پاکستانتازہ ترین

ممتا زقادری قتل کیس، تمام دلائل درست مان بھی لیے جائیں تو اہلکار کے حلف کا کیا کریں،عدالت

اسلام آباد(بیورو رپورٹ) اسلام آباد ہائیکورٹ میں سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر قتل کیس میں ملزم ممتاز قادری کیس کی سماعت کرتے ہوئے درخواست گزار کے وکلاء کے دلائل مکمل نہ ہونے پر عدالت عالیہ نے کیس کی سماعت منگل تک ملتوی کردی۔ ابتدائی سماعت کے دوران جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے درخواست گزار کے وکیل جسٹس (ر) میاں نذیر اختر سے استفسار کیا کہ آئین کے آرٹیکل 9 کے تحت پولیس ملازم نے حلف اٹھایا تھا کہ وہ آئین کی پاسداری کرے گا اور پاکستانی ہونے کا ثبوت دے گا وہ کہاں گیا‘ جسٹس (ر) میاں نذیر اختر نے جواب دیا کہ سلمان تاثیر قتل کیس کوئی معمولی کیس نہیں ہے پوری دنیا کی نظریں اس کیس کے حوالے سے اسلام آباد پر لگی ہوئی ہیں۔ اسلام آباد سے جو بھی پیغام اپنوں اور غیروں کو جائے گا وہ تاریخی ہوگا۔ اس کیس کے حوالے سے عدالت عالیہ پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ جمعہ کے روز سلمان تاثیر قتل کیس میں درخواست گزار کی جانب سے جسٹس(ر) میاں نذیر اختر جبکہ وفاق کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد میاں عبدالرؤف پیش ہوئے۔ ہائیکورٹ کے دو رکنی بنچ جسٹس نورالحق این قریشی اور جسٹس شوکت عزیز صدیقی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ جسٹس (ر) میاں نذیر اختر نے عدالت عالیہ کو بتایا کہ سلمان تاثیر قتل کیس میں پراسیکیوشن نے ڈیوٹی روسٹر پیش نہیں کیا جس سے معلوم ہوسکے کہ گورنر کے سکواڈ میں ڈیوٹی دینے والے اہلکار کہاں کہاں موجود تھے۔ پولیس کی جانب سے ڈاکومنٹس میٹریل مواد اور دیگر شواہد بھی پیش نہیں کئے گئے۔ سلمان تاثیر قتل کیس میں گواہان کے بیانات بھی تضاد کا شکار ہیں۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ایک گواہ کہتا ہے کہ ممتاز قادری اور گورنر کے درمیان کچھ گفتگو ہوئی تھی‘ دوسرا کہتا ہے کہ گفتگو نہیں ہوئی۔ فاضل وکیل نے دلائل دیتے ہوئے مزید کہا کہ پراسیکیوشن کی جانب سے سلمان تاثیر قتل کیس میں کوہسار مارکیٹ کے کسی ایک شخص‘ کاروباری شخصیت اور کسی کسٹمر کو گواہ نہیں بنایا گیا۔ جسٹس نورالحق این قریشی نے جسٹس (ر) میاں نذیر اختر سے استفسار کیا کہ سلمان تاثیر کے دوست وقاص جوکہ موقع پر موجود تھا‘ ان کا بیان ریکارڈ کرانے کیلئے آپ کی طرف سے کوئی اقدامات کئے گئے ہیں؟ فاضل وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اس حوالے سے کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ ممتاز قادری نے خود پولیس کو جو بیان ریکارڈ کرایا ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر قتل کیس میں ممتاز قادری کے کیا محرکات ہوسکتے ہیں کس بناء پر انہوں نے سابق گورنر کو قتل کیا۔ جسٹس(ر) میاں نذیر اختر نے کہا کہ سلمان تاثیر قتل کیس کی ڈاکٹروں کی جانب سے دی جانے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بھی عجیب صورتحال پیش کی گئی ہے۔ کہیں کہا گیا ہے کہ سامنے سے گولی لگی ہے اور کہیں لکھا ہے کہ جسم کے پچھلے حصے میں گولی لگی ہے۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پوسٹ مارٹم سے متعلق ڈاکٹر ہی بہتر جانتے ہیں۔ ممتاز قادری کوئی پاگل شخص نہیں تھا جس کی وجہ سے اس نے گورنر کو قتل کیا۔ ممتاز قادری کئی بار وی آئی پی موومنٹ میں ڈیوٹی کرچکا ہے۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 9 کے تحت جس پر حلف انہوں نے حلف اٹھایا تھا اس کی حیثیت کہاں گئی۔ فاضل وکیل نے عدالت کو بتایا کہ حضور نبی پاکؐ کی شان میں گستاخی برداشت نہیں ہوسکتی‘ کوئی تو اس پوری دنیا میں محبت کا پرچم لے کر نکلے گا اور حضور نبی پاکؐ کی شان میں گستاخی کرنے والوں کو کیفرکردار تک پہنچائے گا۔ عمر چیمہ جیسے نوجوان نے شان رسالتؐ میں جانیں بھی قربانی کردیں۔ انہوں نے عدالت کو مزید بتایا کہ سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کا واقعہ ہوا تو اس کے بعد لاہور میں ایک بہت بڑا اجلاس منعقد کیا گیا جس میں 25 کے قریب جید علماء نے ممتاز قادری کی حمایت کرتے ہوئے ساتھ دینے کا کہا۔ جسٹس (ر) میاں نذیر اختر سے استفسار کیا گیا کہ کیا عدالت جذبات اور احساسات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرسکتی ہے یا قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھے۔ جسٹس (ر) میاں نذیر اختر نے کہا کہ عدالت آئین قانون کے مطابق فیصلہ کرے اور اسلامی تعلیمات کو بھی مدنظر رکھے۔ جسٹس نورالحق این قریشی نے کہا کہ ایک جج آئین کے مطابق کسی کو موت کا پروانہ جاری کرنے کا حق رکھتا ہے لیکن اپنی طرف سے کوئی حکم جاری نہیں کرسکتا کیونکہ وہ بھی قانون کی گرفت میں آسکتا ہے۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ سلمان تاثیر پر صرف یہ الزام تھا کہ اس نے توہین رسالت قانون کو کالا قانون اسلئے کہا تھا کہ یہ سابق ڈکٹیٹر ضیاء الحق کا بنایا ہوا ہے۔ گورنر کیخلاف کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے جس تناظر میں اس نے یہ بیان دیا تھا وہ صرف سابق ڈکٹیٹر ضیاء الحق کی طرف اشارہ تھا۔ عدالت نے کہا کہ اگر ریاست صرف اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتی تو اس کا باقاعدہ قانون موجود ہے۔ جسٹس(ر) میاں نذیر اختر نے کہا کہ سابق گورنر نے توہین رسالت کے قانون کو کالا قانون کہا لیکن ریاست نے کوئی اقدامات نہ کئے۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ حضور نبی پاکؐ چیف ایگزیکٹو بھی تھے‘ سپہ سالار بھی تھے ان کی شان میں گستاخی برداشت نہیں ہوسکتی۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ سلمان تاثیر نے شان رسالتؐ میں گستاخی کی مرتکب ہونے والی آسیہ بی بی کے دفاع میں میدان میں نکل پڑے۔ بیرونی سازش کے تحت اس کی حمایت کی اور اس کے وقت کے صدر مملکت کو سزا معاف کروانے کیلئے خط بھی لکھا۔ سابق گورنر نے عدالتی فیصلے کا مذاق اڑایا۔ جسٹس (ر) میاں نذیر اختر نے کہا کہ سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر غامدی سے متاثر تھا اس کی حمایت کرتے ہوئے اس نے توہین رسالت قانون کو کالا قانون کہا اور یہ بھی کہا کہ آسیہ بی بی کو توہین رسالت میں ہونے والی سزا سے بیرونی دنیا میں پاکستان کی بدنامی ہوگی۔ دو گھنٹے کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے درخواست گزار سے پوچھا کہ کیا آپ آج دلائل مکمل کرسکتے ہیں تو انہوں نے عدالت کو بتایا کہ سلمان تاثیر قتل کیس میں مزید شواہد پیش کرنے اور دلائل دینے کیلئے دو سے تین گھنٹے لگ سکتے ہیں۔ جس کی بناء پر عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کو احکامات جاری کئے کہ آئندہ منگل تک دلائل مکمل کریں اور منگل کے روز ہی ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد میاں عبدالرؤف دلائل دیں گے۔ واضح رہے کہ ممتاز قادری کی جانب سے سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ خواجہ محمد اپنے دلائل مکمل کرچکے ہیں۔ مذکورہ سماعت کے بعد عدالت نے کیس ملتوی کردیا۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button