تازہ ترینکالم

ملکی ترقی میں سید پرویز مشرف کا کردار

munirاس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان ایک آزاد اور خود مختار ریاست ہے ‘پاکستان کی 65 سالہ تاریخ میں کئی سیاستدان سامنے آئے اور اپنا اپنا کردار ادا کر کے چلے گئے ۔ لیکن آج ہم جس زیرک بردبار اور ہر دلعزیز قائد ‘اور معتبر لیڈر اور بہترین نگران چیئرمین آل پاکستان مسلم لیگ محترم جنرل(ر) سید پرویز مشرف ہیں ۔ جو کسی تعارف کے محتاج نہیں آپ پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔اور لوگوں کے دلوں پر راج کر رہے ہیں ۔ آپ آل پاکستان مسلم لیگ کے چیئرمین کی حیثیت سے فرائض منصبی ادا کر رہے ہیں۔انہوں نے پاکستان آج جتنی بھی ڈویلپمنٹ کی اس کا مختصر سا ذکر درج ذیل ہے ۔ اب عوام الناس نے اس کا موازنہ کرنا ہے کہ موجودہ سیاستدان اچھے ہیں یا سید پرویز مشرف!ہمارے قائد سابق صدر پاکستان سید پرویز مشرف کا دور اقتدار 1999 سے لیکر 2008 ء تک رہا تھا۔ اس دور اقتدار میں بے شمار ترقیاتی کام ہوئے بہت سے لوگوں کو روزگار میسر آیا۔ ان کے کارہائے نمایاں کو جھٹلایا نہیں جا سکتا کیونکہ یہ دور پاکستان کی تاریخ کا سب سے بہترین دور تھا۔ اتنے کام گذشتہ پچاس سالوں میں نہ ہوئے تھے ۔ جتنے اس دور میں ہوئے ۔ ان میں سے چند اہم اقدامات کا ذکر کر رہا ہوں ۔جس بنا پر سید پرویز مشرف ہی ہمارے ملک پاکستان کے بہترین لیڈر تھے ۔ *ان کے دور اقتدار میں ملک میں بڑے بڑے پراجیکٹ کا آغاز کیا جن میں سینڈک ‘ریکوڈک ‘ماربل اور کوئلہ کی پیداوار جیسے منصوبے شامل ہیں ‘*ان کے دور اقتدار میں شرح خواندگی 42 فیصد سے 53 فیصد ہو گئی ‘ملک میں 9 ورلڈ کلاس اور 18 مقامی یونیورسٹیاں بنائی گئی تھی‘*ان کے دور اقتدار میں عوام اور صنعتوں کو بجلی کی پیداواری استعداد 19,800 میگا واٹ کی گئی تھی ‘*ان کے دور اقتدار میں ملک میں پانچ ڈیم بنائے گئے تھے ‘جن میں سباکزئی ‘گومالزم ‘میرانی ‘خرم اور ٹینگی شامل ہیں ‘جن سے بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہوا تھا‘*ان کے دور اقتدار میں پاکستان میں غربت کی شرح 34 فیصد سے 24 فیصد ہو گئی تھی ۔ غربت کی شرح میں دس فیصد کمی آئی تھی ‘*ان کے دور اقتدار میں پاکستان کی اکانومی چائنہ اور انڈیا کے بعد تیسری تیز ترین بڑھتی ہوئی اکانومی تھی جو کہ اب کم درجہ کم ہو چکی تھی ‘* ان کے دور اقتدار میں پاکستان میں سات موٹر وے کے منصوبوں کو پائیہ تکمیل تک پہنچایا گیا اور کئی نئے منصوبوں کی سنگ بنیاد رکھی ‘*ان کے دور اقتدار میں فی کس آمدنی 450 ڈالر سے 1085 ڈالر ہو گئی تھی جو کہ اب پھر اسی مقام پر جا پہنچی ہے ‘*ان کے دور اقتدار میں برآمدات 19.5 بلین ڈالر تھی جو کہ پہلے 8.2 بلین ڈالر تھی اور اب صرف 9.2 بلین ڈالر ہے ‘*ان کے دور اقتدار میں 990 ارب روپے کا ریونیو اکٹھا کیا گیا جو کہ پہلے 305 ارب ہوتا تھا اور اب نہ ہونے کے برابر اکٹھا کیا گیا ہے ‘*ان کے دور اقتدار میں گوادر پورٹ کا افتتاح ہوا جو سرمایہ کاری کا بہترین ذریعہ ہے اور جس سے اربوں روپے کمائے جا رہے تھے ‘*ان کے دور اقتدار میں کراچی سٹاک مارکیٹ 700 پوائنٹ سے 15,000 پوائنٹس تک جا پہنچی تھی اور اب صرف 1100 پوائنٹس ہے ‘*ان کے دور اقتدار میں صنعتوں کی رجسٹریشن میں 26 فیصد اور ٹیکس کی ادائیگیوں میں 100 فیصد اضافہ ہوا تھا‘*ان کے دور اقتدار میں گجرات یونیورسٹی تعمیر کروائی گئی تھی ‘جو کہ پاکستان کی بہترین یونیورسٹیوں میں سے ایک ہے ‘* ان کے دور اقتدار میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے تدریسی اداروں میں اضافہ ہوا اور تقریبا 90,000 پروفشنل اس شعبہ میں کام کر رہے ہیں ‘*پاکستان کی معیشت 75 بلین ڈالر سے 170 بلین ڈالر تک جا پہنچی تھی ‘*پاکستان میں غیر ملکیس رمایہ کاری 301 ملین سے 8.5 بلین ڈالر تک جا پہنچی تھی جو کہ اس کا نصف بھی نہ تھی ‘*تانبے اور سونے کے ذخائر چاغی کے مقام پر دریافت کیے گئے جن سے سالانہ 600 ملین ڈالر زرمبادلہ حاصل کیا جا رہا تھا ‘*پاکستان کا ترقیاتی بجٹ 550 ارب روپے ہو گیا تھا جو کہ پہلے صرف 80 ارب روپے تھا‘*ان کے دور اقتدار میں(GDP Purchasing Power)270 بلین ڈالر سے 2204 بلین ڈالر تک جا پہنچی تھی ‘*فارن ایکسچینج کیلئے مختص رقم 700 ملین ڈالر سے 17 بلین ڈالر تک جا پہنچی تھی ‘*متحدہ عرب امارات کیساتھ مل کر ملک میں آئل ریفائنری بنائی ‘جس میں روزانہ 300,000 بیرل آئل ریفائن ہوتا ہے ‘*پاکستان کے 5,000 طالب علم بیرون ملک PhDs کی تعلیم سکالر شپ پر حاصل کر رہے ہیں ‘1999 ء سے پہلے جن کی تعداد صرف 20 تھی ‘*پاکستان کے GDP کا 65 فیصد حصہ قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہوتا تھا ‘جو ان کے دور میں صرف 27 فیصد رہ گیا تھا‘جو اب 72 فیصد تک جا پہنچا ہے ‘*تعلیمی اداروں کی تعداد میں 99,319 اداروں کا اضافہ ہوا۔اور اسی طرح ملک میں بے پناہ تعلیمی اداروں کی تعمیر کروائی جن میں بنوں یونیورسٹی سائنس و ٹیکنالوجی ‘ہزارہ یونیورسٹی ‘مالا کنڈ یونیورسٹی ‘سردار بہادر خان ‘یونیورسٹی برائے خواتین کوئٹہ اور ورچوئل یونیورسٹی ‘سرحد یونیورسٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی ‘نیشنل لاء یونیورسٹی ‘میڈیا یونیورسٹی ان اسلا آباد ‘یونیورسٹی آف ایجوکیشن ان لاہور ‘لسبیلا یونیورسٹی اور بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی شامل ہیں ‘*خواتین کی بلدیاتی ‘صوبائی اور قومی سطح پر 33 فیصد اور 20 فیصد نمائندگی‘*زیادتی کا نشانہ بننے والی خواتین کو تحفظ دینے کیلئے حدود آرڈیننس میں صحیح اسلامی اصولوں کے مطابق تبدیلی ‘* خواتین کو پاکستان کے دفاعی اداروں میں تمام شعبوں کے شمولیت کا ضروری بنانا آج پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں خوا
تین فائٹر پائلٹ ہیں ‘*ہائر ایجوکیشن کمیشن کے قیام کا مقصد پاکستان کی تمام یونیورسٹیوں کی رہنمائی کرنا اور ناقص یا غیر تصدیق شدہ یونیورسٹیوں کی نشاندہی کر کے جعلسازی سے عوام کو بچانا ہے ‘*پاکستان کا ثقافتی تصور علامہ اقبال کے فلسفے کے مطابق دنیا بھر میں اجاگر کرنے کیلئے نیشنل آرٹ گیلری ‘ثقافتی ورثہ میوزیم ‘نیشنل کلچرل سنٹر اور بین الاقوامی معاہدوں پر عمل ۔اس کارکردگی کی بناء پر یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ سابقہ صدر پاکستان سید پرویز مشرف ہی ہمارے بہترین لیڈر ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں  دیپالپور:جائیداد کے تنازعے پر دو سگے بھائیوں کو قتل کرڈالا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker