تازہ ترینکالممحمد عمران فاروق

مشاہد اللہ کے بیان کا ایک پہلو

imran farooqیومِ آزادی کی شام سارا مزا کرکرا ہو گیا جب مشاہد اللہ نے بی بی سی کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے الزام لگایا کہ دھرنہ کے دوران سابق ڈی جی آئی ۔ایس ۔ آئی جنرل ظہیر الاسلام نے سول اور ملٹری قیادت کا تختہ اُلٹنے کی سازش کی تھی ۔ وزیر اعظم ہاؤس پر قبضہ کیلئے بھیجا جانے والا اسلحہ دو گاڑیوں سمیت پکڑا گیا تھا ۔ اسی لیئے وزیر اعظم اپنے خاندان کے ہمراہ لاہور منتقل ہو گئے تھے ۔ آئی بی چیف نے ایک گفتگو ٹیپ کی تھی جس میں ڈی جی آئی ایس آئی ظہیر الاسلام پی ۔ایم ہاؤس پر قبضہ کے لیے ہدایات دے رہے تھے۔ بعد ازاں وزیر اعظم نے ایک میٹنگ کے دوران چیف آف آرمی سٹاف کویہ ٹیپ سنائی ۔ آرمی چیف نے اُسی وقت ڈی جی آئی ایس آئی کو طلب کیا ۔ وزیر اعظم کی موجو دگی میں ڈی جی آئی ایس آئی نے اپنی آواز کی تصدیق کی ۔ جس پر چیف آف آرمی سٹاف نے اُنہیں فوراً میٹنگ سے نکا ل دیا ۔ مشاہد اللہ نے یہ بھی فر مایا کہ لندن میں عمران خان اور طاہر القادری کے درمیان ہونے والی ملا قات میں بھی آئی ایس آئی کے لوگ موجود تھے ۔ مشاہد اللہ کے اس بیان نے اعلیٰ ایوانوں میں بھونچال بر پا کر دیا ۔ جسکے فوراً بعدپرویز رشید وزیرِ اطلاعات نے ایسی کسی ٹیپ کے وجود سے ہی انکار کر دیا ۔مشاہد اللہ صاحب نے بھی اپنے بیان کی تردید کر دی اور کہا کہ سیاق و سباق سے ہٹ اُن کا انٹر ویو نشر کیا گیا ہے ۔
مشاہد اللہ کی بیان کردہ رام کہانی نے سوچ کے کئی دریچے کھول دیئے ہیں اور نئے نئے سوالات کو جنم دیا ہے ۔ مثلاً 1 – کیا ایٹمی پاکستان کی برّی فوج کے سربراہ کا تختہ اُلٹنا اتنا ہی آسان ہے کہ ایک تھری سٹار جنرل بھی اُسکے خلاف سازش کر سکتا ہے؟ 2 – کیا ملٹری انٹیلی جنس یونٹ سویا ہوا تھا جو اِس سازش سے بے خبر تھا ؟ 3 – دھرنہ کے ایک سال بعد جب ملک کو سیاسی استحکام نصیب ہونے لگا تھا تو آئی ایس آئی کے ڈی جی کو رگیدنے کی کیا ضرورت تھی؟ 4 – کیا مشاہد اللہ اپنے ہوش و حواس کھو چکے ہیں جو بین الاقوامی نشریاتی ادارہ پر آئی ایس آئی کے خلاف بیانات داغ رہے ہیں ؟ 5 – کیا حالات کی پیش بینی کے تناظر میں ایک سوچی سمجھی چال چلی گئی ہے ؟
پاکستانی فو ج کا انفراسٹرکچر بر طانوی فوج سے مستعار لیا گیا ہے ۔ نظم و ضبط (Discipline) کو ایک خاص اہمیت ہے ۔ نواب زادہ لیاقت علی خان ، ذوالفقار بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے ادوار میں تختہ اُلٹنے کی کوششوں میں ملوث تمام افسران کا کورٹ مارشل کیا گیا ۔ جنرل راحیل شریف ایک مکمل فوجی ہیں ۔ لہذا اُنکے خلاف فوج میں بغاوت کا تصور نا ممکن ہے ۔ اور اگر ایسا کوئی معاملہ ہوتا تو اُس میں ملوث افسران کو ضرور سزا دی جاتی ۔ مسلم لیگی ہاکس کے بیانات اور وزیر اعظم صاحب کا بھارت کیطرف جھکاؤ گو کہ فوج کیلئے ناگوار ضرور ہے۔ مگرہمیں یہ بھی ذہن نشین کر لینا چاہیئے کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے ۔ ایٹمی طاقت ہونے کے ناطے چیف آف آرمی سٹاف کا کردار بڑھ جا تا ہے ۔ لہذا آرمی چیف کے خلا ف جسارت ناممکن ہے ۔ حکومتی ایوانوں میں ہو سکتا ہے کہ کسی ممکنہ سازش یا فوجی مہم جوئی کا اندیشہ پایا جاتا ہو ۔ اور اسی خدشہ کے پیش نظر مشاہد اللہ کو یہ ٹاسک سونپا گیا ہو ۔ مشاہد اللہ کا مسلم لیگ (ن ) سے تعلق گہرا اور پرانا ہے۔ کراچی میں مسلم لیگ (ن) کی کوئی سیاسی طاقت نہیں لیکن مشاہد اللہ کی ثابت قدمی ہی اُنکا سب سے بڑا اثاثہ ہے ۔ ایسی صورتحال میں اُنکی قربانی جائز ہے ۔
وزیر داخلہ چوہدری نثار علیخان نے اپنی سابقہ پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ملک کو ایک ایسا حساس معاملہ در پیش ہے ۔اگر میں یہ معاملہ اخبار نویسوں سے شیئر (Share) کروں تو بھونچال آجا ئیگا ۔ اُسکے دو تین روز بعد خواجہ آصف نے اشاروں کنایوں میں جنرل (ر) شجاع پاشا اور جنرل (ر) ظہیر الا سلام کو دھرنہ کا خالق قرار دیا تھا ۔ مشاہد اللہ خاں شاعرانہ مزاج رکھتے ہیں ۔ مختلف ٹی وی چینلز پر جارحانہ انداز میں پارٹی مؤ قف پیش کرنے میں پیش پیش رہے ہیں ۔ لہذا اُنکی ذہنی حالت کے بارے میں کسی ناقص رائے کا اظہار نہیں کیا جا سکتا ۔ ضربِ عضب اور کراچی آپریشن میں کامیابی سے فوج کی شہرت اپنے عروج پر ہے ۔ جوڈیشل کمیشن کے فیصلے کے بعد ملک میںآہستہ آہستہ سیاسی استحکام بڑھ رہا ہے ۔ پھر اس اِرتعاش کی کیا ضرورت تھی؟ لگتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے ۔ جسکی وجہ سے حکومتی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے ۔ خدائے بزرگ و برتر سے دعا ہے کہ وہ ہمارے وطن کو مزید تجربوں کی نذر ہونے سے بچائے ۔ تاکہ ملک میں سیاسی و معاشی استحکام پیدا ہو سکے۔ (آمین)

یہ بھی پڑھیں  فنکار سرحدوں کا نہیں پرستاروں کی محبت کا محتاج ہوتا ہے ،استاد حامد علی خان

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker