پاکستانتازہ ترین

ایوب خان کے بعد میری حکومت میں پاکستان کے مفاد میں کام کیا گیا: پرویز مشرف

کراچی (مانیٹرنگ سیل) سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ پاکستان کو دو سرحدوں سے خطرات کا سامنا ہے، 1979ءمیں سوویت یونین کو نکالنے میں پاکستان کا اپنا مفاد تھا۔ تفصیلات کے مطابق یوتھ پارلیمینٹ سے خطاب کرتے ہوئے پرویز مشرف نے کہا کہ پاکستان میں بے پناہ ٹیلنٹ ہے اور اس ملک میں تمام وسائل اور صلاحتیں موجود ہیں کہ اسے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں اور یہ خود ہی ہر طرح کے مسائل سے نمٹ سکتا ہے تاہم بدقسمتی سے پاکستان کی کسی سول حکومت نے ملک کی سماجی ترقی کیلئے کام نہیں کیا اور فوجی حکومت نے ہمیشہ ملک کو ترقی دی۔ انہوں نے کہا کہ ایوب خان کے بعد ان کے دور حکومت میں پاکستان کے مفاد میں کام کیا گیا۔  پرویز مشرف نے کہا کہ پاکستان کو دو سرحدوں سے خطرات کا سامنا ہے اور 50 اور 60 کی دہائی سے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔پاکستان کے قیام کے 30 سال میں 3 جنگیں ہوئیں، ہمارے پاکستان کا وجود ہندوستان کے لیڈرز کو پسند نہیں تھا اور مغربی بارڈر سے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش شروع سے چل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر امریکی پالیسیوں کے باعث مجاہدین اور القاعدہ بنے جبکہ یہ تاثر غلط ہے کہ امریکہ کے کہنے پر پاکستان کی پالیسی بنتی ہے تاہم یہ مان لینا چاہئے کہ امریکی غلط پالیسیوں کے باعث پاکستان کا نقصان ہوا۔ پرویز مشرف نے کہا کہ 1979ءمیں پہلی بار پاکستان کو دو محاذوں پر جنگوں کا سامنا کرنا پڑا اور مراکو اور انڈونیشیا سے 25 ہزار مجاہدین روس سے لڑنے آئے۔ طالبان کو پاکستان کی پیداوار قرار دینا غلط پراپیگنڈہ ہے کیونکہ 1979ءمیں سوویت سے لڑنے کیلئے مذہبی فوج متعارف کرائی گئی اور 1989ءمیں سوویت یونین کو شکست ہوئی اور افغانستان سے انخلاءہوا تاہم غلطی یہ تھی کہ جو مجاہدین لائے گئے ان کی دیکھ بھال نہیں کی گئی ، پاکستان کو تنہاءچھوڑ کر مغرب کا جانا بڑی غلطی ثابت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ سوویت یونین کو نکالنے میں پاکستان کا اپنا مفاد تھا اور یہ کہنا غلط ہے کہ ہم امریکہ کے مفاد کیلئے سب کچھ کر رہے تھے۔ پرویز مشرف نے کہا کہ افغانستان میں لڑنے والے طالبان پختون تھے جنہیں ہم نے پہچان دی جبکہ اس وقت کے امریکی صدر نے افغانستان آ کر طالبان کے بارے میں پوچھا تھا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button