پاکستانتازہ ترین

حکومت شمالی وزیرستان میں آپریشن فوراً بند کرے، سید منورحسن

munawar hussainمانسہرہ(مانیٹرنگ سیل)جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سید منور حسن نے کہا ہے کہ حکومت شمالی وزیرستان میں آپریشن فوراً بند کرے اور مذاکرات کی میز پر بیٹھ جائے ۔ حکمران یاد رکھیں کہ شمالی وزیرستان نہ تو سوات ہے اور نہ جنوبی وزیرستان ۔ یہ آپریشن امریکیوں کی ضرورت اور ڈو مور کا نتیجہ ہے ۔ ہماری فوج اپنے ہی لوگوں پر بندوق تان کر امن قائم نہیں کر سکتی ۔ دنیامیں پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں سب سے زیادہ آپریشن کئے گئے ہیں ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ماضی میں کئے گئے آپریشنز کے نتائج سے قوم کو آگاہ کیا جائے ۔ بتایا جائے کہ مشرقی پاکستان ، بلوچستان ، کراچی ، اور دوسرے مقامات پر آپریشن کے کیا نتائج برآمد ہوئے ہیں ۔ ہمیشہ ہر آپریشن کے نتیجے میں فوج اور عوام کے درمیان دوریاں بڑھی ہیں۔ خلیج پیدا ہوئی ہے اور یہ چیز ملکی سالمیت کے لئے نقصان دہ ہے ۔ وہ جمعرات کے روز مانسہرہ میں جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی شوریٰ کے رکن اور امیر جماعت اسلامی ضلع مانسہرہ محمد یونس خٹک مرحوم کی یاد میں منعقد ہونے والے ایک تعزیتی ریفرنس سے خطاب اور بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ریفرنس سے جماعت اسلامی صوبہ خیبر پختونخواہ کے جنرل سیکریٹری شبیر احمد خان ، جماعت اسلامی ضلع مانسہرہ کے امیر سید سجاد حسین شاہ ، نائب امیر ڈاکٹرسید طارق شیرازی ، انجمن تاجران کے بابر خان خان خیل ، منیر خان لغمانی صدر بارایسوسی ایشن ضلع مانسہرہ ، اشاعت التوحید و السنہ کے پروفیسر محمد طیب زعفرانی ، ختم نبوت یوتھ فورس کے عبد الرؤوف روفی ، صدر پریس اور الیکٹرانک میڈیا نثار احمد خان ، مولانا قاضی اسرائیل گڑنگی ، جماعۃ الدعوۃ کے ابو حمزہ ، حافظ محمد ہارون اور جمعیۃ العلماء اسلام کے مولانا رفیق الرحمٰن قمراور مانسہرہ کے ضلعی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمد صدیق نے بھی خطاب کیا۔سید منور حسن نے کہا کہ انتخابات کے بعد بالعموم یہ توقع ہوتی ہے کہ قوم کے حالات میں بہتری آئے گی تاہم عجیب بات ہے کہ حکمرانوں نے آتے ہی جی ایس ٹی میں اضافہ کرکے مہنگائی کی بنیاد رکھ د ی جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ غربت بڑھ چکی ہے اور غریب نانِ شبینہ کا محتاج ہوچکا ہے ۔ اعلان تو یہ ہوا تھا کہ کشکول توڑ دیا جائے گا مگر لگتا ہے کہ کشکو ل توڑ کر اسٹور سے کوئی نیا گرد آلود کشکول جھاڑ پونچھ کر نکا ل لیا ہے ۔ یہ بھی کہا گیا تھا کہ آئی ایم ایف سے اپنی شرائط پر قرضہ لیا جائے گا مگر یہ کہنے والے بھول گئے کہ ضرورت مند کبھی اپنی شرائط نہیں منوایا کرتا بلکہ قرضہ دینے والے کی شرائط پر قرضہ لینے پر مجبور ہوتا ہے ۔ آئی ایم ایف ایسٹ انڈیا طرز کی کمپنی ہے جواس ملک کو غلام رکھنا چاہتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ فنانس کا آدمی سرے سے ہے ہی نہیں بلکہ یہ تو کامرس کا آدمی ہے اور ان کی منی لانڈرنگ کے حوالے سے یورپ میں ان پرالزامات بھی ہیں ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت فوری طور پر اپنا اقتصادی قبلہ درست کرے ۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ وہ ہمارے منشور پر عمل کریں بلکہ ہم انہیں یاد دلاتے ہیں کہ وہ اپنے منشور کو یادرکھیں ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں مہنگائی، بدامنی اور لاقانونیت کا دور دورہ ہے ۔ حکومت شمالی وزیرستان اور اقتصادی معاملات پر بات کرنے کے لئے پارلمینٹ سے رجوع کرے اور آل پارٹیز کانفرنس طلب کرے ۔ یوتھ لون پروگرام کے حوالے سے سید منور حسن نے کہا کہ سود سے میاں صاحبان کودیرینہ لگاؤ ہے ۔ سود کے خلاف ہونے والے عدالتی فیصلے کو سپریم کورٹ میں یہی لوگ لے کر گئے تھے ۔ اب میاں صاحب کی بیٹی سودی پروگرام کو فروغ دے رہی ہیں ۔ خود ان کی بیٹی کی تقرری میرٹ کو پامال کر کے کی گئی ہے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ آخر مریم نواز کس بنیاد پر اس پروگرام کی سربراہ بنائی گئی ہیں ۔ بھارت سے مذاکرات کے سوال پر سید منور حسن نے کہا کہ بھارت کے ساتھ مذاکرات کی ہماری تاریخ ہے ۔ سردار سورن سنگھ اور ذوالفقار علی بھٹو کے درمیان 1962ء میں جو مذاکرات شروع ہوئے تھے وہ چھ مہینے تک مختلف شہروں میں جاری رہے تاہم انکے خاتمے پر نتیجہ صفر رہا ۔ امریکہ کی ڈکٹیشن پر ہونے والے یہ مذاکرات بھی بے نتیجہ ہی رہیں گے ۔ کشمیر اور پانی پر کوئی پیش رفت نہیں ہوپائی اصل بات اپنی چینی فروخت کر کے وہاں سے آلو خریدنے کی ہے ۔ عبد القادر ملا کی عدالتی شہادت کے بارے میں سید منور حسن نے کہا کہ میں دو سالوں سے حکومت سے کہتا رہا کہ وہ بنگلہ دیشی حکومت سے بات کرے ۔ ذوالفقار علی بھٹو اور مجیب کے درمیاں بھارت نے معاہدہ کروایا تھا جس کے نتیجے میں پاکستان نے بنگلہ دیش کو تسلیم کیا تھا ۔ معاہدے میں طے ہوا تھا دونوں ملک جنگی جرائم کے مقدمات نہیں چلائیں گے تاہم حکمران ٹس سے مس نہ ہوئے۔ جن لوگوں نے پاکستان سے محبت اوروفاداری کی ہے انہیں سزائیں دی جارہی ہیں ۔ حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ معاملہ بین الاقوامی عدالت انصاف میں لے کر جائے ۔ عبدالقادر ملا جیسے لوگوں نے اپنے وقت کے آئین اور قانون کا ساتھ دیا تھا اور کوئی جرم نہیں کیا تھا۔ ڈرون حملوں کے بارے میں سید منور حسن نے کہا کہ یہ حملے امریکہ اور مشرف کے درمیان ہونے والے ایک خفیہ معاہدے کے نتیجے میں ہو رہے ہیں ۔ اس معاہدے کو پہلے زرداری نے جاری رکھا اور اب موجودہ حکمران اس کی پاسداری کر رہے ہیں ۔ امریکی کانگریس میں یہ بات ہوئی ہے کہ پاکستانی حکمران چاہیں تو ڈرون حملے فوری طور پر رک سکتے ہیں ۔ تعزیتی ریفرنس سے خطاب ک

یہ بھی پڑھیں  وزیراعظم نے ریپ کے مجرموں کو 'نامرد' کرنے کا قانون لانے کی منظوری دیدی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker