تازہ ترینطارق حسین بٹکالم

۔۔،،۔۔ مفادات کی جنگ ۔۔،،۔۔

tariqاصولوں کی موت نے اس کرہِ عرض پر دوستی اور دشمنی کے نئے فلسفے کو جنم دے رکھا ہے ۔ ایک وقت تھا کہ قومیں اصولوں کی بنیادوں پر دوستی اور دشمنی کے کا فیصلہ کیا کرتی تھیں۔ اصول ہی ان کی دوستی اور دشمنی کے معیار ہوا کرتے تھے لیکن آج حالت یہ ہے کہ اس کرہِ ارض پر بسنے والی ساری اقوام اپنے اپنے مفادت کی اسیر ہیں۔ انکی دوستی اور دشمنی کے سارے سوتے انکے قومی مفا دات سے جنم لیتے ہیں اور اول و آخر اسی پر اختتام پذیر ہو جا تے ہیں۔ حصولِ مفادات میں اب اس چیز کی کوئی تمیز باقی نہیں رہی کہ مختلف قوموں کے باہمی مفادات انسانی قدروں کیلئے زہرِ قاتل ہیں یا ان سے انسانیت کی فلاح و بہبود کا پہلو نمایاں ہوتا ہے۔اہم سوال یہ ہے کہ مفادات کا حصول کس طرح ممکن ہو سکتا ہے اور وہ کونسی اقوام ہیں جو ان مفادات کے حصول میں ممدو معاون بن سکتی ہیں؟مفادات بکھر جا ئیں تو دوستی بھی طوفانی موجوں سے پیدا ہو نے والے بھنور میں غرق ہو جا تی ہے اور دوست کے چہرے کو پہچا ننے سے انکار کر دیا جا تا ہے۔ دوست سامنے کھڑا ہوتا ہے لیکن نظر نہیں آتا کیونکہ اب اس کی ذات سے مفادات کے حصول کی تمنائیں بار آور نہیں ہو سکتیں۔اسے مکمل طور پر بھلا دیا جاتا ہے اور غیر اہم سمجھ کرکتابِ محبت سے حرفِ غلط کی طرح مٹا دیا جاتا ہے۔ہر قوم کو اپنے مفاد ات عزیز ہو تے ہیں اور انکا حصول ان کا مطمعِ نظر۔ مختلف اقوام میں جب تک مفاد مشترک رہتا ہے دوستی کا پودا ہرا بھرا اور تنا ور رہتا ہے اور اس پر پھل پھول اور بر گ و بار نکلتے ہیں۔ نئی نئی کونپلیں پھو ٹتی ہیں، نرم و نازک کلیاں ما حو ل کو تازگی عطا کرتی ہیں اور بھولوں سے نکلنے والی بھینی بھینی خو شبو سے فضائیں معطر ہو جاتی ہیں لیکن جیسے ہی مفادات کے آبگینے کو ٹھیس لگتی ہے دوستی کا محل چکنا چور ہو جا تا ہے اور اس کے سنگ ریزے دونوں اقوام کے عوام کے دلوں کو زخمی کر دیتے ہیں۔ آج کے دوست کل کے دشمن موجودہ دور کی ا یسی کڑوی سچا ئی ہے جس سے صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا یہ ہمارا ذاتی مشاہدہ بھی ہے اور تاریخِ عالم ا س کی تصدیق بھی کرتی ہے ۔سیاست کی لغت میں کو ئی دوستی مستقل اور پائیدار نہیں ہو تی اور نہ کسی سے دشمنی مستقل اور دا ئمی ہو تی ہے دوستی اور دشمنی کا پیمانہ قومی مفادات ہو تے ہیں لہذا جب تک مفادت کا کھیل حسبِ منشا چلتا رہتا ہے قومیں با نہوں میں با نہیں ڈالے دوستی کی شاہراہ پر بڑی شان و شوکت اور محبت سے چلتی رہتی ہیں اور دوستی کی عظمتوں کے قصیدے پڑھتی جا تی ہیں۔ وہ بھول جاتی ہیں کہ ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں کے مصداق کمزور اقوام کو سپر طاقتوں کے مفادات کے سامنے سر نگوں ہو نا پڑتا ہے کیونکہ ان کی بقا اسی میں ہوتی ہے وگرنہ سپر پاور حیلوں بہانوں سے ایسی خوددار قوموں پر چڑھائی کر دیتی ہے اور ان کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتی ہے ۔عراق اور افغانستان کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں کہ کس طرح امریکہ نے ان پر چڑھائی کر کے انھیں تباہ و برباد کر دیا ہے اور لاکھوں بے گناہوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگے محض اس وجہ سے کہ یہ دونوں ممالک کمزور تھے اور کمزوروں کو اپنی مرضی سے زندہ رہنے کا حق نہیں دیا جا سکتا ۔یہ دنیا طاقت وروں او شہ زوروں کی دنیا ہے جس میں کمزوروں کا کام محض ان کی ہاں میں ہاں ملانا ہے ۔اگر زندگی عزیز ہے تو پھر خودادر ی اور خودی کا تھوڑا سا خون تو کرنا پڑے گا نہیں تو ملکی سلامتی سے ہاتھ دھونے پڑیں گئے۔ فیصلہ ہر قوم کے اپنے ہاتھ میں ہوتا ہے کہ انھیں کون سی راہ عزیز ہے ٹکراؤ کی راہ یامفاہمت کی راہ جس کے سوتے سپر پاور کی بالا دستی کی قبولیت سے پھو ٹتے ہیں۔۔
مفادت کی جنگ اور اس کے ثمرات سمیٹنے کے حوالے سے پرنس کا مصنف میکاولی اس بارے میں جو کچھ لکھتا ے وہ حرفِ آخر کا درجہ رکھتا ہے۔اس کا قول ہے کہ رموزِ سلطنت اور اخلاقیات پہلو بہ پہلو ساتھ نہیں چل سکتے۔ سلطنتوں کی بقا کیلئے کبھی کبھی ایسے فیصلے بھی کرنے پڑتے ہیں جو اخلاقی معیاروں پر ہر گز پورے نہیں اترتے ۔ اسطرح کے غیر مقبول فیصلوں کا مقصد ریاست اور حکومت کو بچانا ہوتا ہے۔ ایک ریاست کے قیام اور اس کے استحکام اور اقتدار کو برقراررکھنے کیلئے ہر طرح کے ذرائع استعمال کر نے چا ئیں خواہ وہ کتنے ہی ظالمانہ ، کھردرے اور پر فریب کیوں نہ ہوں۔اقتدار کی بحالی کیلئے ہر جائزو ناجائز حربہ درست ہے اور حکمران کو اس کا حق حاصل ہے۔میکاولی کوا نسان کے روحانی اور مذہبی مسائل سے مطلق کوئی دلچسپی نہیں تھی ۔ وہ کہتا ہے کہ ایک بادشاہ یا حکمران کیلئے مذہبی آدمی ہونا ضروری نہیں لیکن اقتدار کو بچانے کیلئے ضروری ہے کہ وہ لوگوں کو دھوکہ دے اور یہ ظاہرکرے کہ وہ مذہبی آدمی ہے۔ وہ مذہبی استحصال کو اقتدار قائم کرنے اور مستحکم بنانے کا ایک طاقتوروسیلہ بتا تا ہے ۔ وہ سمجھتاہے کہ اس طرح لوگوں کو دھوکہ دے کر اقتدار کو مشکلات سے بچایا جا سکتا ہے اور فوج کے سپاہیوں کے عزم کو مذہبی حوالے سے مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ایک حکمران کو اپنے اندر شیر اور لومڑی کی خصوصیات یکجا کرنی چائیں کیونکہ شیر اپنے آپ کو کبھی پھندوں اور جالوں سے محفوظ رکھنے کا گُر نہیں جانتا جبکہ لومڑی اپنا تحفظ بھیڑیوں سے نہیں کرسکتی۔اس لئے ایک حکمران کے اندر لومڑی کی یہ خوبی ہونی چائیے کہ وہ پھندوں اور سازشوں کو بھانپ سکے اور دوسری خوبی حکمران میں شیر کی ہونی چائیے کہ وہ بھیڑیوں کو خوف زدہ کر سکے۔وہ حکمران جو اپنے آپ کو صرف شیر بنا تے ہیں محفوظ نہیں رہ سکتے اس لئے ان کیلئے لومڑی کی چالاکی اور فریب کاری بھی ضروری ہے۔اس لئے ایک بادشاہ کیلئے اس وقت صاحبِ ایمان ثابت ہونا ضروری نہیں کہ مذہب اور دینداری اسکے مفاد میں نہ جاتی ہو لیکن اگر دینداری اور ایمان کا ڈھونگ اس کے مفاد میں ہو تو اسے ظاہر کرنا چا ئیے کہ وہ بڑا دیندار ہے۔حکمران ایسا ہونا چائیے کہ لوگ اس سے محبت کریں اور خوف بھی کھائیں لیکن چونکہ ان دونوں کی یکجائی اکثرو بیشتر نا ممکن ہوتی ہے اس لئے بہتر ہے کہ لوگ اس سے خوف کھائیں۔ جب تک حکمران کا خوف عوام کے دلوں پر قائم رہتا ہے اس کا اختیار اور اقتدار بھی مستحکم رہتا ہے۔عوام اس خوف کی بدولت بڑی سے بڑی قربانی دے سکتے ہیں۔حکمران کو چائیے کہ وہ مذہب، انسانی وقار، ایمان، اعتقاد اور انسانیت کئے خلاف اپنی زبان سے کوئی لفظ نہ نکالے۔اسے یوں ظا ہر کرنا چائیے کہ وہ سراپا عفو و رحم ہے ۔ عفو و رحم کا پیکر دکھائی دینا بہت ضروری ہے۔عوام کی اکثریت صرف دیکھتی ہے ،صرف ظاہر تک ہی پہنچ سکتی ہے وہ چھو کر محسوس نہیں کر سکتی اس لئے ظاہر مکمل ہو نا چائیے۔عوام کی اکثریت حکمر انوں کو ان کے ظاہر کی وجہ سے اپناتی ہے بہت کم ہوں گے جو یہ جانتے ہوں گے کہ اصلیت کیا ہے۔۔
چند سطور کا مقصد حکمرا نوں اور ریاست کے اصلی عزائم کو ظا ہر کرتا ہے تا کہ یہ حقیقت روزِ8 روشن کی طرح عیاں ہو جائے کہ سیاست میں مفادات کا مقام کیا ہے اور ان مفادات کے حصول کو کیسے ممکن بنا یا جا سکتا ہے یہ کتاب آج سے چھ سو سال پہلے لکھی گئی تھی لیکن حیرت ہو تی ہے کہ جو کچھ آج کی سیاست کا چلن ہے یہ کتاب اس کا مکمل احا طہ کرتی ہے ۔ سیاستدانوں8 کے دعووں ان کے جھوٹ اور مکرو فریب کو جس طرح اس کتاب نے بے نقاب کیا ہے اسکی مثال اس سے پہلے کہیں نہیں ملتی۔مجھے تو ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے آج کے حکمرانوں اور سیاست دانوں کے کردارو افعال کو اس نے آج سے چھ سو سال پہلے جس خوبصورت انداز سے پینٹ کیا تھا آج کے حکمران ہو بہو اس کی تصویر ہیں۔آج اگر ہم گردو پیش کا جائزہ لیں تو ہمیں یہ سارے کردار جن جن خوبیوں سے مصنف نے مرصع کئے ہیں ہمارے سامنے ہمیں بالکل برہنہ نظر آتے ہیں لیکن پھر بھی ہمیں دھوکہ دینے سے باز نہیں آتے۔سچائی کا راگ پھر بھی ان کے زبان سے ایسے ہی سننے کو ملتا ہے جیسے اس دھرتی پر وہ سچ کی علامت ہیں لیکن سچ تو یہ ہے کہ انھیں سچ سے دور کا بھی وا سطہ نہیں ہوتا۔وہ اپنے مفادات کے اسیر ہوتے ہیں اور اس پر وہ کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہو تے۔
تخلیقِ پاکستان کے ابتدائی ایام میں امریکہ نے پاکستان کی امداد کا فیصلہ کیاتو اس کے سامنے اپنے مفادات تھے جن کا حصول اسے ہر حال میں بہت عزیز تھا۔پاکستان کو امداد کی ضرورت تھی اور امریکہ کو اپنے مفادات عزیز تھے۔ہمارے لئے ریاست کو چلانے اور بھارت جیسی مکار ریاست کی للچائی نظروں سے خود کو محفوظ رکھنے کیلئے امریکی د وستی ناگزیر تھی۔ ہمیں وہ اعانت اس وقت ملی جس وقت ہم انتہائی خستہ حالت میں تھے۔ا مریکہ اتنا بیوقوف ملک ہر گز نہیں تھا کہ وہ پاکستان کی امداد نیکی سمجھ کر کر رہا تھا۔اس کے اپنے مفادات تھے اور اس نے وہ مفادات حاصل کئے۔ امریکہ کے پالیسی ساز اداروں کو اس بات کا دراک تھا کہ دنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست کی سٹریٹیجک پوزیشن انتہائی اہم ہے اور آنے والے دنوں میں اس کی اس پوزیشن سے بے پناہ فوائد حاصل کئے جا سکتے ہیں اور جنوبی ایشیا میں اپنے مفادات کی بہتر انداز میں حفاظت بھی کی جا سکتی ہے۔ امریکہ نے پاکستان کو سیٹو اور سینٹو کا رکن بنایا اور پاکستان نے مشرقِِ وسطی میں امریکی افعال و کردار میں اس کا ساتھ دینے کا ایسا معاہدہ کیا جس نے اسلامی دنیا میں پاکستان کے تشخص کو مجروح کیا ۔ ستمبر ۱۹۵۶ ؁ میں انگلستان اور فرانس نے نہر سویز کے معاملے میں مصر پرچڑھائی کر دی اور مصری عوام اس جارحیت کے سامنے ڈٹ گئے تو مشکل کی اس گھڑی میں ہم سیٹو اور سینٹو کی وجہ سے مصری عوام کا ساتھ دینے کی بجائے امریکہ اور نیٹو کے ساتھ کھڑے تھے ۔امریکہ نے سیٹو اور سینٹو میں جن مفادات کیلئے پاکستان کو پھنسا یا تھا وہ اس نے حاصل کئے۔ ہم امریکہ کے حاشیہ بردار تھے، وہ ہمارا آقا تھا اور ہمیں اس کے اشاروں پر ناچنا تھا کیونکہ اس نے برے وقتوں میں ہماری مدد کی تھی اور بھارتی تسلط اور ریشہ دوانیوں سے بچانے میں ہمارا ساتھ دیا تھا لہذا ہم اسلامی جمہوریہ مصر کی مدد کرنے سے معذور تھے کیونکہ ہم باہمی مفادات کے پھندے میں جکڑے ہوئے تھے جس کاتقاضا تھا کہ ہم امریکی نقطہ نظر کی حمائت کریں اور ہم نے بالکل یہی کیا لیکن اس سے ہمیں جو نقصان اٹھانا پڑا اس کی تلافی کیسے ہوگی ؟note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button