تازہ ترینکالممحمد مظہر رشید

منشیات کا زہر اور ہماری ذمہ داریاں

قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے ” اے ایمان والو بلاشبہ شراب اور جوا اور بت اور پانسے گندے شیطانی کام ہیں سوان سے بچتے رہوتاکہ تم فلاح پاؤ” دین اسلام کی بنیاد ہی پاکیزگی اوراخلاقی کردار کی بلندی پر رکھی گئی ہے ہم مسلمان بہت خوش قسمت ہیں کہ ہمارے پاس وہ کتاب ہے جس پر عمل کرکے ہم دنیا وآخرت میں سر خرو ہو سکتے ہیں۲۶ جون کوہر سال پوری دنیا بشمول پاکستان میں منشیات کے خلاف عالمی دن منایا جاتا ہے اقوام متحدہ نے ۱۹۸۷ سے اس دن کو منانے کا باقاعدہ آغاز کیا اس سلسلے میں سیمینار ،سمپوزیم،کیمپ،اور میڈیا کے زریعے زیادہ سے زیادہ آگہی پیدا کی جائے گی وطن عزیز پاکستان میں منشیات استعمال کرنے والے افراد کی تعداد ۶۰ لاکھ سے زائد ہے جوکہ مختلف قسموں کے نشے کرتے ہیں سرنجوں سے نشہ کرنے کا رجحان پچھلے چند سالوں میں بڑی تیزی سے پھیلا ہے کیوں کہ یہ نشہ سستا اور آسانی سے دستیاب ہوتا ہے اس کے علاوہ ایک ہی سرنج سے بہت سے افراد نشہ کرتے ہیں جس سے ہیپاٹائٹس اور ایڈز جیسی خطرناک بیماری لگنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے دس سے پندرہ سال کی عمر کے بچوں میں سلوشن سونگھنے کا نشہ عام ہے سلوشن کی نشہ آور بو اعصاب پر طاری ہوکر ذہن پر غنودگی سی طاری کر دیتی ہے جس سے وقتی طور پر سرور حاصل ہوتا ہے اور باربارسونگھنے سے اسکا نشہ چین نہیں لینے دیتا نشئی اسکا عادی ہوجاتا ہے سلوشن کا نشہ کرنے والے کو یہ نشہ آسانی سے دستیاب ہوتا ہے کیوں کہ سلوشن آسانی سے ہارڈویئر کی دکانوں اور جنر ل سٹوروں پر دستیاب ہوتا ہے سلوشن سے لکڑی،چمڑہ،گتہ وغیرہ جوڑا جاتا ہے سلوشن کا نشہ زیادہ ترچھوٹے گھر سے بھاگے ہوئے بچے کرتے پائے جاتے ہیں ایسے بچے جو بے راہ روی کا شکار ہو جاتے ہیں یا ایسی دکانوں /ورکشاپوں /ہوٹلوں میں کام پر لگادیے جاتے ہیں جہاں بڑی عمر کے دوسرے افراد انھیں ورغلا کر سگریٹ یاسلوشن جیسے خطرناک نشے پرلگا دیتے ہیں سلوشن کے نشے کا عادی شخص اپنے اعصاب کو پرسکون بنانے کے لیے اس کا استعمال مسلسل کرتا چلا جاتا ہے میڈیکل سٹوروں پر ہزاروں کی تعداد میں ایسی ادویات دستیاب ہوتی ہیں جنکو اگر لمبے عرصے کے لیے استعمال کیا جائے تو انسان اس کا عادی ہو جاتا ہے عوام کو سکون آور ادویات کے خطرنا ک اثرات سے آگاہ کرنے کی اشد ضرورت ہے منشیات سے مراد ایسی ادویا ت ہوتی ہیں جو وقتی طور پر ذہنی کیفیت کو بدلنے کی صلاحیتیں رکھتی ہوں پاکستانی قانون کے مطابق کسی مستند معالج کے نسخے کے بغیر ایسی ادویات کی فروخت منع ہے لیکن اس کے باوجود یہ ادویات آسانی سے میڈیکل سٹوروں سے مل سکتی ہیں وطن عزیز میں آج سے پندرہ سال پہلے خواتین خاص طور پرنوجوان لڑکیوں میں نشے کی وبا ء اس قدر نہیں پھیلی ہوئی تھی جتنی کہ آج ہے اب خاندانی نظام کی ٹوٹ پھوٹ،بے مقصد چیٹنگ،فحش ویب سائٹ تک آسان رسائی،کیبل سی ڈیز پر لچر واہیات پروگراموں نے نئی نسل کو دیگر منفی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ نشہ کا عادی بھی بنا دیا ہے پاکستان میں ہیروئن کا نشہ ۸۰ کی دہائی میں بڑی شدت سے اُبھرا۔حکومت نے اس کی شدت کو محسوس کرتے ہوئے اس کی ایک علیحدہ منسٹری اور منشیات کے کنٹرول کے لیے ایک باقاعدہ ادارہ اینٹی نارکوٹکس فورس بنایا اینٹی نارکوٹکس فورس پنجاب نے پچھلے چند سالوں میں NGOs کے تعاون سے عوام میں ایک بھر پور تحریک چلائی ہوئی ہے جوکہ ایک قابل تعریف اقدام ہے اس وقت اے این ایف پنجاب کے ساتھ تین سو این جی اوز کا نیٹ ورک کام کر رہا ہے جس میں سے چند این جی اوز کی کارکردگی انتہائی قابل تعریف ہے اسی طرح ۳۷ کے قریب مریضوں کی بحالی کے ادروں کو اے این ایف نے مالی طور پر سپورٹ کیا جن میں سے نصف کے قریب اپنی خدمات بھر پور طریقے سے ادا کررہے ہیں لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے ادارے ہر ڈسٹرکٹ میں قائم کیے جائیں اور ان کی کارکردگی کو مکمل طور پر مانیٹر کیا جائے منشیات کے طوفان کو نئی نسل تک پہنچنے سے روکنے کے لیے ہر شخص کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا نوجوانوں کو لائبریریوں ،سپورٹس کلبوں اور دیگر مثبت سر گرمیوں کی طرف راغب کرنے کے لیے دیر پا اور ٹھوس حکمت عملی اپنانا ہوگی ضلع اوکاڑہ میں قومی وسماجی تحریک ماڈا (رجسٹرڈ) نے پچھلے چند سالوں میں نوجوانوں کو معاشرتی وسماجی برائیوں سے بچانے کے لیے بھر پور کردار ادا کرتے ہوئے سیمینار ،ورکشاپس،واک،کانفرنسز منعقد کروائی ہیں ماڈا کا موٹو ہے "معاشرے کی رعنائی پڑھائی و بھلائی” ۔آجکل نشہ کی کئی اقسام متعارف ہو چکی ہیں جن میں سے چند ایک یہ ہیں چرس ، کوکین ،ایکس ٹی سی،ہیروئن،ہیلوسی نوجنز،میتھ ایمفیتامین۔اس کے علاوہ بے شمار ایسی ادویات ہیں جنکو مسلسل استعمال کرنے سے انسان اس کا عادی ہو جاتا ہے*

یہ بھی پڑھیں  مصطفی آباد/للیانی: سرالیوں نے استریاں لگا کر دو بچوں کی ماں کو قتل کر دیا

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

  1. nasha ek lant h ye jis gar mai gus jae gar k gar tbah kr deta.lkn ALLAH MADA waale SIR MAZHAR ko slamat rakhe jo is burai k bare mai aaghai program krte h.bohat achi baat h.agr hmare moashre mai har fard aisa soche ga tu wo din door nhe jub hum b traqi kren ge.INSHALLAH

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker