پروفیسر رفعت مظہرتازہ ترینکالم

ملک میں ہر جگہ خیریت ہی خیریت ہے

پچھلے ماہ گھریلو امور میں ایسے الجھی کہ الجھتی چلی گئی اور کاغذ قلم سے ناطہ ہی ٹوٹ گیا ۔جب الجھاؤ میں سلجھاؤ کے کچھ آثار نظر آنے لگے تو میں نے اپنی پرانی ڈگر پہ واپس آنے کی ٹھانی ، لیکن یقین مانیے کہ روٹھا ہوا قلم میرے اور کاغذ کے درمیان سدِ سکندری بن کے کھڑا ہو گیا۔وہ الفاظ جو کبھی باندیاں بن کر ہاتھ باندھے کھڑے رہتے تھے ایسے طوطا چشم نکلے کہ ہمارے ڈال ڈال پھُدکنے والے یہ ’’پنچھی‘‘ سیاست دان بھی اُن کا پانی بھرتے نظر آئے۔میں گھنٹوں بلکہ پہروں قلم ہاتھ میں تھامے ایک ، محض ایک جملے کی تخلیق کوترستی رہی لیکن عبث ، سب بیکار۔تب مجھے زندگی میں پہلی بار یہ ادراک ہوا کہ نثر بھی نظم کی طرح ’’آمد‘‘ کی محتاج ہے ۔ہر ، کہ ومہ کے اندر جذبات ، احساسات ، تصورات اور تخیلات کا طوفان موجزن ہوتا ہے جو ، جب اپنی حدوں سے باہر نکلتا ہے تو آنکھوں کے راستے بہہ نکلتا ہے اور اظہار کا آسان ترین ذریعہ بھی یہی ہے جس میں ’’ہینگ لگے نہ پھٹکڑی اور رنگ بھی چوکھا ہو‘‘ کے مصداق
کچھ بھی نہ کہا اور کہہ بھی گئے
زبان اظہار کا دوسرا ذریعہ ہے جس میں بھلے شستگی اور شائستگی نہ ہو ، زبان پہ لکنت طاری ہو لیکن پھر بھی اپنے جذبات دوسروں تک پہنچا ہی لیتی ہے لیکن مشکل ترین کام اپنے احساسات کو مربوط کرکے احاطۂ تحریر میں لانا ہے ، جہاں ہر ہر لفظ کو قلم سنبھال سنبھال کے لکھنا پڑتا ہے ۔ایسا ’’آمد‘‘ کے بغیر ممکن نہیں کہ’’آورد‘‘ میں بھیگی روکھی پھیکی تحریروں کا کوئی خریدار نہیں ہوتا ۔
غالب نے تو کہا تھا کہ
پاتے نہیں جب راہ تو چڑھ جاتے ہیں نالے
رُکتی ہے میری طبع ، تو ہوتی ہے رواں اور
لیکن غالب تو بس ایک ہی تھا ، ہم جیسے عامیوں کو تو اپنی ’’رُکتی طبع‘‘ کی روانی کے لیے سو ، سو جتن کرنے پڑتے ہیں تب کہیں جا کر کاغذ قلم سے رشتہ استوار ہوتا ہے ۔ میں نے بھی سو پاپڑ بیلنے کے بعد یہ رشتہ اُستوار کرنے کی کوشش کی ہے اس لیے ڈیڑھ ماہ بعد ایک دفعہ پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔معزز قارئین ! السّلامُ علیکُم کے بعد عرض ہے کہ ملک میں ہر جگہ خیریت ہی خیریت ہے اور جو یہ کہتا ہے کہ خیریت نہیں ہے ، وہ جھوٹ بولتا ہے ، بکواس کرتا ہے۔ایسے قنوطی اور مردم بیزار لوگوں کو کان سے پکڑ کر ایوانِ صدر اور وزیرِ اعظم ہاؤس لے جانا چاہیے جہاں راوی عیش ہی عیش اور کیش ہی کیش لکھتے لکھتے تھک بلکہ ’’ ہپھ‘‘ چُکا ہے ۔اُنہیں ’’جاتی عمرہ‘‘ کا نظارہ کروانا چاہیے جہاں ہر وقت مور ناچتے ، کوئلیں کوکتی اور پپیہے ’’ پی کہاں‘‘ کی رٹ لگاتے رہتے ہیں۔اُنہیں ساڑھے تین سو کنال پر مشتمل اُس محل کی سیر کروانی چاہیے جہاں ایک ’’ انقلابی‘‘ ہر وقت غریبوں کی حا لتِ زار پر نوحہ خوانی کرتا رہتا ہے۔سُنا ہے کہ اب اُس انقلابی کا یہ دعویٰ ہے کہ
گئے دن کہ تنہا تھا میں انجمن میں
یہاں اب مرے رازداں اور بھی ہیں
اُس کا یہ دعویٰ بجا لیکن ضرب المثل ہے کہ ’’کبوتر با کبوتر باز با باز ، کند ہم جنس باہم جنس پرواز‘‘اور
میرے آقاؐ نے تو چودہ صدیاں پہلے فرما دیا تھا کہ آدمی اپنے دوست کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے ۔ تم میں سے ہر کوئی دیکھ لے کہ کون کس سے دوستی رکھتا ہے۔شنید ہے کہ اُس انقلابی نے بھی اپنے جیسے ہی محلوں اور ہوائی جہازووں کے مالک چُن لیے ہیں اور اب سبھی مِل کر آہ و زاریاں کر رہے ہیں۔
بات اُن نا ہنجاروں کی ہو رہی تھی جو غربت کا رونا روتے رہتے ہیں ۔اُنہیں وزیروں ، مشیرں کے محلات اور بیوروکریٹس کی کوٹھیوں میں لے جائیے جو ’’بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست‘‘ کی جیتی جاگتی تصویریں ہیں۔اگر پھر بھی اُن کے دماغ کا خنّاس انہیں کچوکے لگانے سے باز نہ آئے تو اُنہیں مکافاتِ عمل سے بے نیاز اُن ریٹائرڈ جرنیلوں سے ملوا لائیے جو آج بھی ’’بلڈی سویلین‘‘کو حقارت سے ’’شٹ اپ یو ایڈیٹ‘‘ کہنا اپنا فرضِ عین سمجھتے ہیں۔
سُنا ہے کہ پاکستان میں غربت بہت ہے لیکن مجھے تو وہ کہیں نظر نہیں آتی۔آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے ، وہ تو یہ ہے کہ پیدل چلنے والے آدھا آدھا گھنٹہ سڑک پار نہیں کر سکتے ، بازاروں میں رش کا یہ عالم ہے کہ کھوے سے کھوا چھلتا ہے ، بڑے بڑے سٹوروں پرقطاروں میں لگ کر سامان لینا پڑتا ہے اور پٹرول پمپوں ، سی این جی سٹیشنوں پر گاڑیوں کی میلوں لمبی قطاریں نظر آتی ہیں ۔ پھر بھی یہ رونا کہ پاکستان غریب ملک ہے ؟۔اگر اِن بزرجمہروں کے نزدیک جھونپڑیوں میں رہنے ، فُٹ پاتھوں پر سونے اور کھیتوں کی مٹی میں مِل کر مٹی ہو جانے والوں کی وجہ سے ملک میں ہر جگہ خیریت نہیں ہے تو میں اسے تسلیم نہیں کرتی کیونکہ گدھوں ، گھوڑوں اور بیلوں کے ذمہ جو کام ہوتا ہے ، وہی کرتے ہیں ۔ڈھور ڈنگروں کو کوئی محلوں میں سجا کر نہیں رکھتاَ ۔دیکھنا یہ ہے کہ پینسٹھ سالوں سے جِن لوگوں کی ملکیت یہ ملک چلا آرہا ہے وہ پہلے سے غریب ہوئے یا امیر ؟۔بلا خوفِ تردید یہ کہا جا سکتا ہے کہ اُن کی امارت کو چار چاند لگ گئے ہیں اور حالت یہ ہے کہ ملکی بینک اُن کی دولت کا بوجھ اٹھانے سے قاصر ہیں اسی لیے تو اب وہ اپنی دولت غیر ملکی بینکوں میں محفوظ کرتے جا رہے ہیں۔
آفرین ہے اِن گدھوں ، گھوڑوں اوربیلوں پر جن کی محنتِ شاقہ سے اُن کے آقاؤں کے محل روشن ہیں ۔کسی غریب کی کُٹیا میں اگر دیا نہیں جلتا ہے تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ کیا ہوا جو شیر خوار دودھ نہ ملنے سے بلک بلک کر جان دے دیتا ہے ، کوئی مزدور دوائی کی عدم دستیابی کی بنا پر اپنی جان ہار دیتا ہے ،کون سی قیامت ٹوٹ پڑے گی اگر کوئی ’’ڈھول ڈنگر‘‘ کسی مرسیڈیز کے نیچے آ کردم توڑ دے ، کون سا آسمان ٹوٹ پڑے گا اگر کسی کو نانِ جویں بھی میسر نہ آئے کہ ایسی کسی بھی وجہ سے ترقی کا پہیہ تو نہیں رُک جائے گا۔ یہ عمر خطابؓ کا دور تو ہے نہیں کہ امیر المومنین اِس خوف سے اناج کی باری اپنے کندھے پہ اٹھائے بیوہ کے گھر کی طرف گامزن ہونگے کہ روزِ محشر اُنہوں نے اپنے گناہوں کا بوجھ خود اُٹھانا ہے ۔یہ تو ماڈرن سیکولر دَور ہے جس میں یومِ محشر کا کوئی تصور ہے ، نہ مرنے اور مر کے پھر جی اٹھنے کا ۔یہ زمینی خُدا اگر اپنی زبان سے اقرار نہ بھی کریں تو پھر بھی ان کی جبینوں پہ یہ لکھا صاف نظر آتا ہے کہ ؂
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت ، لیکن
دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھّا ہے

یہ بھی پڑھیں  داؤدخیل:سابق ضلعی صدر یوتھ ونگ میانوالی جاوید عباس ایڈوکیٹ کو صدر کے عہدے کے لیے نامزد کیا جائے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker