پاکستانتازہ ترین

میرے خلاف تحریک عدم اعتماد آئین و قانون کےخلاف ہے ،سپیکربلوچستان اسمبلی

muhammad aslamکوئٹہ (بیورو رپورٹ)اسپیکر بلوچستان اسمبلی محمد اسلم بھوتانی نے اپنے خلاف پیش کی جانے والی تحریک عدم اعتماد کے طریقے کار کو آئین و قانون کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر میرے دوست تحریک عدم اعتماد پیش کرنے سے پہلے مجھ سے رابطہ کرتے تو میں انہیں درست راستہ بتاتا، پیار محبت میں عہدہ چھوڑنا تو دور کی بات گردن بھی مانگتے تو پیش کر دیتا، مگر کوئی آنکھیں لال کر کے بات کرے تو پھر مقابلہ کیا جاتا ہے۔ یہ بات انہوں نے پیر کو اپنے چیمبر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی انہوں نے کہا کہ وہ 26 دسمبر کے اجلاس میں نہ تو شریک ہونگے اور نہ ہی وہ اجلا س کو آئینی سمجھتے ہیں میرے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے والے دوستوں نے جلد بازی میں بہت سے آئینی و قانونی غلطیاں کیں مجھ سے رابطہ کرتے تو میں انہیں درست راستہ بتاتا میں اپنے اصل موقف پر بدستور قائم ہوں اور اتنا کمزور نہیں کہ عہدہ بچانے کے لئے اپنے موقف سے دستبر دار ہو جاؤں دن میں پانچ وقت اس لئے نماز پڑھتا ہوں کہ جو سر اللہ کے سامنے جھکتا ہے وہ کسی اور کے سامنے نہ جھکے میں اسپیکر کے عہدے پر رہوں یا نہ رہوں مگر اپنے موقف کی قربانی کبھی نہیں دونگا یہ ارکان اسمبلی کا حق ہے کہ وہ کسی کو اسپیکر منتخب کریں یا اسے ہٹا دیں مگر میرے خلاف جو تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی اس میں آئینی و قانونی سقم موجود ہیں اگر 26 دسمبر کے اجلاس میں ان آئینی و قانونی سقم کو دور کئے بغیر عدم اعتماد کی تحریک پیش کی گئی تو میں یا کوئی بھی عدالت میں چلا گیا تو عدالت سے یہ کالعدم ہو جائے گا میرے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے سے قبل تحریک پیش کرنے والے دوست اسمبلی رولز اور آئین کا مطالعہ کرتے تو بہت سی چیزیں ان کے علم میں آ جاتیں میں اب بھی کہتا ہوں کہ میرے خلاف تحریک عدم اعتماد لانا ارکان کا حق ہے تاہم اس میں جلد بازی نہ کریں مجھے دو دن بعد ہٹائیں لیکن اس کے لئے درست طریقہ اختیار کیا جائے میرے خلاف وزیر اعلیٰ یا ان کے دوستوں کی طرف سے جو عدم اعتماد کی تحریک آئی ہے وہ ایک وزیر کی جانب سے پیش کی گئی ہے اسمبلی رولز میں وزیراور ممبر کی تعریف واضح طور پر موجود ہے جس میں یہ بات واضح ہے کہ وزیر اعلیٰ اسپیکر ڈپٹی اسپیکر یا وزیر یہ ممبر نہیں اور اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد ممبران کی جانب سے آنی چائیے مگر یہاں میرے خلاف عدم اعتماد کی تحریک ایک وزیر کی طرف سے آئی ہے مگر دوسری بات یہ ہے کہ تحریک عدم اعتماد پیش اور ووٹنگ کے درمیان سات دن کا وقفہ ہونا چائیے اس دوران ارکان اسمبلی کو سیکرٹری اسمبلی کی جانب سے عدم اعتماد کی تحریک کے حوالے سے نوٹسز ان کے ایڈریسز پر ڈسپیچ کئے جائیں جو اب تک نہیں ہوئے جس روز عدم اعتماد کی تحریک پیش ہوئی اس اجلاس میں 32 ارکان نے شرکت کی جبکہ میرے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پر 22 ارکان کے دستخط موجود ہیں یوں نصف سے زیادہ ارکان کو عدم اعتماد کی تحریک کے بارے میں کچھ علم نہیں انہوں نے کہا کہ موجودہ اجلاس وزیر اعلیٰ کی مشاورت سے گورنر نے آرٹیکل 109 کے تحت بلایا ہے جبکہ بلوچستان حکومت کے حوالے سے سپریم کورٹ کا عبوری فیصلہ آ چکا ہے جس میں کورٹ نے بلوچستان حکومت کی آئینی حیثیت پر سوال اٹھایا ہے اور واضح طور پر کہا ہے کہ حکومت آئینی اختیار کھو چکی ہے لہذا میرے لئے یہ بات ممکن نہیں کہ سپریم کورٹ کی جانب سے صوبائی حکومت کی حیثیت کا تعین ہونے تک ایسے کسی اجلاس کی صدارت کروں جس اجلاس کی میں صدارت نہیں کر رہا اس اجلاس میں شریک ہو کر اپنے اوپر لگائے جانے والے الزامات کی وضاحت یا اپنا موقف بیان کرنا میرے لئے ممکن نہیں کیونکہ جو اجلاس آئینی کے آرٹیکل109 کے تحت بلایا گیا ہے اس میں عدم اعتماد کی تحریک پیش نہیں کی جا سکتی اس کے لئے ارکان کی جانب سے سیکرٹری اسمبلی کو آئین کے آرٹیکل53 (7)سی کے تحت نوٹس دیا جائے یا پھر آرٹیکل 54 سی کے تحت ا سپیکر کی جانب سے اجلاس بلایا جائے ا سپیکر نے کہا کہ اگر میرے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی جاتی ہے تو میں نہ تو عہدہ بچانے کے لئے اپنے موقف کی قربانی دونگا اور نہ ہی عدالت سے اپنا عہدہ بچانے کے لئے رجوع کرونگا مگر غلط طریقے کار کے خلاف عدالت سے رجوع کر سکتا ہوں تاکہ مستقبل میں اس غلط طریقے کار کو استعمال کر کے کسی اور کے خلاف تحریک نہ لائی جائے انہوں نے کہا کہ اسمبلی کی لیجسلیشن برانچ نے ڈپٹی اسپیکر کو مراسلہ بھی بھیجا ہے کہ اسپیکر کے خلاف 26 دسمبر کو لائی جانے والی تحریک عدم اعتماد میں قانونی اور آئینی سقم ہیں انہیں دور کیا جائے اس کے لئے ضروری ہے کہ ارکان کو اسمبلی کے رولز کے تحت عدم اعتماد کی تحریک کے حوالے سے نوٹس بھیجے جائیں اور یہ کام سیکرٹری اسمبلی کرتے ہیں مگر ڈپٹی اسپیکر نے اپنی رولنگ کے ذریعے سیکرٹری اسمبلی کو اجلاس کی کاروائی سے لاتعلق قرار دیا ہے جس کے بعد نوٹسز بھی نہیں بھیجے جا سکے ہیں انہوں نے کہا کہ ملک سلامت رہے یہ ہماری اولین خواہش ہے عہدے آنے جانے کی چیز ہے نہ پہلے عہدوں کے پیچھے بھاگے اور نہ ہی اب ان کے جانے کے ڈر سے موقف سے پیچھے ہٹیں گے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کا تقرر آئین اور قانون کے مطابق عمل میں لایا گیا ہے بعض حلقوں کی جانب سے الزامات بے بنیاد ہیں میں نے عدم اعتماد کی تحریک پیش ہونے سے قبل اپوزیشن لیڈر کے تقرر کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا تھا اس دوران میں ملک سے باہر کہیں نہیں گیا یہ کمپیوٹر کا دور ہے کہیں سے بھی معلوم کیا جا سکتا ہے کہ میں ملک میں ت
ھا یا نہیں پھر سب سے اہم بات ملک سے باہر جانے کے لئے مجھے گورنر سے اجازت لینی پڑتی ہے ان سے پوچھا جائے کیا میں ملک سے باہر گیا تھا اور اگر اسپیکر ملک سے باہر چلا جائے تو آٗینی طور پر ڈپٹی اسپیکر کو قائمقام اسپیکر مقرر کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا جاتا ہے جبکہ اس دوران ایسا کوئی نوٹیفیکیشن بھی جاری نہیں ہوا انہوں نے کہا کہ میں ان تمام ارکان اسمبلی کا شکر گزار ہوں کہ جنہوں نے میرے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پر دستخط نہیں کئے میں ان تمام سیاسی جماعتوں کا بھی شکر گزار ہوں جنہوں نے میرے موقف کو درست قرار دیتے ہوئے میرے حق میں بیانات دئیے جن دوستوں نے دستخط کئے ہیں ان کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں کیونکہ ان میں سے بعض کے ساتھ 5 اور بعض کے ساتھ10 سال سے زائد کام کرتا چلا آ رہا ہوں ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر میرے دوست تحریک عدم اعتماد پیش کرنے سے پہلے مجھ سے رابطہ کرتے تو میں انہیں درست راستہ بتاتا پیار محبت میں عہدہ چھوڑنا تو دور کی بات گردن بھی مانگتے تو پیش کر دیتا مگر کوئی آنکھیں لال کر کے بات کرے تو پھر مقابلہ کیا جاتا ہے

یہ بھی پڑھیں  کراچی : صدرموبائل مارکیٹ میں پولیس اور دکانداروں کے درمیان تصادم

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker