شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / مقام و شان والدہِ محترمہ !!

مقام و شان والدہِ محترمہ !!

کاش میری ماں زندہ ہوتی اور میں عشاء کی نماز کے لئے ’’مصلیٰ ‘‘پر کھڑا ہوتااورسورۃ فاتحہ شروع کر چکا ہوتا، ادھر سے میرے گھر کا دروازہ کھلتا اور میری ماں پکارتی؛ محمد؛(ﷺ) تو میں ان کے لئے نماز توڑ دیتا اور میں کہتا ’لبیک یا اماں‘
مکہ اور مدینہ کے درمیان مقامِ ابواء کی پہاڑیوں اور بیابانوں میں وہ جگہ جہاں پیارے پیارے مدنی مکی تاجدارِ مدینہ نبی احمد مجتبیٰ ﷺ کی والدہ محرحومہ و مغفورہ حضرت بی بی آمنہ رضی اللہ عنہاکی قبر مبارک ہے، آپ ﷺ نے اپنی والدہ کی قبر مبارک کے سرہانے بیٹھ کر سر گھٹنوں میں دے کر پیارے آقا ﷺ نے ہچکیاں لیکر اپنی والدہ کی جدائی میں گھنٹوں کے حساب سے روئے حتیٰ کہ داڈھی مبارک بھی آنسو سے تر ہوگئی،آپ ﷺ کی دنیاوی عمر 53 سال تھی اور جب نبی آخر الزماں ﷺ والدہ کے ساتھ سفر پر اسی مقام پر پہنچے تھے اُس وقت سارے جہانوں کے سردار، محسن انسانیت ﷺ کی عمر مبارک 6 سال تھی جب ماں اور بیٹے میں دنیاوی ( ظاہری )جدائی اللہ پاک کے حکم سے آئی تھی۔ میٹھے میٹھے آقاﷺ چھ سال کی عمر میں والہ ماجدہ حضرت آمنہ رضہ اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال ہو گیاتھا۔اسلام میں اللہ پاک نے اپنی بندگی کے ساتھ ساتھ ماں باپ کے ساتھ احسانِ عظیم کرنے کا حکم دیا ہے۔
قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر نازل کی گئی آخری کتاب ہے اور یہ کتاب ہدایت وانقلاب ہے اس میں ماں باپ سے حسن سلوک اور خدمت کا حکم اللہ تعالیٰ کی توحید اور عبادت کے ساتھ ساتھ دیا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے اعمال میں اللہ کی عبادت کے بعد ماں باپ کی خدمت اور راحت رسانی مقام بلند کے حصول کا ذریعہ بنتی ہے۔
قرآن کریم میں ارشاد ہے
’’اور تمہارے رب کا قطعی حکم ہے کہ صرف اسی کی عبادت کر و اور ماں باپ کے ساتھ اچھا برتاواور ان کی خدمت کرو‘‘۔(سورہ بنی اسرائیل)
رسول اللہ ﷺ نے ماں باپ کے حقوق اور ان سے متعلق اولاد کے فرائض کے بارے میں جو فرمایا وہ دراصل قرآن کریم کی ان آیات کی تفسیر و تشریح ہے۔حدیث مبارکہ میں رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے
’’اللہ کی رضامندی والد کی رضا مندی میں ہے اور اللہ کی ناراضگی والد کی ناراضگی میں ہے‘‘۔(جامع ترمذی)
رسول اللہ سے جب بڑے گناہوں کے بارے میں دریافت کیا گیا توآپ نے فرمایا خداکے ساتھ شریک ٹھہرانا،ماں باپ کی نافرمانی و ایذارسانی کرنا،کسی بندہ کو ناحق قتل کرنا اور جھوٹی گواہی دینا(بخاری شریف) والدین کے جواحسانات اولاد پر ہیں وہ تمام عمر کی خدمت سے بھی ادا نہیں ہو سکتے والدین نے پرورش کی،مشقتیں اٹھائیں وہ سب معروف اور معلوم ہیں اس کے باوجود اگر کوئی تنگ دل شخص والدین کے حقوق ادا نہیں کرتا اور انہیں دکھ دیتا ہے تو وہ درحقیقت ایمان کی حقیقی دولت سے محروم ہے۔
قرآن کریم میں والدین کا مقام واضح کیا گیااوران کے احترام کے لئے ارشاد فرمایا گیا ہے ’’اے پروردگار مجھے نماز قائم کرنے والابنا اور میری اولاد سے بھی ایسے لوگ اٹھا جو یہ کام کریں۔پروردگار میری دعا قبول کر۔پروردگار مجھے اور میرے والدین کو اور سب ایمان لانے والوں کو اس دن معاف کر دیجئے جبکہ حساب قائم ہو گا (سورہ ابراہیم ۴۱۔۴۰)اسی طرح قرآن کریم میں یہ بھی واضح ارشاد ہے ’’ہم نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے لیکن اگر وہ تجھ پر زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی ایسے کو شریک ٹھہرائے جسے تو (میرے شریک کی حیثیت سے)نہیں جانتا ان کی اطاعت نہ کر‘‘۔(سور? العنکبوت آیت۸)
والدین کے ساتھ حسن سلوک کا بار بارتذکرہ آیا ہے والدین کا بڑا مقام ہے اور یہ مقام اللہ نے خودطے کر دیا ہے والدین حسن سلوک و آداب واحترام کے سب سے زیادہ حق دار ہیں۔حضرت ابو ہریرہؓ نے بیان کرتے ہیں کہ ایک صحابی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضرہوئے اور عرض کیا یار سول اللہ ﷺ میرے اچھے سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟فرمایا کہ تیری ماں پھرپوچھا اس کے بعد کون، فرمایاکہ تیری ماں پھرپوچھا اس کے بعدکون آپ نے فرمایا تیری ماں انہوں نے پھر پوچھا ماں کے بعد کون آپ نے فرمایا کہ تیری ماں۔پوچھا اس کے بعد کون آپ نے فرمایاتیر اباپ (بخاری)حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے بیان کرتے ہیں کہ ایک صحابی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے جہاد میں شرکت کی اجازت چاہی آپ نے ان سے دریافت فرمایا کیا تمہارے ماں باپ زندہ ہیں انہوں نے کہاجی ہاں آپ نے فرمایا کہ پھر انہی میں جہاد کر و(یعنی ان کی خدمت کروانہیں خوش رکھنے کی کوشش کرو)۔(بخاری)
والدین کے لئے بھی رسول اللہ ﷺنے ہدایات دیں اوراولاد کے لیے اس عظیم نعمت سے آگاہ فرمایا حضرت سعید بن العاصؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ماں باپ نے اپنی اولاد کو کوئی عطیہ اور تحفہ حسن ادب اور اچھی تربیت سے بہتر نہیں دیا۔نیک اولاد دنیا میں بڑی نعمت ہے، آنکھوں کی ٹھنڈک اورآخرت کے لئے صدقہ جاریہ ہے لیکن یہی اولاد اخلاقی اوردینی قدروں سے بیگانہ ہو تو خمیازہ والدین کو ہی بھگتنا ہوتا ہے، اس لئے ابتدائسے ہی والدین بہتر تدابیر اختیار کریں،ابتدائسے ہی اولاد کی دینی تربیت کی فکر کریں۔رسول اللہ کا فرمان ہے کہ بچے کو والدین کاپہلا بہترین تحفہ اس کا نام ہے اس لئے اچھانام رکھئے جس کامعنی و مفہوم اچھا ہو۔غیر اسلامی اور غیر شرعی نہ ہو۔بچہ بولنے لگے تو اس کی زبان کا افتتاح اللہ کے نام اور کلمہ طیبہ سے کراو
ولاد کی خوش بختی ہے کہ وہ اپنے والدین کی خدمت کرے، وہ دنیا سے رخصت ہو جائیں تو ان کے لئے مغفرت کی دعا کرے،اولاد کے نیک اعمال والدین کی بخشش اور درجات کی بلندی کا ذریعہ بنتے ہیں۔والدین کی رضامندی میں اللہ تعالیٰ کی رضامندی ہوتی ہے۔والدین کے لئے نیکی کی یہ عظمت ہے کہ حضرت حارث بن نعمانؓ اپنے والدین کے لئے قرآن پڑھتے تھے رسول اللہ نے بحالت خواب ان کے قرآن پڑھنے کی آواز جنت میں سنی والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے سے اللہ تعالیٰ کاکتنا قرب ملتا ہے۔وَ اخفِض لَھُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحمَ?ِ۔’’نرمی و رحم کے ساتھ ان کے سامنے جھک کر رہو‘‘۔یعنی کمال تواضع،عاجزی،انکساری اور شفقت کاان سے برتاوکیا جائے۔والدین کے لیے تواضع ازراہ شفقت فرض ہے نہ ازراہ عارو ننگ۔بعض نادان سمجھتے ہیں کہ والدین کو روٹی کپڑا دو تاکہ لوگ طعنہ نہ دیں کہ فلاں اپنے والدین کا نافرمان ہے ان کا خیال نہیں رکھتا لیکن بعض اس عاروننگ سے بچنے کے لئے والدین کی واجبی دیکھ بھال کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ والدین کی خدمت،تواضع ازراہ شفقت محبت کرو اور والدین کے لئے دعا کرو کہ اے میرے رب توان دونوں پر رحم کر جیسے ان دونوں نے مجھے پرورش کیا حالانکہ میں چھوٹاتھا۔
آج اُمت محمدیہ ہر جگہ زوال کا شکار ہے جسکی بنیادی وجوہات میں تین چیزیں شامل ہیں۔نمبر 1 سیرت النبی ﷺ سے لاتعلقی، نمبر 2 تعلیم و تربیت کا فقدان نمبر 3 والدین کے حقوق کا نظرِ انداز کرنا
اس سے قبل کہ میں آپ سے اجازت چاہوں بطور عبرت اسلامی تاریخ کا ایک سنہری واقعہ سناتا ہوں تاکہ ماں کا مقام بھولنے نہ پائے،حضرت علقمہؓ نماز روزہ اور صدقہ دینے میں بڑے فراخ دل تھے،جب موت کا وقت آیا تو صحابہ اکرامؓ کے تلقین کرنے کے باوجود بھی نزع کے وقت زبان مبارک پر کلمہ جاری نہ ہو رہا تھا، جب رسول اللہ ﷺ کو اطلاع دی گئی تو آپ ﷺ نے حضرت علقمہؓ کی والدہ کو بلایا گیا تو والدہ نے بتایا کہ وہ اپنے بیٹے حضرت علقمہؓ سے اس وجہ سے ناراہے کہ میرا بیٹا مجھ سے زیادہ اہمیت اپنی بیوی کو دیتا ہے، اللہ پاک کے پیارے رسول خدا ﷺ نے اپنے پاس کھڑیایک صحابیؓ کو کہا جاؤ لکڑیاں لاؤں حضرت علقمہؓ کی والدہتجسس سے بولی یا رسول اللہ ﷺلکڑیاں کیوں منگوا رہے ہیں؟آپ ﷺ نے فرمایا حضرت علقمہ کو جلائیں گئے، ماں بولی مجھ سے برداشت نہیں ہو سکتا کہ آپ ﷺ میرے سامنے میرے بیٹے کو جلائیں،اللہ پاک کے پیارے رسول ﷺ نے علقمہ کی ماں سے کہا اللہ کا عزاب تو اس سے بھی سخت ہے، اگر تو چاہتی ہے اللہ پاک علقمہؓ کی مغفرت فرمائیں تو معاف کر دیں ورنہ جلانا بھی پڑے گا اور اللہ کا عزاب بھی ہو گا، علقمہ کی ماں نے کہا میں اللہ پاک کو حاضر جان کر آپ ﷺ کی موجودگی اور صحابہ کرام کی گواہی میں معاف کرتی ہوں۔پھر زبان پر کلمہ بھی جاری ہو گیا اور روح بھی پرواز کر گئی۔ثابت ہوا جنکی والدہ ناراض ہوں ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک عزاب ہیں بے شک وہ نماز روزہ اور صدقہ خیرات کرنے والے ہوں، دعا ہیں اللہ پاک سب کو ماں اور باپ کا فرمانبردار بنائے تا کہ دنیا اور آخرت میں کامیابی و کامرانی نصیب بن سکے

error: Content is Protected!!