تازہ ترینعلاقائی

بھارت کی طرف سے دریاؤں میں چھوڑے گئے پانی نے تباہی مچادی ہے،منورحسن

munawar hussainلاہور(نامہ نگار)امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منورحسن نے شام میں فوج حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کرکے ہزاروں لوگوں کے قتل عام جن میں بڑی تعداد معصوم بچوں کی ہے، پر رنج و افسوس کا اظہار کرتے ہو ئے کہاہے کہ اس قتل عا م پر عالمی اداروں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ کسی طرف سے کوئی مذمت اور اس ظلم اور انسانیت کشی پر کوئی آواز بلند نہیں کی گئی ۔ انسانی حقوق کے عالمی ادارے اور سلامتی کونسل خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں ۔ عالم اسلام کے حکمران بھی اس قتل عام اور ظلم و بربریت کو رکوانے کیلئے اپنا کردار ادا نہیں کررہے ۔عرب لیگ اوراوآئی سی بھی خاموش ہیں ۔سید منورحسن نے اپنے ایک بیان میں مطالبہ کیا ہے کہ پاکستانی حکومت فوری طور پر اپنا کردار ادا کرے ۔ عالم اسلام اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں کے ذریعے اس قتل عام کا فوری نوٹس لے اور اسے رکوانے کی بھر پور کوشش کرے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان فوری طور پر سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کیلئے بھی اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے ۔سیدمنورحسن نے مصری حکومت کی طرف سے چلائی جانے والی ان خبروں پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیاکہ منتخب صدر محمد مرسی نے خود کشی کی کوشش کی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ صدر مرسی جیسا صاحب ایمان خود کشی کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ انہوں نے سالہا سال جیل میں گزارنے اور اقتدار کے ایک سال کے دوران امریکہ ، اسرائیل اور اس کی غلا م مصری فوجی قیادت کی طرف سے شدید دباؤ کے سامنے سرجھکانے سے انکار کیا ۔ سیدمنور حسن نے کہاکہ سیسی انتظامیہ کی طرف سے خود کشی کی خبریں پھیلانا خطرے کی گھنٹی ہے ان خبروں سے منتخب صدر کے بارے میں سیسی انتظامیہ کے ناپاک ارادے ظاہر ہور ہے ہیں ۔ انہو ں نے کہاکہ منتخب صدر اور اخوان المسلمون کے مرشد عام سمیت چار ہزار سے زائد بے گناہ شہری جیلوں میں بند ہیں اور ان پر بدترین مظالم ڈھائے جارہے ہیں ۔ ہیومن رائٹس واچ نے بھی اس کی تصدیق کی ہے لیکن عالمی برادری شتر مرغ بنی بیٹھی ہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیاکہ تمام بے گناہ قیدیوں کو رہا کیا جائے اور ہزاروں افراد کے قاتل مصری اور شامی حکمرانوں پر جرائم کی عالمی عدالت میں مقدمات چلائے جائیں۔دریں اثنا سید منورحسن نے ملک بھر میں شدید بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہاہے کہ لوگ جگہ جگہ سیلاب میں پھنسے ہوئے ہیں جن کے پاس خوراک اور پانی سمیت اشیائے ضرورت کی شدید قلت ہے جبکہ حکومت کی طرف سے متاثرین کی مدد کیلئے کوئی عملی اقدامات نہیں کئے جارہے ۔وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں سیلاب زدگان کا ذکر تو کیا لیکن ان کی امداد اور بحالی کا معاملہ صوبائی حکومتوں پر ڈال کر خود بری الذمہ ہوگئے ۔صوبائی حکومتیں بھی زبانی جمع خرچ کے علاوہ عملی اقداتات نہیں اٹھا رہیں جس سے سیلاب کے اندر پھنسے ہوئے لاکھوں لوگوں کو سخت مایوسی ہوئی ،لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ کسانوں کے ہزاروں مویشی ہلاک ہوچکے ہیں،حکومت کی طرف سے فوری طور پر لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچانے اور ان کی زندگیاں بچانے کی کوئی کوشش سامنے نہیں آرہی ،ہر جگہ پرائیویٹ امدادی ادارے اور این جی اوز عوام کی جانیں بچانے اور سیلاب میں گھرے ہوئے لوگوں کو نکالنے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔سید منور حسن نے کہا کہ بھارت کی طرف سے دریاؤں میں چھوڑے گئے پانی نے ملک بھر میں تباہی مچادی ہے۔ہر سال کی طرح اس سال بھی حکومت نے کوئی پیشگی اقدامات نہیں کیے ، حالانکہ ملک میں بہنے والے دریاؤں میں ہرجگہ طغیانی اور سیلاب کی پیش گوئی کی جارہی تھی۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے ابھی تک سیلاب زدگان کیلئے سنجیدہ امدادی سرگرمیاں شروع نہیں کی گئیں جو قابل افسوس ہے۔

یہ بھی پڑھیں  اوکاڑہ : محمد اصغر مغل کے قرآنی فن پاروں کی نمائش9اکتوبر کو واشنگٹن (امریکہ)میں ہوگی.

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker