شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / مسٹرزرداری ،پاکستان پر بھاری

مسٹرزرداری ،پاکستان پر بھاری

ضیا شاہد صاحب کا تاریخی تجزیہ پڑھنے کو ملا ’’احتساب میں پھنسے زرداری کا سندھ کارڈ کھلم کھلا بلیک میلنگ ہے ‘‘اس میں شک بھی کیا ہے چند دن پہلے زرداری کے اباجی حاکم علی زرداری کی ایک وڈیو دیکھی جس میں موصوف بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کو گالیاں دیتے پائے گئے ایسے شخص کی گود اور تربیت میں پلنے والا زرداری پاکستان کھپے کا بوقت ضرورت نعرہ تو لگا سکتا ہے پاکستان کی حمایت نہیں کر سکتا نہ اس کا فائدہ سوچ سکتا ہے کوئی ایک خدمت کوئی ایک فائدہ جو زرداری نے پاکستان کو پہنچایا ہو ؟بلکہ اس شخص کی وجہ سے چند نیک نام لوگ بدنام ہو گئے کچھ ضرورتوں کے لیے بک گئے کچھ جان اور مال بچانے کے لیے اس کے ساتھ ہو گئے کچھ مال بنانے کے لیے ساتھ ہو گئے صرف اتنی سی اوقات ہے اس زرداری کی جو شخص بیوی مروا کر صدر بن سکتا ہے وہ کس حد تک جا سکتا ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ،اٹھارویں ترمیم جس کا کریڈٹ لیتے نہیں تھکتے زرداری صاحب ،کیا ہے وہ ؟ملک توڑنے کا ہتھیار کاش میاں صاحب زرداری کو جیل نہ ڈالتے ہماری قوم کی یاداشت بہت کمزور ہے وہ بھول چکی ہے کہ کہ احتساب کے نام پر یہ کام نواز شریف نے شروع کیا تھا وہ باہر بیٹھ کر حکومت کرتے رہے اور زردای نے جرائم میں پی ایچ ڈی کر ڈالی ،یہ تو ہر کوئی جانتا ہے جب کوئی جیل جاتا ہے چاہے بے گناہ ہی کیوں نہ ہو اس کو معاشرہ قبول نہیں کرتا لوگ ڈرتے ہیں کیا پتہ سچ میں جرم کیا ہو یہی سوال اس انسان کا مستقبل مخدوش کر دیتا ہے لیکن یہ عجب تماشا بھی پاکستان میں ان دس سالوں میں دیکھا گیا جو جتنا بڑا مجرم اتنے بڑے عہدے پر بٹھا دیا جاتا یہ ابھی کی بات ہے لوگ مایوس ہونے لگے کہ نہیں ان کا کوئی کچھ بگاڑ نہیں سکتا جس کو عدالت سزا سناتی ہے وہ پہلے سے بڑا عہدہ سنبھال لیتا ہے یہ تھی زرداری کی پاکستان سے نفرت کی انتہا اس نے ہر وہ کام کیا جو پاکستان مٹانے کے لیے تھا بھولے بھالے میاں صاحب بھی آخر اس کی استادی مان گئے اور پاکستان کے ایک ٹکڑے کے شیر شاہ سوری بننے پر راضی ہو گئے اس کے بعد کی نورا کشتی سے سب بخوبی واقف ہیں ،اور یہ بھی سب جانتے ہیں کہ اس مذموم مقصد میں اگر کوئی طاقت حائل ہے تو اللہ تعالےٰ کے بعد پاک فوج ہے جو کسی قیمت پر اپنے ملک کے ٹکڑے نہیں ہونے دے گی چاہے خون کے دریا بہہ جائیں ہمارے ملک میں جو کھیل کھیلا گیا یہ صرف پیسے کا لالچ نہیں تھا یہ عزت اقتدار ،روایات اور ملک کے چپے چپے کا سودا تھا اس لیے محافظوں نے سب سے پہلے سندھ کی طرف توجہ کی جہاں ایک کالا کٹا بوریاں بنوا رہا تھا اور ہر مہینے بوری بھر ڈالر اس کو پنچائے جاتے تھے (آجکل وہ خیرات کے لیے چیخ رہا ہے )ایک مختصر تحریر مجھے ملی آج کا سب سے بڑا انکشاف ،انصار برنی ،ملک ریاض اور آصف علی زرداری صومالین بحری قزاقوں کے ساتھ مل کر مال بردار بحری جہاز اغوا کراتے تھے بعد ازاں انصار برنی مغویوں کی باز یابی کے لیے سرکاری سطع پر اپیلیں کرتے اور پھر ملک ریاض میدان میں کود کر مغویوں کی بازیابی کے لیے پیسے بھیج دیتے جو دراصل منی لانڈرنگ کی ہی ایک شکل تھی بھیجے جانے والے پیسے دنیا بھر کے مختلف بڑے بینکوں کے اکاؤنٹس میں ٹرانسفر کیے جاتے تھے جو مختلف ذرائع سے ہوتے ہوئے آصف زرداری تک پہنچ جاتے تھے پیسے سے زرداری کی دیوانگی کی حد تک پہنچی ہوئی محبت آج کا قصہ نہیں ،زرداری جب صدر تھے تو جنوبی پنجاب سے ایک وفد انہیں ملنے گیا جو غالبا چھوٹے موٹے صنعتکار تھے اور مسائل کے حل کے لیے ملنے گئے ،وہاں ان سے موبائل وغیرہ لے لیے گئے اس کے بعد ایک گھنٹہ ملاقات رہی جب وہ واپس آنے لگے تو روک لیا گیا فی بندہ چار لاکھ دے گا تو باہر جا سکے گا انہوں نے کہا ہم تو داد رسی کے لیے آئے تھے موبائل آپ نے لے لیے ہم کہاں سے بندوبست کریں اب جی ان کو ایک موبائل دیا گیا کہ رابطہ کر کے پیسے منگواؤ اور خلاصی پاؤ یوں ان بے چاروں نے پیسے منگوا کر دیے اور خلاصی پائی اب تو خیر یہ صنتکار کی ٹانگ سے بم باندھ کر پیسے لینے سے بھی انکاری ہیں حالانکہ ہماری ان گناہ گار آنکھوں نے اخباروں میں چھپی وہ تصویریں خود دیکھی تھیں گو وقت کے ساتھ ساتھ بہت کچھ بدل گیا ہے لیکن شہباز شریف کے بولے گئے فقرے آج بھی کانوں میں گونجتے ہیں ،زرداری تم اکیلے یہ پیسہ نہیں کھا سکتے لوٹے ہوئے پیسے ہمارے حوالے کرو اگر میں نے تمہیں کراچی لاہور اور لاڑکانہ کی سڑکوں پر نہ گھسیٹا تو میرا نام شہباز شریف نہیں ،لیکن پھر چشم فلک نے یہ نظارہ بھی دیکھا کہ رائیونڈ کا شہنشاہ خود گاڑی ڈرائیو کر کے زرداری کو لا رہا ہے اور اس کے اعزاز میں بائیس قسم کے کھانے بن رہے ہیں صرف ایک خواب پورا کرنے کے لیے کہ ہمارے بعد ہماری اولادیں بھی اقتدار کے مزے لیں چاہے اس کے لیے ملک کے ٹکڑے کرنے پڑیں زرداری تو اپنی اولاد کا بھی نہیں آصفہ کو فون کروایا کہ ماں کو کہو سن روف سے باہر نکل کر ہاتھ ہلائے وہ اس خوف میں مبتلا ہے بلاول اور بختاور کو نقیب اللہ والے واقعے کی وجہ سے بلیک میل کرتا ہے ،بے نظیرکی ایک وڈیو بھی وارل ہوئی ہے جس میں وہ کہتی ہیں کہ زرداری کو وفاقی کابینہ میں لانا میری غلطی تھی اب میں اس کو باہر ہی رکھونگی اس لیے زرداری کو جیل سے نکال کر دبئی بھیجا گیا جہاں پہنچتے ہی اس نے نصرت بھٹو مرحومہ کو یرغمال بنا لیا اور کوئی ان سے مل نہیں سکتا تھا حتی کہ پارٹی کے لوگ بھی اور مرحومہ مر کر ہی اس قید سے آزاد ہوئیں زرداری پاکستان ہی نہیں بھٹو خاندان کی بھی بد قسمتی کی ایک بڑی وجہ ہے اس نے بھٹو کی پارٹی بھی تباہ کر دی وہ جو عوامی پارٹی کہلاتی تھی اب کن لفظوں سے یاد کی جاتی ہے ساری دنیا کہتی ہے مرتضی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کا قاتل زرداری ہے بھٹو خاندان کے وفادار اس سے شدید نفرت کرتے ہیں اس نے بلاول کو زبردستی کا بھٹو بنایا ہوا ہے حالانکہ اس کا سب سے بڑا قصور زرداری کا بیٹا ہونا ہے دنیا نیوز کے کامران خان کہتے ہیں زرداری نے سندھ میں کرپشن کی عالمی تاریخ رقم کی ہے (کیونکہ اس عالمی تاریخی کرپشن پر سزا نہ دینے کی وجہ سے آج خود پاکستان کو جرمانے دینے پڑ رہے ہیں کیا بد قسمتی ہے پاکستان کی کہ اسے جنھوں نے لوٹا انہی کی وجہ سے وہ معتوب ہے )اس سے اندازہ لگائیں نواز اور خصوصا زرداری پاکستان کو کس قدر بھاری پڑا ہے ،کامران خان کہتے ہیں جعلی بینک اکاؤنٹس میں جے آئی ٹی نے ایسی تحقیقاتی رپورٹیں تیار کیں ہیں جن سے ثابت ہوا کہ گیارہ سال تک سندھ میں اومنی گروپ کا راج چلتا رہا اور اے جی مجید اور انور مجید سندھ کے بے تاج بادشاہ رہے ،وزیر اعلی انکی مرضی سے لگتا آئی جی ان کی مرضی کا وزیر انکی مرضی سے حتی کہ ایس ایچ او تک ان کی مرضی کے بغیر نہ لگتا اور اگر نہیں لگتا تو اس کا جینا حرام کر دیا جاتا سرکاری ٹھیکوں کی بندر بانٹ یا سرکاری زمینوں کے گھپلے ہر جگہ ایک منظور قادر کاکا بٹھا رکھا تھا ہر ڈیپارٹمنٹ کا ایک کاکا جو رقوم جمع کرتا اور سسٹم میں ڈال دیتا جی ہاں زرداری کا منظور نظر منظورقادر کاکا جو سسٹم کہلاتا تھا سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا سابق ڈائریکٹر جنرل منظور قادر کاکا جس نے ایک محتاط اندازے کے مطابق تیس ارب کی کرپشن کی ہے کاکا مہینے میں پانچ سات بار بغل میں ایک ڈائری دبا کر دفتر آتا کراچی سندھ کے تمام بلڈرز قطار بنا کر کاکا کی ڈائری میں کام اور اس کے معاوضے کا اندراج کراتے سو دو سو گز کا پلاٹ ہو یا ہزار دو ہزار گز کا پلاٹ پر سکوائر فٹ کے حساب سے معاوضہ طے ہوتا ،ایم کیو ایم کے دور میں بھی اسی طرح جائز ناجائز اجازت ناموں کا جمعہ بازار لگا کرتا تھا اس کاکا سسٹم کی بدولت بلاول ہاؤس سے نوڈیرو ہاؤس تک کا تمام خرچہ چلتا تھا اور پھر اومنی گروپ کے تمام معاملات اس کے شکر کے کارخانے چلتے دوسرے بزنس ،زمینوں کے معاملات بینکوں کے معاملات ،جعلی قرضے ان قرضوں پر انٹرسٹ کے معاملات یہ ایک اور شخص چلاتا جس کا نام تھا یونس قدوائی ،اس کی زمہ داری تھی وہ اس سسٹم کو چلائے اور تمام پیسے اے جی مجید تک پہنچائے اور اس کے بعد ان تمام جعلی اکاؤنٹس تک پہنچائے،جعلی اکاؤنٹس کا حال عوام کی ایک بڑی تعداد جان چکی ہے فالودے والے سے لے کر لڈو بیچنے والے نابینا شخص تک کوئی بتیس اکاؤنٹ اب تک ظاہر ہو چکے ہیں جن میں سے بیالیس ارب کی رقوم ریکور ہوئی ہیں جے آئی ٹی نے نوے دن کے اندر ناقابل یقین کام کیا ہے اور ان کی کرپشن کا گوشہ گوشہ بے نقاب کیا ہے جس کو بلاول جھوٹ جھوٹ سفید جھوٹ کہہ رہا تھا عیش عشرت کس کو برا لگتا ہے وہ بھی ہاتھ پاؤں ہلائے بغیر لیکن سو دن چور کا تو ایک دن سادھ کا بھی ہوتا ہے یہ سسٹم جس کا نام منظور کاکا تھا آخر کار پکڑا گیا اور اس کے تمام اعداوشمار موجود ہیں ،بتیس جعلی اکاؤنٹس میں سے پندرہ سمٹ بینک میں ،سات یو بی ایل میں ،آٹھ ایم سی بی میں اور فیصل بینک میں ایک ایک اکاؤنٹس میں بیالیس ارب کی ٹرانزکشن ہوئی یعنی جعلی بینک اکاؤنٹس کا جال بچھایا گیا سندھ بینک سے چوبیس ارب ترانوے کروڑ حاصل کیے گئے سمٹ بینک تو بنایا ہی اس لیے گیا تھا سلک بینک سے ڈھائی ارب کا قرضہ لیا گیا سمٹ بینک سے ساڑھے گیارہ ارب قرضہ لیا گیا سمٹ بینک نے جس انداز سے منی لانڈرنگ کی ہے وہ تمام ریکارڈ سامنے آچکا ہے منی لانڈرنگ کر کے امریکہ ،برطانیہ،فرانس ،عرب امارات ،یو اے ای اور ترکی میں اثاثے بنا ئے گئے ایک زرداری سب پر بھاری ایسے ہی نہیں بنا کلفٹن کے ارد گرد کے تمام بنگلے خریدے گئے بلٹ پروف ٹرک خریدا گیا اور ادائیگی جعلی بینک اکاؤنٹس سے کی گئی اس تمام کے ٹھوس شواہد موجود ہیں ،واضح رہے کہ اس جے آئی ٹی نے 885افراد کو سمن جاری کیے جس کے بعد 767افراد اس کے روبرو پیش ہوئے جے آئی ٹی نے 924افراد کے 11500اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال کی جن کا کیس سے گہرا تعلق ہے مقدمے میں گرفتار ملزم حسن نوائی نے گیارہ مرحومین کے نام پر جعلی اکاؤنٹ کھولے اومنی گروپ کے اکاؤنٹس میں 22.72بلین کی ٹرانزکشن ہوئیں زرداری خاندان ان جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے اخراجات کے لیے رقم حاصل کرتا رہا اس میں سے فریال تالپور کے کراچی گھر پر 3.58ملین روپے خرچ کیے گئے زرداری ہاؤس نواب شاہ کے لیے آٹھ لاکھ نوے ہزار کا سیمنٹ منگوایا گیا بلاول ہاؤس کے یوٹیلٹی بلز پر 1.58ملین روپے خرچ ہوئیبلاول ہاؤس کے روزانہ کھانے پینے کی مد میں 4.14 ملین روپے خرچ ہوئے زرداری اور خاندان کے ہوائی سفر پر 12.82ملین روپے خرچ ہوئے زرداری گروپ نے 148ملین روپے کی رقم جعلی اکاؤنٹس سے نکلوائی ،بلٹ پروف ٹرک کے لیے 14.6ملین روپے خرچ کیے گئے 
نوڈیرو میں پریذیڈنٹ ہاؤس پر 42ملین روپے خرچ ہوئے زرداری خاندان نے اومنی ائر کرافٹ پر 110سفر کیے جیٹ چاپر پر نو بار سفر کیا 
جس پر8.95ملین روپے خرچ ہوئے زرداری نے اپنے وکیل کو 2.3ملین کی فیس ادا کی وہ بھی جعلی اکاؤنٹس سے ،اللہ معاف کرے یہ وہ خاندان ہے جو سسر سے لے کر داماد تک چالیس سال حکومت کر چکا ہے اور جس کی عوام بھوک سے مرتی رہتی ہے جو پانی کے ایک گلاس کو ترستے ہیں میں نے تو یہ بھی پڑھا تھا کہ ایک گلاس پانی کے لیے بچیاں سارا دن اسکول میں بیٹھی رہتی تھیں ابھی پتہ نہیں ان کے کتنے سیاہ کرتوت باقی ہیں آج ایک خبر آرہی تھی کچھ ایم این ایز ایم پی ایز کی غیرت جاگ گئی ہے کہ سندھ حکومت چھوڑ دیں!مسزجمشیدخاکوانی

یہ بھی پڑھیں  وزیر اعظم نےٹریکنگ سسٹم اورتھل ایکسپریس کا افتتاح کردیا
error: Content is Protected!!