پاکستانتازہ ترین

آئی جی اسلام آبادنے بھی مشرف کو لال مسجد کیس میں بے گناہ قراردےدیا

mushrafاسلام آباد(بیورو رپورٹ)انسپکٹر جنرل اسلام آباد پولیس سکندر حیات نے بھی سابق صدر جنرل(ر) پرویز مشرف کو لال مسجد کیس میں بے گناہ قرار دے دیا ہے تاہم ان کے خلاف غازی عبدالرشید قتل کیس ختم کرنے کے تاثر کو رد کرتے ہوئے کہا کہ جنرل (ر) پرویز مشرف غازی عبدالرشید اور ان کی والدہ کے قتل کیس میں ضمانت پر رہا ہوئے ہیں مقدمہ سے بری نہیں ہوئے۔مدعی مقدمہ اور ان کے وکلاء کی مرضی کے مطابق بنائی گئی وفاقی پولیس کی اعلی تحقیقاتی ٹیم نے بغیر کسی دباؤ اور ڈر خوف کے میریٹ پر مقدمہ کا چالان مکمل کر کے عدالت میں پیش کیا تاہم ابھی تک تفتیش کے عمل میں کوئی بھی ایسی چیز یا ثبوت سامنے نہیں آیا جس سے ملزم پر لگایا گیا الزام ثابت ہو سکتا۔مقدمہ ابھی زیر تفتیش ہے اور کھلا ہے جس میں مدعی مقدمہ کو مزید شواہد اور ثبوت پیش کرنے کی کھلی اجازت ہے جبکہ لال مسجد آپریشن میں سابق حکومت کے دیگر کرداروں و نامزد ملزمان کو بھی شامل تفتیش کیا جائے گا۔محرم الحرام کے 177جلوسوں اور 909مجالس کی ویڈیو ریکارڈنگ کی جائے کی سیکورٹی کے تمام ممکنہ انتظامات کیے جائیں گے۔14جلوسوں کو حساس قرار دیا گیا ہے مگر وفاقی پولیس نے تمام جلوسوں کو اے کیٹیگری میں رکھا ہوا ہے جس کے سیکیورٹی ریڈ الرٹ ہے۔اان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز سینٹر پولیس آفس(سی پی او) میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر اے آئی جی آپریشنز سلطان اعظم تیموری بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی اسلام آباد کا کہنا تھا کہ لال مسجد آپریشن کے دوران قتل ہونے والے غازی عبدالرشید اور ان کی والدہ کے قتل کا مقدمہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر وفاقی پولیس نے ناصرف درج کیا بلکہ مدعی مقدمہ اور ان کے وکلاء کی مرضی کے مطابق ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹر کی سربراہی میں اعلی پولیس افسران پر مشتمل پانچ رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے کر مقدمہ کی تفتیش شروع کی۔پولیس نے باقاعدہ ملزم کو گرفتار کیا اس کا اور مدعی مقدمہ کا بیان ریکارڈ کیا۔مدعی مقدمہ ہارون الرشید غازی نے مقدمہ کی تفتیش کے لئے پولیس کی اعلی تحقیقاتی ٹیم کو 19گواہوں کی لسٹ پیش کی تھی جن میں سے 3گواہوں نے آکر خود بیان ریکارڈ کروائے جبکہ دو گواہوں نے اپنے بیان لکھ دستخطوں کے ساتھ تحقیقاتی ٹیم کو بھیجے تاہم باقی چودہ کے چودہ گواہوں میں سے کوئی بھی اپنا بیان ریکارڈ کروانے کے لئے پیش نہیں ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ مدعی مقدمہ کی طرف سے پیش کی گئی گواہوں کی لسٹ میں سے کوئی بھی عینی شاہد نہیں تھا بلکہ کسی نے آپریشن کے بارے میں اخبار میں پڑھا تھا ،کسی نے ٹی وی پر دیکھا تھا اور کسی نے سنا تھا مگر پولیس کو قانون کے مطابق چودہ روز میں چالان مکمل کر کے عدالت میں پیش کرنا تھا اس کے علاوہ مدعی مقدمہ کی طرف سے دو سی ڈیز بھی پیش کی تھیں جنہیں پولیس کی تحقیقاتی ٹیم اور عدالت نے دیکھا تاہم مدعی مقدمہ کی جانب سے پیش کردہ شواہد میں کوئی بھی ایسی چیز نہیں تھی جس سے جنرل( ر) پرویز مشرف پر الزام ثابت ہو سکتا ۔آئی جی اسلام آباد نے مزید کہا کہ وہ اپنی پریس کانفرنس کے ذریعے یہ بات واضح کرنا چاہتے ہیں کہ پرویز مشرف کو صرف عدالت نے اس مقدمہ میں ضمانت پر رہا کیا ان کے خلاف کیس ابھی زیر تفتیش ہے کیس ختم نہیں ہوا اس لئے مدعی مقدمہ کو کھلی اجازت ہے کہ وہ اس مقدمہ میں مزید جو بھی ثبوت یا شواہد پیش کرنا چاہتے ہیں تو پولیس ان کو میریٹ پر دیکھے گی۔وفاقی پولیس پر غازی عبدالرشید قتل کیس میں دباؤ کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں آئی جی اسلام آباد کا کہنا تھاکہ یہ تاثر غلط ہے پولیس پر کسی قسم کا نہ تو دباؤ تھا اور نہ ہی یہ کوئی مک مکا تھا بلکہ حالات کے مطابق پولیس کے لئے ملزم کو چالان کرنا میریٹ پر تفتیش کی نسبت زیادہ آسان تھا۔ان کا کہنا تھا کہ الزام علیہ کو اپنا دفاع کرنا ہوتا ہے جبکہ مدعی مقدمہ کو الزام ثابت کرنا ہوتا ہے جو وہ ابھی تک نہیں کرسکے۔ایک سوال کے جواب میں آئی جی اسلام آباد نے واضح کیا کہ سابق حکومت(مشرف حکومت) کے دیگر کرداروں کو وفاقی پولیس اس مقدمہ میں شامل تفتیش کرے جن میں سے بعض بیرون ملک ہیں جس کے باعث ابھی تک انہیں شامل تفتیش نہیں کیا گیا جبکہ فوج کو بلانے کے حوالے سے ضلعی حکومت کی جانب سے احکامات دیئے گئے اس لئے سابق چیف کمشنر اور ڈی سی اسلام آباد کو بھی شامل تفتیش کیا جائے گا۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو لال مسجد آپریشن میں حصہ لینے والوں کو بھی شامل تفتیش کیا جائے گا تاہم جب بھی فوج کو بلایا جاتا ہے تو اس کے لئے آئینی تقاضے پورے کیے جاتے ہیں نہ کہ فوج ا ز خود کسی کاروائی کا حصہ بنتی ہے۔سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی سیکیورٹی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں آئی جی اسلام آبادکا کہنا تھاکہ’’ جیل عملے کے علاوہ ان کی سیکیورٹی پر مامور پولیس اور رینجرز کے اہلکار اسی طرح موجود ہیں اور ضرورت کے مطابق ان کی سیکیورٹی میں کمی یا اضافہ کیا جاسکتا ہے اس کے ساتھ ساتھ وہ مشرف کے سیکیورٹی آفیسر کو بھی ایک خط سیکیورٹی انتظامات کے حوالے سے ایک خط لکھیں گے۔آئی جی اسلام آباد نے واضح کیا کہ سابق صدر سے ملاقات کے حوالے سے وفاقی پولیس کی جانب سے کوئی پابندی نہیں بلکہ یہ ان کی اپنی مرضی پر ہے وہ جس سے چاہیں مل سکتے ہیں۔محرم الحرام کی سیکیورٹی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں آئی جی اسلام آباد ک

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button