پاکستان

اسلام آباد:قومی سلامتی کے حوالے سے حکمت عملی ترتیب دینی چاہیئے ، مشاہد حسین سید

اسلام آباد﴿پریس ریلیز﴾:پاکستان مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ قومی سلامتی کے حوالے سے حکمت عملی ترتیب دینی چاہیئے ،بطور چیئرمین سینٹ خارجہ کمیٹی تاریخ میں پہلی مرتبہ نیو کلیئر پروگرام پر پارلیمانی بریفنگ کرائی تھی، یہ کام ابھی تک بھارت کی پارلیمنٹ میں بھی نہیں کیا گیا ۔ بدلتے ہوئے حالات میں رولز آف گیم بن گئے ہیں ۔ سفارتی ،دفاعی اور دیگر امور پر سیاسی جماعتوں ،سول سوسائٹی اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیئے ۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے پلڈاٹ کے زیر اہتمام سول ملٹری تعلقات پر منعقدہ قومی مباحثہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مباحثہ سے سینیٹر رضا ربانی، سینیٹر فرحت اللہ بابر، احمد بلال محبوب اور سینئر صحافی حافظ طاہر خلیل نے بھی خطاب کیا۔ سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ قومی سلامتی کا ایشو سب سے اہم ہے ،اس پر کوئی ایک جماعت اور ادارہ فیصلہ نہیں کرسکتا اس کے لئے پارلیمنٹ ،سول سوسائٹی ،سیاسی جماعتوں ،عدلیہ اور میڈیا کو اعتماد میں لینا ہو گا ۔ انہوںنے کہا کہ قومی سلامتی کے متعلق سوچ کو بدلنا ہو گا، سلامتی کے امور میں مسلح افواج ،جہاز ،ٹینک اور آرٹلری ہی نہیں ، آئین ،پارلیمنٹ ،معیشت ،تعلیم ،توانائی ،خوراک ،ماحول کو قومی سلامتی کا حصہ بنانا چاہیئے ،کیونکہ پاکستان کو روایتی خطرات کے ساتھ ساتھ ان غیر روایتی خطرات کا بھی سامنا ہے ،مشاہد حسین سید نے کہا کہ نیشنل سیکیورٹی کے حوالے سے حکمت عملی کا ہدف قومی سلامتی کمیٹی کو دینا چاہیئے جو ہر دو سال کے لئے اپنی حکمت عملی وضع کرے تا کہ درپیش خطرات سے نمٹنے کے لئے بہتر حکمت عملی اختیار کی جا سکے ۔ انہوںنے کہا کہ ایٹمی قوت بنانے کا فیصلہ ایک سول حکومت نے کیا تھا اور 18سال تک تین سول افراد غلام اسحاق خان ، اے جی ایم قاضی اور آغا شاہی نے چلایا اور ایک سول حکومت ہی نے ایٹمی دھماکہ کرایا۔ انہوںنے کہا کہ اختیارات کا توازن تبدیل ہو رہا ہے جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں ۔ سلالہ چیک پوسٹ کے واقعہ پر کہا کہ یہ ردعمل عاضی ہے مگر وقت نے ثابت کر دیاکہ جب کوئی ارادہ پالیسی مرتب کرتا ہے تو اس کے بہتر نتائج سامنے آتے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ قومی سلامتی کے امور کے متعلق میڈیا کے ذریعے آگاہی عام کی جائے اس کے بہتر نتائج حاصل ہو ں گے۔ سینئر صحافی حافظ طاہر خلیل نے کہا کہ پہلے معاملات کو قومی سلامتی کے نام پر چھپایا جاتا تھا مگر اب تبدیلی آ رہی ہے اس میں سوشل میڈیا کا اہم کردار رہا ہے ۔ جس نے اپنے ذرائ سے عوام کو باخبر رکھا ہے لیکن پارلیمنٹ کی دیگر کمیٹیوں کی طرح دفاعی کمیٹی کی رپورٹس کو عام نہیں ،ان تک میڈیا کی رسائی ہونی چاہیئے ۔انہوںنے کہا کہ ملک میں پہلی مرتبہ ایک فوجی حکمران جنرل مشرف کے دور اقتدار میں معلومات تک رسائی دی گئی اس کو مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے ۔انہوںنے کہا کہ اگر دفاعی معاملات جن کا تعلق قومی سلامتی سے نہ ہو تک میڈیا کی رسائی ہو گی تو معاملات بہتر انداز میں حل ہو ں گے ۔انہوںنے کہا کہ پی او ایف جو چالیس ممالک کو اسلحہ برآمد کرتا تھا کی پیداواری صلاحیت کم ہو گئی ہے جبکہ ایک اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایئر فورس کے پاس 10سالہ پرانے جہاز ہیں ۔یہ وہ معاملات ہیں جو پارلیمنٹ اور میڈیا کی رسائی کے بعد بہتر ہوں گے