تازہ ترینذیشان انصاریکالم

منتخب نمائندہ سے حلقہ کی تواقعات

zeshanجس طرح صحافی ،کالم نگارحضرات اس مہنگائی کے دور میں ترقی یافتہ و آرام دہ اشیاء سے دور رہ کر زندگی بسر کرتے ہیں اور فی سبیل اللہ عوام کے مسائل کی آواز پوری دنیا تک پہنچاتے ہیں اسی طرح ہمارے ملک کے سیاستدان بھی اپنی جیب سے ماہانہ لاکھوں روپے خرچ کرنے کے بعد اپنے ڈیروں کی رونقیں آباد رکھنے میں کامیاب ہوتے رہے اور ہل علاقہ اپنے مسائل کے حل کے لئے سیاسی ڈیروں پر حاضری دیتے ہیں جہاں پر سیاسی شخصیات کے کار خاس شربت ،چائے اور روٹی سے سائلین ووٹروں کی خدمت کے لئے موجود ہو تے ، سابقہ ادوار میں زمیندار سیاست دان یہ فرائض سرانجام دیتے تھے مگر2013میں یہ کام تاجر سیاستدان سر انجام دیتے نظر آتے ہیں جو باآسانی لاکھوں روپے مہمان نوازی پر پورا سال خرچ کر سکتے ہیں
حلقہ پی پی130پر گذشتہ جمہوری دور میں مسلم لیگ نواز کے چوہدری یحیی گلنواز گھمن بر سر اقتدار تھے جن کی شرافت کی گواہی تو ان کے مخالفین بھی دیتے نظر آتے تھے کیونکہ 5سالوں میں شہر ڈسکہ میں کو ئی بھی سیاسی مقدمہ ان کی وجہ سے رجسٹرڈ نہیں ہوا اور مخالفین باآسانی اپنا جمہوری حق ادا کر تے رہے مگر ان کے کار خاص خوشامدی ٹولے نے ان کو 5سال میں اپنا سیاسی ڈیرہ نہیں بنانے دیا اور عوام اور حکمران کے درمیان دیوار کا کام سرانجام دیتے ہو ئے ووٹر اور حکمران میں دشمنی پیدا کر تے رہے سیاسی ڈیرے کی عدم موجودگی اور ووٹر کی دشمنی کی وجہ سے میاں برادران نے ان کو ٹکٹ سے محروم کر دیا
قارئیں جیسا کہ میں لکھتا رہا ہوں کہ ڈسکہ شہر شروع دن سے ہی مسلم لیگ کا گھر رہا ہے اور یہاں پر عوام امیدوار کی بجائے مسلم لیگ کو ووٹ کاسٹ کر تی آئی ہے، چاہے وہ کسی بھی برادری سے تعلق رکھتا ہومگر بدقسمتی سے مسلم لیگ کا ٹکٹ جس بھی امیدوار کو ملا وہ سمجھتا رہا کہ یہ کامیابی میری برادری اور دوستوں کی وجہ سے ہے اور مسلم لیگ کا ووٹ بینک کی بدولت نہیں ایک وقت تھا کہ آمرانہ دور میں تحصیل ڈسکہ نے ناصر چیمہ کو مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے تحصیل ناظم کا عہدہ دیا اور 11مئی کو جب وہ پی ٹی آئی کے صوبائی اسمبلی کے امیدوار تھے ان کو 32ہزارسے زیادہ ووٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔
11مئی کو56535افراد نے محمد آصف باجوہ کو ڈسکہ کی نمائندگی کے لئے چنا ہے مگر عوام نے ان سے توقعات بھی لگائی ہو ئی ہے کہ وہ سابقہ روایات کی پیروی کرنے کی بجائے عوام خدمت کا سہارا لیکر مستقل طور پر ٹکت پر قبضہ کر نے میں کامیاب ہو جائیں گے جیسا کہ میں لکھتا رہا ہوں کہ تحصیل ڈسکہ انسانی زندگی کی دو اہم ضروریات ،صحت و تعلیم سے محرومی کی زندگی بسر کر رہا ہے سرکاری سکولو ں کی پیداوار پر خانہ بہبود آبادی کا اثر ہو نے کی بدولت عرصہ دراز سے کو ئی نیا بڑا سکول بننے سے محروم ہے جہاں 5سال پہلے 40طالب علموں کی کلاس ہو تی تھی اب 100کی ہو تی ہے جہاں 2 سیکشن ہو تے تھے اب05سیکشن کی کلاسز ہے غریب تو پہلے ہی روٹی کا رونا روتا ہے اس لئے سرجیکل فیکٹریوں میں چائلڈ لیبر عام ہے ۔
کم عمری میں محنت کی بدولت ڈاکٹروں کی کمائی میں بہت ترقی ہو ئی ہے اور صرف ایک سرکاری ہسپتال کے اردگرد 10سے زیادہ 5سٹارسرکاری ڈاکٹروں کے پرائیویٹ ہسپتال ہیں جہاں پر باآسانی جنریٹر ،یو پی ایس ،ائیر کنڈیشنر اور ہیٹر کی سہولت میسر ہے مگر ان ہی ڈاکٹروں کی ٹیم سرکاری ہسپتال میں سہولیات دینے سے محروم کیوں ؟
ڈسکہ میں ریسکیو1122کے قیام کا خواب صرف راقم کا ہی نہیں ہے بلکہ 50%سے زیادہ عوام اس کے قیام کیلئے دن رات دعا گو نطر آتی ہے مگرحکمرانوں کو تو بلٹ پروف اور ائیر کنڈیشنڈ گاڑیوں کی فکر ہے
ڈسکہ میں منشیات کی دنیا میں اب صرف مرد ہی شامل نہیں خواتین نے بھی اپنا حق ادا کرنا شروع کردیا ہے فارغ ٹائم پاس کر نے کے لئے لائبریری ،؛کھیلوں کے میدان،تفریح گاہیں کی سہولتوں سے محرومی کی بدولت نوجوان /شادی شدہ عورتیں نسوار ،سگریٹ ،سپاری گٹکا کے نشے میں نظر آتی ہیں ۔
ماڈل تھانہ تو موجود ہے مگر ماڈل تعلیم سے محرومی کی بدولت 500رو پے میں انصاف کا سودا ہو جا تا ہے اور بے گناہ حوالات میں بند اور مجرم ہوا ئی جہاز کے ذریعے متحدہ عرب امارات چلا جاتا ہے پہلے تو مشکل کے بعد اعلی کوالٹی اشیاء خوردونوش میسر آجاتی تھی مگر آجکل تو3نمبراشیاء کوالٹی میسر آجائے تو جیسے آپ کوجمہوریت مل گئی
لکھاری برادری چاہتی ہے کہ ڈسکہ میں بھی لاہور کی طرح ادبی محفلوں وسرگرمیوں کا انعقاد کیا جائے، جہاں پر سینئراپنے جونیئر کی تربیت ورہنمائی کرسکئے اور ڈسکہ بھی ڈویژن گوجرانوالہ میں اعلیٰ مقام حاصل کرسکئے۔ بیشک تحقیق ومطالعہ سے ہی قومیں ترقی کرتی ہے اور جو قومیں مطالعہ کو خیرآباد کہہ دیتی ہے تو دنیا بھی ان کو اﷲحافظ کہہ دیتی ہے۔
یہ چند عوامی رائے آجکل حلقہ پی پی130کی عوام کر رہی ہے عوام پنجگانہ نماز کے بعد دعا میں مصروف نظر آتی ہے کہ یااللہ 56530افراد کے مینڈیٹ کو 10افراد /کار خاص کا ٹولاہائی جیک نہ کر ے اور آصف باجوہ سابقہ حکمرانوں کی طرح سب اچھا کی رپورٹ لیکر عوام کو دشمن نہ بنابیٹھے اور آئندہ الیکشن میں مسلم لیگ کو نئے امیدوارکی تلاش کر نی پڑ جائی آصف باجوہ کو چاہئیے کہ وہ سب سے پہلے اپنا سیاسی ڈیرہ آباد کرے اور ووٹر سے براہ راست رابطہ قائم کرے اورہر ممکن کوشش کرکہ خوشامدی ان سے دور رہیں اور عوامی مسائل بغیر رشوت کے حل ہو جائے ایسا نہ ہو کہ ان کے کار خاص ترقیوں /تبادلوں سے عوامی جیبوں کوخالی کرتے رہے ۔

یہ بھی پڑھیں  ریسکیو1122، 16سے 22اپریل تک ارتھ ویک منائےگی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker