پاکستان

پارلیمنٹ قومی سلامتی کے حوالے سے جرات مندانہ اقدامات کرے ،مشاہد حسین سید

اسلام آباد﴿پ ۔ر ﴾:پاکستان مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ قومی سلامتی کے حوالے سے جرات مندانہ اقدامات کرے اور نیٹو سپلائی خوف سے نکل کر عوامی امنگوں کے مطابق فیصلہ کیا جائے ۔ یہ پہلا موقع ہے کہ حکومت اور اپوزیشن قومی ایشو پر اکٹھے ہیں اور ملکی سلامتی کی خاطر پارلیمنٹ کے فیصلے کو ایک کلیدی حیثیت حاصل ہو گی ۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے اسلام آباد کے نواحی قصبے پنڈ بھگوال میں اپنی مدد آپ کے تحت چلنے والے ایک تعلیمی ادارے کی تقریب ’ہائوس آف لائیٹ‘ سالانہ تقریب تقسیم انعامات میں خطاب اور میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔ مشاہد حسین سید نے کہا کہ سیاستدان ہمیشہ یہ رونا روتے ہیں کہ فیصلے بند کمرے میں ہوتے ہیں لیکن اب قومی سلامتی کے حوالے سے پارلیمنٹ میں فیصلہ ہونے جا رہا ہے ۔ سیاستدان خوف کے سائے سے باہر نکلیں اور عوام کے احساسات و جذبات کی صحیحج ترجمانی کریں ۔انہوںنے کہا کہ اگر ملکی مفاد میں کوئی مثبت فیصلہ نہیں کر پائے تو تاریخ اور عوام معاف نہیں کریں گے ۔مشاہد حسین سید نے کہا کہ موجود ہ حالات میں سپریم کورٹ قانون پر عملدر آمد کے حوالے سے جامع کردار ادا کر رہا ہے ،چیف جسٹس دبنگ اور دلیر ہیں وہ ایسے ایشوز کو اٹھا رہے ہیں جن کو ماضی میں لوگ دیکھنے سے ڈرتے تھے ۔ سپریم کورٹ کے اقدامات کے نتیجے میں ملک میں کرپشن میں کمی آتی جا رہی ہے ۔ رینٹل پاور کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ تاریخی ہے اور یہ کیس مسلم لیگ ق ہی سپریم کورٹ لے کر گئی تھی ۔ مشاہد حسین سید نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی ،توانائی کے بحران پر ہمیں تشویش ہے ،پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ زیادتی اور حکومت کی نااہلی ہے ، عوام پر بے جا بوجھ ڈالا جا رہا ہے اور حکومتی نالائقی کے نتیجے میں توانائی کا بحران سنگین ہو گیا ہے جسے ہنگامی بنیادوں پر حل کیا جائے اور وزیر اعظم اس سلسلے میں اپنا کردارا دا کریں ۔انہوںنے کہا کہ امیر ٹیکس نہیں دیتے جبکہ عوام پر نت نئے ٹیکسوںکا بوجھ ڈالا جا رہا ہے ،معاشی حالات کو بہتر بنانے کے لئے نئی تدابیر اور حکمت عملی اختیار کی جائے ۔کراچی میں امن وامان کے متعلق سوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ ہمیں کراچی کے حالات پر تشویش ہے ،کراچی منی پاکستان ہے اور وہاں رونما ہونے والے واقعات کے اثرات پورے پاکستان میں پہنچتے ہیں ، کراچی میں بھتہ خوری اور بلیک میلنگ کو ختم کیا جائے اور قانون کی بالادستی اور امن و امان کے لئے بنیادی اقدامات اٹھائے جائیں ۔ دریں اثنائ سکول کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مشاہد حسین سیدکا کہنا تھا کہ مسلم معاشرے کا المیہ تعلیم ہے جب سے تعلیم اور تحقیق کے دروازے بند کئے گئے ہیں معاشرے میں تنگ نظری ،عدم برداشت اور دوسرے مسائل نے جنم لیا ہے ۔انہوںنے کہا کہ اگر پاک وہند میں علی گڑھ یونیورسٹی نہ ہوتی تو مسلمانوں کو تعلیم یافتہ قیادت میسر نہ آتی اور پاکستان کا قیام ممکن نہ ہوتا۔ انہوںنے کہا کہ قائداعظم اور علامہ اقبال کے پاس ایک ویژن اور سوچ تھی جس کی وجہ سے پاکستان کا قیام ممکن ہوا ۔انہوںنے کہا کہ نئی نسل کو تعلیم سے آراستہ کر کے معاشر ے میں برداشت ،ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکتا ہے ۔مشاہد حسین سید نے یقین دلایا کہ بطور سینیٹر تعلیمی مسائل اور علاقے کی پسماندگی کو دور کرنے کے لئے پارلیمنٹ میں آواز اٹھائیں گے ۔تقریب سے سکول کی پرنسپل سعدیہ فیصل اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا ۔ مشاہد حسین سید نے کامیاب طلباوطالبات میں شیلڈ اور انعامات تقسیم کیں ۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker