تازہ ترینکالمنعیم خاں اتمانی

ماہ شعبان کی فضیلت

شعبان اسلامی کلینڈر کا آٹھواں مہینہ ہے۔ اسے شعبان المعظم بھی کہا جاتا ہے۔شعبان کی پانچ تاریخ کو نواسہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسین ابن علی رضی اللہ عنہما کی ولادت ہوئی۔ جبکہ بیت المقدس سے بیت اللہ کی جانب تحویل قبلہ کا حکم بھی اسی ماہ کی سولہ تاریخ کو دیا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ شدید خواہش تھی کہ مسلمان بیت المقدس کے بجائے بیت اللہ کی جانب رُخ کر کے نماز پڑھیں جس کو سورۃ البقرہ میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ ماہ شعبان ایک متبرک مہینہ ہے اور اس میں مسلمان نفلی روزے رکھتے ہیں۔ شعبان کے مہینہ میں زیادہ سے زیادہ روزے رکھنے مستحب ہیں۔عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جتنے روزے شعبان میں رکھتے تھے اتنے رمضان کے علاوہ اور کسی ماہ میں نہیں رکھتے تھے۔ اور یوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پورا مہینہ اس طرح گزر جاتا تھا کہ ماسوا چند دن کے آپ پورے مہینے کے روزے رکھتے تھے۔پندرہ شعبان کو برصغیر پاک و ہند سمیت بعض دیگر ممالک میں بھی شب برأت منائی جاتی ہے۔ عوام الناس شب برأت کے موقع پر نفلی عبادات کا اہتمام کرتے ہیںشب برأت کا معنی آزادی کی رات ہے اور اس نام سے گناہوں سے آزادی کو تعبیر کیا جاتا ہے۔ بعض مفسرین نے شعبان کی 15ویں کے بہت سے فضائل بیان کیے ہیں اور سورۃ الدخان کے آیت جس میں اللہ تعالیٰ نے مبارک رات کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس رات مین تمام کاموں کے طے پانے کا تذکرہ کیا ہے جبکہ امام شوکانی و بعض دیگر مفسرین اس سے مراد لیلۃ القدر کو لیتے ہیں اور رمضان اور نزول قرآن کی رات ہونے کی دلیل پیش کرتے ہوئے یہ مفسرین اور علمائ بیان فرماتے ہیں کہ رب کی جانب سے مغفرت و بخشش کا تذکرہ لیلۃ القدر کے لیے کیا گیا ہے اور حقیقت میں شب برأت لیلۃ القدرہی ہے۔ شعبان کی 15ویں کو لوگ بڑی مقدار میں حلوہ پکا کرکھاتے بھی ہیں اور تقسیم بھی کیا جاتا ہے۔ بعض لوگ اپنی کم علمی کی بنا پر حلوہ پکانے کو سنت تصور کرتے ہیںکیوں کہ ان کے خیال میں پندرہ شعبان کی رات حضرت حمزہ شہید اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دندان مبارک شہید ہوئے ھتے تو آپ نے حلوہ تناول فرمایا تھا۔ ایسا تصور کرنا صحیح نہیں کیوں کہ غزوہ احد بالاتفاق شوال کے مہینے میں ہوا تھا جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دندان مبارک شہید ہوئے تھے۔ اس نظریے کے تحت حلوہ پکانا یا کھانا صحیح نہیں ، البتہ یہ سمجھ کر حلوہ اور مطلقاً میٹھا کھانے یہ پکانے میں کوئی حرج نہیں کہ میٹھی چیزیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو محبوب تھیں۔ شب برأت میں عبادت کے علاوہ بعض لوگ نمود و نمائش کے لیے آتش باز ی اور چراغاں کرتے ہیں جو سراسر غیر اسلامی اور اسراف پر مبنی ہے۔ آتش بازی کے نقصانات یہ ہیں کہ ایک تو اس سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیلتا ہے۔ لوگوں کی عبادات میں خلل آتا ہے۔ خدانخواستہ کوئی بھی جانی یا مالی نقصان کا اندیشہ رہتا ہے۔ لہٰذا ہمیں ایسے کاموں سے بچنا چاہیے جو فائدے کے بجائے کسی بھی قسم کے نقصان کا باعث بنیں۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker