تازہ ترینکالممیرافسر امان

مشرقی اُفق

الحمداللہ ہم مسلمان ہیں یقیناً ہمارے دل میں اسلامی معاشرہ کی ہی خواہش ہو گی یہ علیحدہ بات ہے کہ موجودہ مادیت اور بے راہ روی کے دَور کے کچھ مسلمان بھی غیر ارادی طور پر روشن خیال معاشرے کے کل پرزے بنے ہوئے ہیں اوران کے آئیڈیل بھی روشن خیال ہیں۔ وہ وہی پرانے گھسے پھٹے خیال کے مطابق مذہب کو ترقی کے راستے میں رکاوٹ سمجھتے ہوئے اس کار خیرمیں اپنا حصہ ڈالتے رہتے ہیں۔اس میںکچھ سیاست دان،ملکی اور غیر ملکی این جی اوئز کے ساتھ ساتھ مقامی کالم نگار خواتین و حضرات بھی پیش پیش ہیں۔ہم اپنی حد تک تو اپنے کالموں اسلامی معاشرے کے خط وخال اور فوائد اکثر بیان کرتے رہتے ہیں جسے ہم اپنے اوپر اپنے دین کا فرض سمجھتے ہیں ہماری خواہش بھی یہی ہوتی ہے کی مسلمان کالمسٹ بھی ایسا ہی کریں مگر کیا کریں خواہشیں کبھی پوری نہیں ہوا کرتیں! ہر کوئی اپنی اپنی آخرت بنا رہا ہے اور لگتا ہے ایسا ہی چلتا رہے گا…
حسن اتفاق کے ایسے ہی کالم نگاروں میں سے ایک کالم نگار کے کالموں کے برابر یا سامنے میرے کالم بھی اکثر و پیشتر اوقات شائع ہوتے رہتے ہیں کچھ اخبارات جن میں کراچی کے نوائے وقت، دوپہر کے قومی اور اسلام آباد کے جناح شامل ہیں ۔اخبارات نے سب کا نقطہ نظر عوام کے سامنے پیش کرنا ہوتا جو صحیح ہے مگر میرے نزدیک یہ حسن اتفاق ہی ہو سکتا ہے وہ کالم نگار صاحبہ تو یقیناپرانی کالم نگار ہو نگی جب کہ میں گزشتہ کئی عشروں سے اللہ کے دین کواللہ کی زمین اور اللہ کی مخلوق پر نافذ کرنے کی عملی جدوجہد کے ساتھ ساتھ کالم نگاری میں حال ہی میں داخل ہوا ہوں۔آمنے سامنے اخبارات میں کالم شائع ہونے کی وجہ سے اکثر میں ان کے کالم پڑھ لیتا ہوں آج اسی طرح کا حسن اتفاق کہ جناح اخبار اسلام آباد میں اُن کے کالم ’’لا پتہ افراد کہاں ہیں کے برابر ’’قومی سانحے، قوم اور حکمران‘‘میرا کالم بھی شائع ہوا ہے اس سے قبل اُن کے کالم پڑھ کر ان کی سوچ کے متعلق میری ایک رائے بنی تھی اور میں نے کچھ کالموں میں اُن کے نکتہ نظر کے متعلق کچھ نوٹ لکھ کر رکھے تھے اور سوچا تھا کہ کسی کالم میں ان پر خیالات کچھ تحریر کروں گا مگر مصروفیت کی وجہ سے ایسا نہ کر سکا آج جناح اسلام آباد میں کالم پڑھ کر سوچا کہ قارئین کے لیے کے کچھ گزارشات قلم کی نذر کر ہی دوں ۔ڈاکٹر صاحبہ نے اپنے کالم میں تحریر فرمایا ہے کہ ٹی و ی اینکر سے باتیں کرتے ہوئے کچھ لواحقین نے کہا میرا بیٹا جہادی تنظیم سے تعلق رکھتا تھا جہاد اسلام میں فرض ہے لہٰذا ان کا بیٹا جہاد پر ہے ڈاکٹر صاحبہ مذید فرماتیں ہیں تحقیق سے پتہ چلا کہ بہت سے لوگ افغانستان جہاد پر گئے تھے اور ڈکٹیٹر مشرف نے انہیں شبر خان اور دوسری افغانستا ن کی جیلوں سے آذاد کروایا تھا۔ مذید فرمایا کہ غریب لوگوں کو مدرسوں میں داخل کرایا جاتا ہے اورپھر ان کو جہاد کی ترکیب دلائی جاتی ہے وغیرہ وغیرہ…۔اس سلسلے میں گزارش ہے کہ ڈکٹیٹر مشرف کا افغانستا ن سے اپنے شہریوں کو 9/11کے کچھ بعد میں واپس لانا دوسری بات ہے اور ان کا موجودہ لا پتہ افراد کا ان سے کوئی تعلق نہیں ان لوگوں کو خفیہ والوں نے کچھ عرصہ پہلے ہی اُٹھایا تھا اور سب کے سامنے سپریم کورٹ کے ہدایت کے مطابق اس میں سے کچھ کو سپریم کورٹ میں پیش بھی کیا گیا ہے کچھ کو رہا بھی کیا گیا آج ہی سپریم کورٹ کی کوئٹہ بینچ نے صوبائی حکومت کے اہلکاروں اورخفیہ والوں پر برہم ہوئی ہے اور دو ایف سی کے عہداداروں پر مقدمہ بھی قائم کیا گیاہے ڈاکٹر صاحبہ نے صرف غریب بچوں کے جہاد کا ذکر کیا ہے جبکہ یہ بات پورے طور پر صحیح نہیں ہے اس میں پروفیسر،ڈاکٹر،انجیئرز اور کھاتے پیتے گھرانوںکے نوجوان بھی شامل رہے ہیں۔ جہاد اسلام میں سب صحت مند مسلمانوں پر فرض ہے جہاں تک موجودہ لا پتہ افراد کا معاملہ ہے تو یہ ڈکٹیٹر مشرف کی غیرملکی خفیہ ایجنسیوں سے مفاہمت اور ان کی اجازت سے جہادیوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوا تھا جو اب تک ڈکٹیڑ مشرف کی قائم مقام این آر او زدہ حکومت میں بھی جاری ہے۔ سب پاکستانی جانتے ہیںخفیہ والے بھی اسی پاکستان کے رہنے والے ہیں ان کی مجبوریاں ہوتی ہیں ورنہ وہ بھی کسی سے کم محب وطن نہیں اور ظالم بھی نہیں۔انہیں اپنے بڑوں یعنی سیاستدانوںکی باتیں ماننا پڑتیں ہیں۔بڑوں نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کو امریکی ایجنڈے کے مطابق روشن خیال معاشرے میں تبدیل کرنا کا عہد کیا ہوا ہے اخباری خبر کے مطابق چند پہلے ہمارے صدر صاحب بھی پاکستان کو روشن خیال بنانے کا ذکر کر چکے ہیں۔اسی لیے مسلمانوں کو جہادی ہونے کی سزا دی جا رہی ہے۔
صاحبو!ایک وہ زمانہ تھا کہ مسلمان معاشرے کا ہر فرد اسلام کی چلتی بھرتی تصویر ہوتا تھا اور اس کے ہر عمل سے اسلامی معاشرے کو تقویت پہنچتی تھی اگر ہم تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان تاجروں اوربزرگان دین کی وجہ سے ملک کے ملک مسلمان ہوئے اس میں انڈونیشیا ،ملیشیااور ارد گرد کے تمام علاقے عرب تاجروں اور بزرگان دین کی اسلامی معاشرت اور اسلامی اخلاق اور سچائی کی وجہ سے اسلامی معاشرے میں ایمان لا کرضم ہو گئے تھے ۔ شروع شروع میںجب مسلمان تاجر وہاں تجارت کرنے کے لیے گئے اور غلہ

یہ بھی پڑھیں  شارجہ ٹیسٹ کا چوتھا دن ،سری لنکا نے5وکٹ پر133رنزبنا لیے

2
فروخت کرنے لگے تو خریدار وں سے کہا ا تنے غلے کے اسٹاک پر راستے میں بارش ہو گئی تھی اس لیے اس کی قیمت کم ہے اور یہ غلہ صاف ستھرا ہے اس لیے اس کی قیمت نسبتاً زیادہ ہے۔وہاں کے مقامی تاجروں نے اپنے گھوڑے فروخت کے لیے پیش کیے لیکن بہت ہی کم قیمت مانگی۔ مسلمان تاجروں نے کہا بھائی ان گھوڑوں کی قیمت زیادہ ہے ہمارے ہاں یہ مہنگی قیمت پر فروخت ہو سکتے ہیں۔ آپ کم قیمت مانگ رہے ہیں اور اُن کو اُن کی مانگی ہوئی قیمت سے زیادہ قیمت اداکی اور واپس اپنے ملک میں اچھا منافع بھی کمایا ۔یہ شروع کے مسلمان تھے اور آج ہم بھی مسلمان ہیں کہ ہم دوسری قوموں کی نقالی کرتے ہیںاور اس کوعیب نہیں سمجھتے دوسری قوموں کی معاشرت اختیار کرتے ہیں جو جتنا اسلامی معاشرت سے دور ہے وہ اتنا ہی بڑا روشن خیال ہے۔اس پر بڑا ظلم یہ ہے کہ بدیسی معاشرے کی وکالت بھی کرتے ہیں۔اس میں سیاست دان، دانش وراور ریاست کے چوتھے ستون صحافی حضرات بھی شامل ہیں۔اب جہاد ہی کو دیکھیںمغرب نے نے اس نام کو اتنا بدنام کیا ہے کہ ڈکٹیٹر مشرف کے دور میں جب ان سے اخباری نائندوں نے لا پتہ افراد کا سوال کیا گیا تھا تو بجائے اُن سے ہمدردی کے تمسخر کے طور پر کہا تھا کہ جہاد کرنے گئے ہو ں نگے اس لیے جہادیوں سے معلوم کرو۔اب جہادی کہتے پھر رہے ہیں ڈکٹیٹر کہا ںگیا کس سے پوچھیں؟۔ڈکٹیٹر مشرف نے جہاں دوسرے قوم دشمن /روشن خیال اقدام کئے تھے اُس میں سے ایک یہ بھی تھا کہ صلیبی ایجنٹوں کو ان جہاد والوں کو پکڑ پکڑ کے امریکہ کے حوالے کیا تھا جو گونتا موبے جیل میں اس طرح ڈالے گئے اور لوہے پنجروں میں رکھے گئے ہیں کچھ اب بھی اس جیل میں موجود ہیں کچھ وہاں سے رہائی پا کر واپس بھی آئے جنہوں نے اپنی داستانوں میں وہاں کے مظالم دنیا کے سامنے بیان کئے جس سے لوگوں کے دل لرز گئے۔ ڈکٹیٹر مشرف نے اپنی کتاب ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘ میں ۰۰۶ مرد ،خواتین اور بچوں کا ذکر کیا ہے ۔جن میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور اس کے بچے بھی شامل ہیں جن کو ڈالر کے عوض امریکہ کوفروخت کیا گیا تھا جو ڈکٹیٹر کا قومی جرم ہے۔ اس لیے ملک کے کالم نگاروں سے گزارش ہے کہ جہاد کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے احتیاط سے برتنا چاہیے یہ مسلمانو ںکا دینی فریضہ ہے اگر ہم خود اس کا دفاع نہیں کریں گے اور صلیبی پروپگنڈے سے مثاتر ہو کر لوگ اُن کی ہاں میں ہاں ملائیں گے تو یہ کوئی قومی فریضہ نہیں ہو گا بلکہ اپنے مذہب کے ساتھ دشمنی ہو گی جہاد فی سبیل اللہ ہمارے دین میں فرض ہے جہاد ظلم کے خلاف ہوتا ہے۔ جہاد دین کی حفاظت کے لیے ہوتا ہے۔ مسلمانوں کو دنیا میں شکست سے دوچار کرنے کے لیے صلیبیوں نے جہاد کو دہشت گردی سے منصوب کر دیا اور پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا سے اتنا پروپگنڈہ کیا گیا کہ لوگ اس جھوٹ کو سچ سمجھنے لگا ہے اور ان کی ہاں میں ہاں ملانے لگے ہیں۔اس سے قبل برطانیہ بہادر نے اپنے دانشوروں کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے مسلمانو ں کو تقسیم کرنے کے لیے برصغیر میں ایک جعلی نبوت کا اعلان کروایا تھا اس وقت کے لٹریچر کو نکال کے مطالعہ کر سکتے ہیں جس میں جعلی نبی نے اپنے آقا برطانیہ کو لکھا تھا کہ میں نے برصغیر کی لابرئبریروں کو جہاد کی مخا لف کتابوں سے بھر دیا ہے مسلمانوں کے دلوں سے جہاد نکا ل دیا ہے آپ مطمئن ہو جائیں۔ اس نے مسلمانوں میں نقب لگا کر یہ کوشش کی تھی جو ناکامیاب ہوئی تھی جہاد دین اسلام میں ہمیشہ سے تھا اب بھی ہے اور آئندہ بھی رہے گاچاہے دشمنوں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔ اس جہاد کی ہی وجہ سے مسلمان ۰۰۱÷ھ کے اندر اندر اُس وقت کے معلوم چار براعظموں میں سے پونے چار براعظموں پر اسلام کے جھنڈے گاڑ دیے تھے۔شاہد اس پرہی علامہ اقبال (رح)نے فرمایا تھا:۔
دہشت تو دہشت صحرا بھی نہ چھوڑے ہم نے
بحر ظلمات میں دوڑا دیے گھوڑے ہم نے
اس جہاد کی ہی وجہ سے افغانیوں نے پہلے برطانیہ کو شکست دی تھی۔اور اس جہاد کی وجہ سے روس کو بھی شکست دی تھی جس سے چھ اسلامی ریاستوںنے آذادی کا سانس لیا تھا اور مشرقی یورپ کی ریاستیں بھی آزاد ہوئیں تھیں اور اب امریکہ بھی افغانستان سے بھاگنے کی تدبیریں کر رہا ہے۔ اس لیے جہاد پر لکھنے اور روشن خیال معاشرے کو پسند کرنے والے اہل قلم سے گزارش ہے کہ یہ ہمار اسلامی معاشرے کا حصّہ ہے اس پر کلام کرتے وقت بڑ ی احتیاط کی ضرورت ہے کہیں ہم غیر د انستہ طور پر مسلمانوں کو غلط راستے کی طرف تو نہیں لے جا رہے پاکستا ن محمد عربی (ص) کی امت کا ملک ہے اس میں اسلامی معاشرہ ہی پنپ سکتا ہے باقی تمام معاشرے فنا ہونے کے لیے بنتے ہیں اور فنا ہو جاتے ہیںاس ہی لیے شاعر اسلام حضرت علامہ اقبال (رح) نے مغرب کو للکارتے ہوئے کہا تھا:۔
تماری تہذیب خود ہی اپنے خنجر سے خود کُشی کرے گی
جو شاخِ نازُک پہ آشیانہ بنے گاوہ نا پائیدار ہو گا
اللہ ہم سب مسلمانوں، سیاست دانوں،اہل قلم اور دانشوروں کو وہی شروع والے مسلمانوں جیسا بننے اوران جیسا رویہ اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے جن کی سیرت و کرداراور طرز معاشرت کی وجہ سے لوگ اسلام کی طرف متوجہ ہوا کرتے تھے آمین۔

یہ بھی پڑھیں  دہشت گردی اور انتہاپسندی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے، آرمی چیف

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker