تازہ ترینکالم

ملکی حالات

waqarمفادات کا محاذ ہر وقت کھلا رہتا ہے ان سیاسی پیشواوُں نے ملکی فوائد کو کبھی خاظر میں نہیں رکھا اور اپنے پیروں تلے روندتے چلے گئے۔ ہمیشہ پوائنٹ اسکورنگ ان کا شعار رہا انہوں نے لفظوں میں تو یہ باور کروانا چاہا کہ انہیں ملک کی بہتری بہت عزیز ہے یہ ملک کی خوشحالی کے لیے ہردم فکر مند ہیں لیکن کے اقتدار پر متمکن ہوتے ہی منشور کو بھلا دیتے ہیں ۔مختلف پارٹیز ایک دوسرے سے گتھم گتھا رہتی ہیں ان کی کولڈ وار کا نہ تھمنے والا سلسلہ پہلے سے ہی ذلیل و رسوا ہوتی عوام کو مزید ذچ کر دیتا ہے اور عوام کہتی ہے خدا کے لیے باز آئیں،لیکن انہیں کچھ سنائی نہیں دیتا اور یہ اسی ڈگر پر ہی رہتے ہیں۔دراصل مسندِ اقتدار کی حوس ہے ہی اتنی بری کہ اس کے حصول کے لیے کچھ بھی کر گزر سکتے ہیں کچھ روز پہلے ملک سیاسی ہلچل کی لپیٹ میں رہا ۔عمران خان کا شیوہ ہے کہ وہ ایک بات پر قائم نہیں رہ پاتے انہیں جو بتایا جاتا ہے اسے سچ مان لیتے ہیں بعدازاں بغور جائزہ لے کر جس فیصلے کی انہوں نے تکریم کی ہوتی ہے اسی کے خلاف ہی درخواست دائر کردیتے ہیں ،ٹھیک ہے کچھ حلقوں میں بے ضابطگیاں ہوئیں اور آئندہ ایسے سسٹم کی تشکیلِ نو ہونی چاہیے تاکہ ایسا اگلے انتخابات میں نہ ہو ، ریٹرنگ افسران ٹیچرز ہوتے ہیں سارے ملبہ ان پر ڈالنا بھی درست نہیں بلکہ نظام کو بہتر کرنا ہوگا خان صاحب کی پارٹی 92 نشستوں پر الیکشن لڑنے کی اہل ہی نہ تھی ضمانتیں ضبط ہوگئیں اور ان حلقہ جات میں ان جماعت الیکشن لڑنے کے قابل ہی نہ تھی ،اگر وزیر اعظم بننا تھا تو پانچ سال انتظار کرلیتے بے دقیق باتیں کر کہ سیاپہ ڈال کر قوم کا وقت کیوں برباد کیا؟۔پرویز رشید صاحب وہ جو ہر بات کہہ کر اسے حقائق کا نام دے دیتے ہیں اور منسٹرز وہ جو بے تہذیب اور جارہانہ انداز میں جواب دینے کے سوائے کچھ نہیں کرتے وہ بھی کوئی احسن کام نہیں کر رہے بلکہ قوم کی آنکھوں میں دھول ہی جھونک رہے ہیں عمران صاحب کا دھرنا 126دن عوام کو لا شعوری کی تاریکی میں لے گیا پراعتماد جوڈیشل کمیشن کا قیام عمل میں لایا جائے اور ایسی روش اپنائی جائے کے دوبارہ کسی کو اس خبط کی ضرورت محسوس نہ ہو ،اسمبلی میں جانے سے انکاری تحریک انصاف سینٹ میں جانے کے لیے تیار ہے اور سینٹ انتخابات میں حصہ لینے کی خواہش بھی رکھتی ہے مگر اب خیبر پختونخواہ صوبے کا درد چیرمین تحریکِ انصاف کے جاگ چکا ہے ؛جی ہاں وہ پھر سے عیادہ کر چکے ہیں کے اچھی کارکردگی دکھائیں گے ۔ یہ ٹینشن اختتام پذیر ہوئی تو عوام کو بہت سی مشکلات کا سامنا رہا بجلی کی طویل غیر اعلانیہ بندش تو تھی ہی پٹرول بھی اٹھارہ جنوری 2015 کو پمپس پر نظر نہ آیا جزوی طور پرمخصوص لوگو ں کو میسر رہا اور یہ قلت چار دن تک رہی۔وزیرِ پیٹرولیم بھی نالاں ہوچکے ہیں لگتا ہے اب ان کی حکومت کے ساتھ ٹھن گئی ہے سوالات کی بوچھاڑ نے شاہد حاقان عباسی کو شدید پریشان کیا اور انہوں نے اسے اپنی تضحیک سمجھا اور اب ان کا کہنا ہے کہ مجھ سمیت حکومت ذمہ دار ہے ۔حالات وہ ہی رہے دوبارہ الطاف بھائی کی پارٹی قیادت سے دستبرداری کا اعلان اور کارکنان کا انہیں منا لینا۔ایم کیو ایم کی پیپلز پارٹی سے جھڑپ شدت اختیار کرگئی ایم کیوایم کے ورکرز کاقتل عام ہوا، بلیم گیم کو بڑھاوا دیا گیا تحقیقات مکمل نہ ہوئیں لیکن ایک دوسرے پر لعن طعن دونوں جماعتوں نے خوب کی۔باراک اوبامہ جن کا دورہ بھارت پہلے سے ہی متوقع تھا وہ بھارت گئے نریندر مودی نے شکایات کی چارج شیٹ پیش کی اوبامہ نے شٹ اپ کال دے کر جاتے جاتے تمام مذاہب اور عقیدوں کی عزت کرنے کی تلقین کی اور کہا بھارت تب تک ترقی نہیں کرسکتا جب تک ذات پات سے باہر نہیں نکلے گا انہوں نے اپنی باتوں سے ہندو انتہا پسندوں کی منہ پر طمانچہ بھی رسید دیا۔یہ بھی درست ہے کے کچھ ممالک ایسے ہیں جن سے دوستی نبھائی نہیں جاسکتی کیونکہ ان میں وفا رائی کے دانے برابر بھی نہیں ہے،لیکن ان سے بے تعلق بھی نہیں ہوا جا سکتا کیونکہ تمام خطے میں امن کا قیام ممکن بنانا ہے اور جو سہی مسلمان ہیں وہ جانتے ہیں کہ ان کے دین نے انہیں امن کا سفیر بنایا ہے اور ان کا مقصد ہرگز تخریب کاری نہیں ہے وہ امن کے فروغ کے لیے گامزن ہیں اور اس اصول پر کاربند ہے کہ بد امنی سے دوری اختیار کرنی ہے۔سرتاج عزیز تو پاکستان کے دوست ممالک سے ناتے کمزور کررہے تھے تاہم جرأت کے پیکر راحیل شریف نے تعلقات میں بہتری کے لئے ا قدم اٹھائے۔حکومت کی غلطیوں پر روشنی ڈالنے والوں کو سائڈ لائن کردیا جاتا ہے جیسا کہ گورنر پنجاب چوھدری سرور سے استعفےٰ لے لیا گیا اس سے پہلے بھی انہیں حق بات کرنے سے روکا گیا لیکن معاملات طے ہوگئے مگر اس بار صلح کی کوشش ناکام رہی جس کا سبب وفاق اور اس کے گورنر کے بیانات میں تضاد تھا۔چین سے ہماری لازوال وشیریں دوستی کی داستاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں آرمی چیف کے دورہ چین نے بہت مثبت اثرا ت مرتب کیے۔ جب پاکستان میں کچھ لوگ اس بات سے دکھی نظر آئے کے اوبامہ دورہ پاکستان پر کیوں نہ آئے تو وہیں بھارت کو بھی یہ چبھن تھی کہ پاکستانی آرمی چیف کیوں دورہ چین پر گئے اور انہیں اس بات کی حسد ہے کہ کہیں چین پاکستان کے ساتھ منصوبہ جات سائن نہ کرلے کیونکہ چینی صدر کا دورہ بھارت بھارتیوں کے لیے مایوس کن ہی رہا جبکہ پاکستانی آرمی چیف کا چین جانا اور وہاں سے اچھا تاثر آنا اس بات کی تصدیق ہے کہ پاکستان کے لیے سنہرے ادوار کا باب کھلنے والا ہے۔راحیل شریف نے اتنے خفیف دورانیے میں اپنے وقار میں بے حد اضافہ کیا ہے ملٹری کورٹس بھی بن چکی ہیں جلد ان ایکشن ہونگی اب دشمن کو فرزا دینے کا موقع ہے۔تمام صوبوں کو ایکشن پلان سے بھی آگاہ کیا جاچکا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ دھونس بازی کو پسِ پشت ٖڈال دینا ہوگا اورسہی پلان ترتیب دینے ہونگے۔

یہ بھی پڑھیں  ڈسکہ: صحافی کامران افضال کی موت پرصحافیوں کاتعزیتی اورمزمتی اجلاس

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker