تازہ ترینکالم

مسٹر جیکس یہ بے ایمانی نہیں سیاست ہے

muhammad aliایک نوجوان بجلی کی ننگی تار کو پکڑے حقیقی بریک ڈانس کر رہا تھا کہ اُس کے کِسی جان پہچان والے نے قریب سے گزرتے ہوئے اپنے دوست کو عجیب کیفیت میں دیکھا تو بلند آواز میں پوچھا ’’ کیا ہوا راجو ! یہ تم ڈانس کیوں کر رہے ہو‘‘ پہلے والے نوجوان نے چیخ کر کہا کہ’’میں اِس وقت بجلی کی اِس ننگی تار کی لپیٹ میں ہوں‘‘ دوسرے نے فوراً بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ’’تو تم بجلی کی اِس تار کو چھوڑ کیوں نہیں دیتے؟‘‘اِس بار پہلے والی کی شاید آخری کپکپاتی آواز با مشکل حلق سے باہر آئی’’میں تو اِسے کب کا چھوڑ دوں مگر یہ تار مجھے چھوڑتی ہی نہیں‘‘۔۔۔
مجھ بونگے کا بھی کچھ حال یوں ہی ہے۔ روز قلم اُٹھانے سے قبل خوب خشوع و خضوع کے ساتھ خود کو مطمئن کر تا ہوں کہ آج سیاست پر کوئی بات نا ہوگی اب اِس سیاست پر لکھنا چھوڑدونگا مگر یہ کمبخت سیاست میرے قلم کا ساتھ چھوڑتی ہی نہیں اور قلم حالتِ رقص میں چھومتا ،ناچتا ،گاتا سیاست کے گرد ہی طواف کرتا رہتا ہے۔سیاست ایلفی کی مانند ہے جو اپنی رہائش گاہ یعنی اپنی بوتل کو تو نقصان نہیں پہنچاتی مگر کِسی دوسری جگہ پر گرتے ہی کام دکھا جاتی ہے۔سیاست کا نیوٹن کے اُس قانون کے ہر عمل کا ردِ عمل ہوتا ہے ۔۔۔ اِس سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ۔سیاست تو ایک ایسا قانون ہے جِس میں صرف دعوے،سیاست اور بیان بازی ہوتی ہے ۔اب ردِ عمل تو تب ہو جب کِسی بیان یا دعوے پر عمل ہو ۔بچاری عوام کی جانب سے کیے جانے والے احتجاج وہ سب کچھ ردِ عمل نہیں وہ تو صرف یاد دہانی ہے کہ جو غریب عوام خود پر ظلم و ستم کر کے مسندِ اقتدار کو یاد کر واتی ہے۔سیاست صرف سیاست دانوں کے در کی ہی غلام نہیں یہ تو ہر جاندار کے خمیر میں موجود ہے۔گزشتہ الیکشنوں کی طرح 11مئی2013کے الیکشن میں بھی ہر سو’’ اَن گنت‘‘ سیاستیں دیکھنے میں آئیں ۔کِسی نے سیاست سے دھاندلی کی تو کِسی نے سیاست سے پورے پولنگ اسٹیشن پر ہی ریاست کی ۔الیکشن کمیشن آف پاکستان کی صاف و شفاف الیکشن کی سیاست ذرا بھی نہ چل سکی اگر الیکشن کمیشن کی سیاست کامیاب ہوجاتی تو دوبارہ الیکشن کا انعقاد ہر گز نہ کیا جاتا ۔خیراین اے 250میں ری الیکشن نے ثابت کر دیا ہے کہ شفاف الیکشن ہر گز نہیں ہوئے اور سیاست چل گئی خواہ وہ کِسی کی بھی چلی ہو ۔
فیس بک پر جاوید چوہدری کے نام اور تصویر سے یہ تحریر بہت زیادہ شیئر ہو رہی ہے کہ’’ عمران خان واضح اکثریت سے جیت رہے تھے اور وہ 41749کی لیڈ سے جیتے ہوئے تھے لیکن مسلم لیگ نواز کو اپنی بے عزتی منظور نہ تھی ایاز صادق کو جتوانے کیلئے الیکشن کمیشن لاہور کو پچاسی کروڑ دیے گئے NA122لاہورکی گنتی رکوائی گئی صرف ایک سیٹ حاصل کرنے کیلئے PML(N)نے چار گھنٹوں میں پچاسی کروڑ خرچ کر کے سیاسی فتح اپنے نام کی‘‘اِس بات میں سچائی بھی ہو سکتی ہے اور سیاست بھی ۔فافن نامی تنظیم نے اپنی سروے رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ بے شمار پولنگ اسٹیشنوں پر دھاندلی ہوئی ہے یہ سیاست ہے یا سچائی اِس بات کی پرواہ کیے بنا عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ ’’ہر ووٹر نے دو بیلٹ پیپر حاصل کیے ۔ ایک صوبائی اور ایک قومی۔۔۔ظاہر ہے قومی اور صوبائی بیلٹ پیپروں کی لسٹ ووٹروں کی لسٹ سے زیادہ ہی بنتی ہے لہذا بیلٹ پیپر ووٹروں سے زیادہ ہی نکلیں گے‘‘۔جواد نظیر18مئی2013کے اپنے کالم ’’انگوٹھے لے لو ۔۔۔انگوٹھے‘‘میں واضح لکھتے ہیں کہ’’خود میری ایک جاننے والی خاتون ( میں اس خاتون کا نام نہیں لکھ رہا ۔ وہ خاتون اتنی خوفزدہ ہے کہ اِس نے مجھے اپنا نام نہ لکھنے کی قسم دے رکھی ہے ) پریذائڈنگ افسر کے فرائض انجام دے رہی تھی ۔اِن کا کہنا ہے کہ دِن بارہ بجے تک سب ٹھیک چلتا رہا۔دوپہر کے وقت کچھ مسلح افراد نے پولنگ اسٹیشن پر قبضہ کر لیا اور خواتین پر مشتمل عملے کو بھگانے کی کوشش کی ۔مزاحمت کرنے پر اِس پریذایڈنگ کے گلے میں اِسی کا دوپٹہ ڈال کر گھسیٹا گیا اور اِسے ایک تاریک کوٹھڑی میں بند کر دیا گیا۔شام آٹھ بجے اِسے کوٹھڑی سے نکال کر گن پوائنٹ پر نتائج کے کاغذوں پر دستخط کرائے گئے اور منہ کھولنے پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دے کر گھر بھجوا دیا گیا‘‘بے شک سیاست سے کراچی اور دیگر کئی حلقوں میں 11مئی 2013کوسارا دِن دھاندلی کی فصل کاشت ہوتی رہی ۔رضا علی عابدی اپنے کالم’’بلے والا کمرہ کونسا ہے ‘‘میں لاہور شہر کے ایک پولنگ اسٹیشن کا حال بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’یہ وہ خواتین تھیں جنہوں نے زندگی میں کبھی ووٹ نہیں ڈلاتھا ۔چناچہ پولنگ اسٹیشن پر وہ میلے میں کھوجانے والے بچے کی طرح ہراساں پھر رہی تھیں ۔آخر اِن میں سے ایک نے کچھ تعلیم یافتہ خواتین کے قریب جا کر پوچھا۔بلے والا کمرہ کونسا ہے؟بس یہی بھول پن میرا آج کا موضوع ہے ۔ہر الیکشن کی طرح اِس میں بھی دو فریق تھے ۔ایک جانب پرانے ،گھاگ،تجربہ کار،منجھے ہوئے اور زندگی میں کئی کئی الیکشن بھگتا دینے والے،دوسری طرف میلے میں پہلی بار آنے والے اور انگلی چھوڑ کر کھو جانے والے بچے ۔یہ سادہ لوگ بلے والا کمرہ ڈھونڈتے رہ گئے اور انہیں تاکنے والے جہاں دیدہ لوگوں نے انہیں اُچک لیا‘‘۔۔۔13مئی 2013کے اپنے کالم ’’ہاتھ ہولا رکھیں میاں صاحب‘‘میں شاہین صہبانی صاحب نے لکھا ہے کہ ’’کراچی کو پُر امن رکھنے کیلئے متحدہ کو راضی رکھنا بھی ضروری سمجھا گیا سو سب کو سمجھا دیا گیا کہ متحدہ جو بھی کر لے اِس کو نہ روکا جائے ۔اب اِس پلان میں آزاد میڈیانے کچھ رکاوٹیں ڈالیں مگر اِن کو بڑے صبر کے ساتھ در گزر کر دیا گیا اور الیکشن کمیشن کو وہ وڈیو فلمیں جِن میں موٹر سائیکل پر بیلٹ پیپر کے بورے کے بورے لے جائے جا رہے تھے ،بھی نظر نہ آئے۔جب پو چھا گیا تو فرمایا کہ کِسی نے شکایت ہی نہیں کی تو کوئی ایکشن کیسے کرتے‘‘اب کہاں سیاست ہے اور کہا ں سچائی اِس کیلئے بھی ذرا سیاست سے سوچنا پڑے گا۔
ایک طرف تو مانسہرہ ،خیبر ایجنسی اور لکی مروت کے علاقوں میں11ہزار خواتین کو ووٹ کاسٹ کر نے سے روک دیا جاتا ہے ۔11مئی2013جو کہ ملک و قوم کی جمہوریت کا دِن تھا ،یومِ آزادیِ رائے تھا عین اُسی دِن کراچی ،چمن ، مستونگ،نصیر آباد ،پشاور انتخات کے دوران قریبا 63افراد لقمہِ اجل بنا دیے گئے۔کئی مقامات پر الیکشن کمیشن کے عملے کو بھی تشدد کا نشا نہ بنا یا جاتا رہا۔خیر بات واضح ہے کہ الیکشن 2013پُر امن ہر گز نہیں ہوئے بیشمار حلقوں سے شدید بد انتظامی کی شکایت سامنے آتی رہیں ۔مگر میں اِسے بد انتظامی نہیں اعلیٰ درجے کی سیاست کا نام دونگا کیونکہ کوئی بھی شخص میری اس بات سے انکاری نہیں ہوگا کہ سیاست صرف سیاست دانوں کی ہی زر خرید لونڈی نہیں ۔۔۔اِس سے ہر عام و خاص فائدہ اُٹھا سکتا ہے۔جیسے مسٹر کارلوس نے سیاست سے کام لیا ۔۔۔ہوا کچھ یوں تھا کہ
شطرنج کی بازی زورو شور سے جاری تھی ۔جیکس نے ابھی تک ایک بھی چال گیم کے قوانین اور اصولوں سے ہٹ کر نہیں چلی تھی جبکہ کارلوس ہر چال میں نہ صرف بے ایمانی کرنے کی کوشش کرتا بلکہ نظر بچا کر اپنا ہنر دیکھا ئے بھی جاتا تھا اور بالآخر کارلوس اپنی شیطانی چالوں کے ہمراہ فتح سے ہمکنار ہوگیا ۔جیکس نے احتجاج کیا اور کہا ’’میں تمہاری اِس جیت کو نہیں مانتا، تم دھاندلی اور مکاری سے جیتے ہو۔۔۔تم نے سراسر بے ایمانی سے کام لیا ہے‘‘ جیکس کی بات سُن کر کارلوس کے چہرے پر مسکراہٹ سج چکی تھی اُس نے فاتح انداز میں لہرا کر کہا’’نہیں نہیں مسٹر جیکس میں بے ایمانی یا دھاندلی سے نہیں بلکہ سیاست سے جیتا ہوں۔note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button