین نے متعلقہ کمیٹی کے سپرد کردی۔ سینیٹ کا اجلاس کل شام تک ملتوی کردیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں  سبی:میلے کے دوران لائیوسٹا ک کی من مانیاں اپنے من پسند افراد میں انعامات کی برسات

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker