امتیاز علی شاکرتازہ ترینکالم

مجھے پاکستانی ہونے پر فخر ہے

مجھے اپنے پاکستانی ہونے پر فخر ہے کیونکہ پاکستان میری پہچان اورجان ہے اورآج میں وطن عزیز کی 65ویںسالگرہ کے موقع پر تمام پاکستانیوں کو دل کی گہرائیوںسے مبارک بادپیش کرتا ہوں اور جدجہد آزادی میں حصہ لینے والے تمام مسلمانوں کو سلام پیش کرتا ہوں جن کی قربانیوں نے مجھے آزا دوطن دیا ۔مجھے پاکستانی ہونے پر فخر ہے لیکن دل جل رہا اور اندر کا زہر قلم سے اُبل رہا ہے ۔کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ’’اے ضبطِ جنوں اب تو کھلا جاتا ہے راز،کہ سانس لینے سے جگر جلنے کی بو آتی ہے‘‘ قارائین محترم آزادی ہر جاندار کا قدرتی حق ہے ۔ایسا نہیں ہوسکتا کہ قیدی آزاد ہونے کی کوشش اور تمنا نہ کرے ۔کتنی درد ناک حقیقت ہے کہ جانور دوسرے جانور کو پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے شکار تو کرتے ہیں لیکن قید نہیں کرتے لیکن انسان جوکہ اشرفالمخلوقات بھی ہے نہ صرف جانوروں بلکہ انسانوں کو بھی قید کرتا ہے ۔جانوروں کی طرح انسان ،انسان کو بھی اپنا غلام بناتا ہے ۔ماضی میں جسے ہم دور جہالت کہتے ہیں غریب انسانوں کی بطور غلام خریدوفروخت ہوا کرتی تھی اور غلاموں کی بازاروں میں بولیاں لگا کرتی تھی آج دور جدیدجسے ہم ترقی یافتہ دور کہتے ہیں میں بھی غریب انسان کی ایک غلام سے زیادہ حیثیت نہیں ہے۔ فرق اتنا پڑا کہ پہلے غلاموں کی خریدوفروخت ہوا کرتی تھی اور اب غریب انسان امیروں کو خریدنے کے لیے لمبی لمبی قطاروں میںلگے نظر آتے ہیں ۔آپ سمجھ تو گئے ہوں گے کہ میں کیا کہنا چاہتا ہوں جی ہاں غریب آدمی کاکوئی بھی کام بغیر سفارش اور رشوت نہیں ہوتا ۔ یہی وہ کلچر تھا جس میں عدل وانصاف نام کی کوئی چیزنہ تھی ۔برصغیر کے مسلمانوں نے اسی کلچر کے خلاف علم بغاوت بلند کیا تھا جسے ہم تحریک آزادی پاکستان کہتے ہیں ۔جس کے نتیجہ میں 14اگست 1947کو پاکستان ایک آزاد ریاست کی حیثیت سے دنیا کے نقشے میں شامل ہوا ۔جو آج دنیا میں میری پہچان ہے ۔مجھے فخر ہے کہ میں پاکستانی ہوں ۔لیکن دل کہتا ہے مزا تو تب آئے جب پاکستان میرے پاکستانی ہونے پر فخر محسوس کرے ۔مطلب یہ کہ پاکستان نے تو مجھے بہت کچھ دیا لیکن میں آج تک با حیثیت قوم پاکستان کو کچھ نہیں دے سکا ۔ 14اگست 1947ئ کے دن پاکستان آزادہوا یہ تو ہم سب جانتے ہیں۔ہر سال 14اگست کا دن ہم جشن آزادی کے طور پربڑی دھوم دھام سے مناتے ہیں۔اور منانا بھی چاہیے ۔ آئیے آج ہم تحریک آزادی پر ایک نظر ڈالیں۔ قارائین محترم یہ تحریک عظیم قربانیوں کی منہ بولتی زندہ مثال ہے جسے دنیا کی کوئی طاقت جھٹلا نہیں سکتی۔ آزادی پاکستان کی تحریک جب زوروں پرتھی اس وقت ہندئوں اور انگریزوں کے ظلم و ستم عروج پر تھے ۔اس وقت مسلمانان ہند قربانیوں پر قربانیاں دے کر حصول وطن اور آزادی کے لیے ظلم وستم سہنے ،قیدبند کی صعوبتیں برداشت کرنے،جان و مال ،عزت و آبروکو آزادی وطن پر نچھاور کرنے کی سنہری تاریخ رقم کرنے میں مصروف تھے ۔تحریک آزادی پاکستان کاہردن اورہر لمحہ ان غریب مسلمانوں کی عظیم قربانیوں سے عبارت ہے اس میں اگر غریب مسلمانوں کے مقابلے میں وڈیروں اور جاگیرداروں کی خدمت کاموازنہ کیا جاے تویہ آٹے میں نمک کے برابرہونگی ۔تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ جس وقت آزادی پاکستان کا وقت قریب ہواتواس وقت بہت سے وڈیرے اور جاگیردار غلامی کی زنجیر پرآخری ضرب لگانے کے لیے غریب مسلمانوں کے ساتھ نہ تھے بلکہ جائیدادوں ۔زمینوں اور فیکٹریوں کے کاغذات کی جعلی اور اصلی کلمیوں کی کاپیاں اکھٹا کرنے میں مصروف ہوگئے تھے ۔بد قسمتی سے وہی لوگ پاکستان پر پہلے دن سے قابض ہیں۔جنہوںنے شروع دن سے پاکستان کے وجود کو نوچنا شروع کردیا تھا۔آج صورت حال یہ ہے ملک میں امن وامان کا کہیں وجودنہیں ۔﴿اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ میرے پیارے پاکستان میں اسلامی عدل وانصاف کی حکمرانی قائم ہوجاے اور میں دل کھول کر آزادی کا جشن منا سکوں﴾ کراچی اور بلوچستان کے حالات کھلی کتاب کی طرح سب کے سامنے ہیں ۔ہرروز درجنوں انسان قتل کردئیے جاتے ہیں ۔جن میں زیادہ تعداد محب وطن غریبوں کی ہوتی ہے ۔اب سوچنا یہ ہے کہ کیا ہم کراچی ، بلوچستان اور برما میں ہورہی قتل وغارت میں پسی ہوئی زندگی کو لے کر آزادی کا جشن منا سکتے ہیں؟ْْ۔کیا ہمیں اپنے پیارے وطن میں صرف چند لوگوں کی حسین خواہشات کے بدلے باقی ماندہ سسک سسک کر مرنے والے عام لوگوں کی لاشوں پر کھڑے ہوکر آزادی کا جشن منا نے کا حق ہے؟؟کیا ہم اس قدر بے حس ہوچکے ہیں ۔کہ ہمیں یہ احساس تک ہی نہیں رہا کہ ایک طرف خون کی ندیاں بہائی جا رہی ہیں صرف اپنے مفادات کی خاطر اور دوسری طرف عوام مہنگائی اور بے روزگاری کی دلدل میں مسلسل گھری جارہی ہے۔مجھے نہیں لگتا کہ ہمیں اپنے ہم وطنوں کی لاشوں پر آزادی کا جشن منا نا چاہیئے ۔لیکن پھر بھی اگر ہم بضد ہیں کہ ہم نے جشن آزادی منا نا ہے تو ہمیں اس وقت جشن آزادی حقیقی طور پر منانے کا حق ہے جب ہم ان بے حس حکمرانوں سے خود کو اور اپنے وطنوں کو بچا لیں تبھی ہم اس آزادی کو منانے کا حق رکھتے ہیں۔میں اکثرسوچنے پر مجبور ہوجاتا ہوں کہ شائد ہمارے اعمال ہی ایسے ہیں کہ جن کی وجہ سے ہم پر اس قدر بے حس حکمران مسلط ہوئے ہیں۔جن کو سوائے کرپشن اور مہنگائی،قتل وغارت گری اوردیگر عیاشیوں کے علاوہ اور کوئی بھی ایسا کام کرنا ہی نہیں آتا کہ ان کو ووٹ دینے والی عوام کو بھی سکھ کا سانس مل سکے۔اور میں اور میرے ہم وطن بڑی سادگی سے ان کے جھوٹے وعدوں اور کھوکھلے نعر
وں میںآ جاتے ہیں ۔کوئی ہم سے روٹی،کپڑا۔ اور مکان دینے کا خدائی وعدہ کرتا ہے۔تو کوئی قرض اتارو مہم چلا کر عوام کو فریب دیتا ہے۔اور کوئی ہسپتال کے نام اکھٹی ہونے والی زکواۃ وصدقات کی رقم سٹے میں ہار جاتا ہے ۔عوام ہر بار جذباتی ہو کر ان کا اعتبار کر لیتے ہیںہمیں ہر بار لگتا کہ اب یہ سچ بول رہے ہیں لیکن شایدہمارے حکمرانوں کو تو سچ بولنا آتا ہی نہیں۔وہ تو ہمیشہ سے جھوٹے وعدوں کے بل بوتے پر قوم کے جذبات سے کھیلتے آئے ہیں اور شاید سدا کھیلتے ہی رہیں گے۔ میںعام عوام ہوں پاکستان کی20کروڑ عوام اور مجھے کبھی بھی میرے حکمرانوں نے سچ نہیں بتایا کیونکہ عوام جذباتی ہے ۔ہاں میں جذباتی ہوں۔ جذباتی ہونا کوئی گناہ نہیں اگر کسی کونقصان نا پہنچے ۔ میرے جذبات آج میرے ضمیر کو جنجھوڑ ،جنجھوڑ کر یہ کہ رہے ہیں ،نہیں چاہیے مجھے کسی بھی غیراللہ کی مدد۔ میں ملک حُداد جو اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیاکی با شعور عوام ہوں ۔مجھے صرف اس خدا کی مدد چاہیے جو میرا خالق بھی ہے، رازق بھی اور مالک بھی ہے۔جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔میرے اللہ کی مدد سے ہی مجھے پاک دھرتی ملی ۔ہاں میں عوام ہوں ۔کون تھا جس نے جدوجہد آزادی پاکستا ن کے وقت میری مدد فرمائی جب نہ تو مسلمانوں کے پاس کوئی فوج تھی نہ ہی مزائل تھے اور نہ ایٹم بم تھا ۔ہاں ایک سچا جذبہ تھا ایمان کا جس کی بنیاد ،اور اللہ تعالیٰ کی مدد سے مسلمانوں نے دنیا کو ثابت کردیاکہ ہم حق پر ہیں اور کوئی ہمیں خرید نہیں سکتا۔حتی ٰکے انگریز خود یہ بات کہنے پر مجبور ہو گیا کہ محمد علی جناح کو خریدا نہیں جا سکتا۔ محمد علی جناح اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ ایک سچے رہنما تھے لیکن اکیلے نہیں ان کے پیچھے کروڑوں مسلما ن جذبہ ایمان لیے سیسہ پلائی دیوار بنے کھڑے تھے اور تب محمد علی جناح کسی ایک شخص کا نام نہ تھا بلکہ پوری قوم تھی ۔مگر آج ہمارے حکمران خود بھی بِک گئے اور قوم کے ان بچوں تک کو بھی بیچ دیا ہے ۔جو ابھی پیدا ہی نہیں ہوئے۔اس کے باوجود بھی دل نہیں بھرا ۔جب عوام کا لہو اپنی ہی دھرتی پر بہہ رہا ہواور حکمران جھوٹ پہ جھوٹ بولیں اور اپنا ایمان کھو دیں اوراللہ تعالیٰ سے مدد مانگنے کی بجائے غیر اللہ سے مدد مانگیں توایسے میں۔میں کہاںہوں ۔میں عوام ہوں پاکستانی عوام ،مجھے اپنے گریبان میں بھی جانکنا ہوگا ۔آج کوئی دن رات خالی نہیں جاتے کہ جب پاک دھرتی لہولہان نہیں ہوتی۔پاکستان کا ذرہ ذرہ میراوجودہے ۔ اگر جسم کے کسی بھی حصے میں تکلیف ہوتو پورا جسم اس درد اور تکلیف سے بے چین وبے قرار ہو جاتا ہے آج بلوچستان اور کراچی سمیت پورے ملک میںجو ہورہاہے کیا یہی مقصد تھا آزادی حاصل کرنے کا؟؟آج آزادی پاکستا ن کاخواب شرمندہ تعبیر ہوے 67برس ہوچکے ہیں لیکن میری حالت میں بہتری نہیں آئی آزادہونے سے پہلے بھی میراوجود زخموں سے چو ر چورتھا اورآج بھی اپنے ہی لہو میں نہا رہا ہے مگراس اذیت کے عالم میںمیں چیخ چیخ کر مد د کے لیے پکا ر رہا ہو ںتو میری پکار بے سو د ہے۔ کیونکہ میرا ایمان بھی کمزور ہوچکا ہے آج مجھے اللہ اور اللہ کے بعد اپنے20کروڑ ہم وطنوں کوپکارنا چاہیے تھا۔لیکن میں نے مد د ان حکمرانوں سے مانگی جو خود غیر اللہ سے مد د مانگتے پھرتے ہیں جب میں نے اپنے گریبا ن میں جھانکا تو میں نے خود کو غلط پایا میرا بھرو سہ تو خدا پر ہونا چاہیے تھا پھرکیوں نظر کسی اور پر لگی ہے میرا دل اپنے ہر مسلمان بھائی کے جان و مال کے ضیا ع پر خون کے آنسو روتا ہے پھر کیوں میںخامو ش تما شائی بن کر رہ گیا ہوں۔ آج مجھے اس پاک دھرتی پر ناپاک وجود کے سا ئے لہراتے ہوئے نظر آرہے ہیں پھر بھی میں چپ ہو ں۔مجھے کس بات کاڈر ہے ۔ جب کے اصل طاقت کا سرچشمہ تو میں ہوں۔میں عوام ہوں پاکستان کی 20 کروڑ عوام۔اگر عوام ہی نہ رہی تو پھر کس پہ حکومت کریں گے اورکس کے سادہ جذبوں سے کھیلیں گے حکمران ؟۔ ہاں میں جذباتی ہوں لیکن انتشار پسند نہیں۔ میںاس پاک سر زمین کی عوام ہوں اورمجھے نظر آ رہا ہے کہ مجھ پر محض جذباتی ہونے کی مہر لگا کر مجھ کوآج تک ملکی معاملات سے دور رکھا گیا ہے اور اس قدر دور رکھا گیا کہ آج عوام اور حکومت کے درمیان بہت بڑا خلا پیدا ہو چکاجو کسی صورت پورا ہوتا نظر نہیں آتا ۔حکمران قوم کو کسی صورت سچ بات بتانے کو تیارنہیں وہ۔کہتے کچھ اور کرتے کچھ ہیں ۔ چاہے ملک کا کو ئی بھی معاملہ ہو حکمرانوں کے قول و فعل میں تعضاد ہی نظر آتا ہے جب اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا۔لوگو!وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرنی نہیں ہوتی۔ تو پھرایک مسلم ریاست کے مسلم حکمراںاسلامی تعلیمات سے بہرہ ور کیوں نہیں ہیں بے شک قرآن کریم جو پوری انسانیت کے لیے سر چشمہ ہدایت ورہنمائی ہے، دنیا کے کسی بھی کونے بسنے والے کسی بھی مسلمان کو اس حقیقت سے انکار نہیں کے قرآن کریم کائنات کے لیے ایسا واحد ضابطہ حیات ہے جس میں کوئی تضاد نہیں،جس نے یہ واضع کر دیا کے اللہ کے نزدیک کسی گورے کو کالے ،یا کسی کالے کو گورے پر، کسی عربی کو عجمی پریا کسی عجمی کو عربی پر،کسی امیر کو کسی غریب پر یا کسی غریب کو کسی امیر پرکسی قسم کی کوئی فوقیت حاصل نہیں سوا ئے تقوہ کے اگر ہمارا ایمان قرآن پر ہے تو پھر ہم کیوں پنجابی ، سندھی ، بلوچی ،اور پختون ہونے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اللہ کے نزدیک تو وہ انسان بہتر ہے جس کے خلاق اچھے ہوں ،جس کے قول و فعل سے کسی دوسرے کو تکلیف نہ پہنچے، تو پھر ہم جو کہتے ہیں وہ کیوں نہیں کرتے اور جو کرتے ہیں وہ کیوں نہیں کہتے ہمارے کرنے اور کہنے میں یکسانیت کیوں نہیں ۔ میرے ہم وطنوں اگر ہمیں حقیقی آزادی کا جشن منانا ہے تو پہلے پاکستانی بن

یہ بھی پڑھیں  ووٹ بمقابلہ سم

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker