کالمنصرت سرفراز

غیرت مسلم زندہ ہے

ربیع الاول کی بارہ تاریخ تھی اور ہجرت کا گیارہواں سال دن پیر کا تھا اور حضرت عائشہؓ کا ہجرا اور وقت سہ پہر ماہتاب کل ، عالمِ اسلام و کائنات محمد اس دنیائے جانی سے پردہ فرما گئے۔

جانثاروں کی نظر میں دنیا اندھیری ہو گئی دلوں کی بستیوں میں سناٹا چھا گیا روحیں مصلوب ہوگئی مگر نبی کی سنت اور سیرت اندھیرے میں روشنی کی کرن کی طرح آج بھی ہمارے درمیان موجود ہے اور روشنی کا مینار ہے۔
اللہ جل شانہ کی قدرت کہ آمد رسول اور رخصتِ رسول کا ایک ہی دن مقرر کیا تاکہ امت رسول خوشی اور غمی میں اعتدال کا راستہ اختیار کرے۔ اعتدال اور میانہ روی ہی وہ واحد راستہ ہے جو روشنی سے مزین ہے اور جس کو اختیار کر کے امتِ رسول اپنی گم گشتہ میراث کا حصول ممکن بنا سکتی ہے اور سنتِ رسول کی پیروی ہی وہ واحد راستہ ہے جو امتِ محمد ﷺ کے مسائل کا حل ہے :
قران کی تفسیر ہے ارشاد نبی کا
اسلام کا منشور ہے فرمان محمد کا

ہزاروں سال پہلے سرزمین عرب سے وہ چاند طلوع ہوا جس نے اپنی روشنی اور تابانیوں سے سارے عالم کو منور کر دیا وہ نور جس نے دلوں کے اندھیروں کو دور کردیا اور ظالموں کی چادر چاک کر دی اس عالمِ ماہتاب نے نہ صرف یہ کہ پورے عرب کو اپنی روشنی سے چمکایا بلکہ دنیا کا ذرہ ذرہ آپ کے نور سے منور ہو گیا سرزمین عرب کا واقعہ ہے دورِ جہالت چل رہا تھا رسالت کا چاند طلوع ہو گیا آپ نے کل عالم کو توحید کا درس دیا پیغام حق کو دنیا کے طول و عرض میں پھیلا دیا خانہ کعبہ کو رہتی دنیا تک بتوں سے پاک کر دیا اللہ رب العزت نے نبی پاک کے کردار و اعمال کو اس بلندی تک پہنچایا کہ مسلم تو مسلم غیر مسلموں کی طرف سے بھی آقائے دوجہاں کی راست بازی، حق گوئی، دیانت ، امانت اور فراست کو تسلیم کیا گیا ہے اور وہ بھی اس کی گواہی دیتے رہے ہیں ۔ ایک غیر مسلم شاعر نے تو یہاں تک کہا ہے کہ:
عشق ہوجائے کسی سے کوئی چارہ تو نہیں
صرف مسلم کا محمد ﷺ پہ اجارہ تو نہیں

یہ بھی پڑھیں  برطانیہ کے رنگ

اہلِ عرب کے لئے آپ شروع سے ہی نہایت باکردار نیک فطرت اور پاکباز رہے اللہ رب العزت نے آپ کے درجات کو اس قدر بلندی عطا کی کہ خود قرآن میں آپ کے درجات کے حوالے سے ارشاد فرمایا کہ : ’’اور ہم نے آپ کا ذکر بلند کیا‘‘

نبی کریمﷺ نے کم عمری میں ہی ایسا منصفانہ فیصلہ کیا کہ رہتی دنیا تک اس کی مثال دی جاتی رہے گی یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب سیلاب کے بعد کعبتہ اللہ کی دیواریں شکست و ریخت کا شکار ہو چکی تھیں اور عرب کے معززین اس کی مرمت کا کام مکمل کرا چکے تھے صرف حجر اسود کی تنصیب کا مسئلہ درپیش تھا سبھی اہلِ عرب اس مقدس اور جنت کے پتھر کو نصب کرنے کا فریضہ سر انجام دے اس بات پر عرب قبائل میں اختلاف رائے ہو گیا۔ اختلافِ رائے اور عدم برداشت کی فضا اس حد تک بڑھی کہ بات جنگ و جدل اور خونریزی تک جا پہنچی یہاں پر رسولﷺ تشریف لے آئے اور خالقِ کائنات نے وجہ کائنات کے ہاتھوں اس تنازعہ کا فیصلہ کروایا جب عرب کے قبائل حجر اسود کی تنصیب کے تصفیہ کے فیصلے کے بارے میں ناکام ثابت ہو گئے تو انہوں نے یہ طے کیا کہ کل صبح صبح جو شخص حرم شریف میں سب سے پہلے داخل ہو گا اسے ہم اپنا منصف مان لیں گے اس سلسلے میں اُس کے فیصلے کو حتمی مانا جائے گا۔ سب قبائل بے چینی سے طلوع صبح کا انتطار کرنے لگے تمام لوگوں کے ذہون و قلوب میں طلاطم برپا تھا کہ دیکھیں حدود حرم میں کس کے بابرکت قدم داخل ہوں گے اور جھگڑے کا تصفیہ کرنے کا اعزاز و افتخار کس ہستی کو حاصل ہوگا اس بلند مرتبہ سے کو سرفراز ہوگا۔ سبحان اللہ۔ ربِ کائنات تو منصف کا فیصلہ کر چکا تھا۔ خاتم الانبیاء کو قدرت منصف کے عہدے پر فائز کر چکی تھی بس کل عالم پر یہ بات ثابت کرنا تھی کہ اللہ کا فیصلہ اٹل ہے اور اس کے حکم کے آگے کسی کو بولنے کی مجال نہیں ہے پھر جب طلوع آفتاب کے وقت منتظر نگاہوں نے دیکھا کہ مشیتِ ایزدی نے کس طرح نبی آخرالزماں محمد مصطفی ﷺ کو اس بے مثال منصفانہ فیصلے کے لئے چنا کہ تمام قبائل یک زبان ہو کر پکار اٹھے کہ محمد آگئے اور محمد سے بڑھ کر منصفانہ فیصلہ کوئی کر ہی نہیں سکتا کہ وہ صادق اور امین بھی تھے۔ امانت دار بھی تھے اور راست باز بھی۔ ان سے سچا منصف کون ہو سکتا ہے کہ ان کی پاکی اور پاکیزگی کے سب ہی گواہ تھے۔ نبی کریم اس وقت تک نبوت کے عہدے پر فائز نہیں ہوئے تھے مگر آپﷺ کے اعلیٰ کردار نے اہلِ عرب کے دل موہ رکھے تھے۔ وہ اہلِ عرب کے ہر دلعزیز بھی تھے اور ممتاز بھی۔ آپ نے حجرِ اسود کی تنصیب کے مسئلے کا ایسا حل تجویز کیا کہ عرب کے بڑے بڑے سردار بھی انگشت بدنداں رہ گئے۔ حضور ﷺ نے شانہ مبارک سے چادر اتار کر زمین پر بچھا دی پھر حجرِ اسود کو اس چادر پر رکھ دیا اور تمام سردارانِ قبائل سے کہا کہ وہ چادر کو کونوں سے تھام لیں۔ ان سب نے چادر اٹھائی اور اس مقام تک لے گئے جہاں اُس کی تنصیب ہونی تھی۔ محمدﷺ نے خود اپنے ہاتھوں سے حجر اسود کی تنصیب کردی۔ یوں وہ مسئلہ جو خونریزی کے قریب پہنچ گیا تھا با آسانی حل ہو گیا :

یہ بھی پڑھیں  سیلاب نہیں عذاب

کوئی مثل مصطفی کا کبھی تھا نہ ہے نہ ہو گا
کسی اور کا یہ رتبہ کبھی تھا نہ ہے نہ ہوگا

محمد ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر بھیجا۔ آپ کی آمد کے ساتھ ہی روئے زمین پر منڈلاتے ہوئے جہالت اور کفر کے بادل چھٹنے لگے تھے اور رحمت اور توحید رسالت کی گھنگھور گھٹائیں چھانے لگیں تھیں۔ یہ تاجدارِ انبیاء اور نبی آخرِزماں کا فیض ہی ہے کہ ہزارہا مشکلات ، مسائل اور نا انصافیوں کے باوجود دنیا آج بھی دائرہ اسلام کی طرف کشش رکھتی ہے۔ غیر مسلم دائرہ اسلام میں بخوشی اور بہ رضا داخل ہو رہے ہیں جن کی وجہ سے یہودونصار کی راتوں کی نیندیں اور دن کا چین و سکون غارت ہو چکا ہے کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ دائرہ اسلام میں اس قدرکشش ہے کہ MTVکی چکا چوند دنیا کو چھوڑ کر Kristiane Backer نہ صرف یہ کہ دائرہ اسلام میں داخل ہو گئیں بلکہ From MTV to Mecca جیسی کتاب لکھ کر دشمنانِ دین اسلام کی نیندیں اڑا دیں۔ Backer اور ان جیسے ہزاروں افراد جو دائرہ اسلام میں داخل ہو رہے ہیں ان کے سروں پر کس نے تلواریں تانی تھیں۔ ان میں سے کسی نے بھی اسلام گن پوائنٹ پر تو قبول نہیں کیا۔ اسلام کے تو لغوی معنی ہی امن اور سلامتی کے ہیں۔ اس مذہب میں دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ کسی کی جان لینے اور نقصان پہنچانے کا کوئی تصور نہیں۔ ہا ں لیکن بات جب ناموس رسالت کی ہو عشقِ مصطفی کی ہو جو بظاہر تو بہت نام نہاد مسلمان ہی نظر آتے ہیں ان کی رگوں کے اندر خون جوش مارنے لگتا ہے۔ لہو کا ذرہ ذرہ پکار اٹھتا ہے کہ نبی کی محبت ہمارے رگوں میں خون کی طرح گردش کرتی ہے۔مسلما ن چاہے کتنا بھی ماڈرن ہو جائے۔ لبرل ازم کے پردوں میں چھپ جائے۔ جملہ تمام برایؤں میں ملوث ہو لیکن توہینِ رسالت پر اس کا خون جوش مارتا ہے اور آنکھوں میں خون اتر آتا ہے اور پھر سلمان رشدی سے لے کر ٹیری جونز تک اپنی جان بچانے کے لئے کونے کھدرے میں چھپتے نظر آتے ہیں اور اپنا نام اور شخصیت تک تبدیل کر لیتے ہیں۔ معمولی کسان سے غازی علم دین شہید بننے کے لئے کسی مذہبی یا دنیاوی ڈگریوں کا حصول اور اسکالر ہوناضروری نہیں۔ بس عشق مصطفی ہی کافی ہے۔ عامر چیمہ کوئی مذہبی اسکالر ، فلاسفر، مولوی یا علامہ نہیں تھا۔ وہ تو ایک عام سا نوجوان تھا جس نے عشقِ مصطفی میں اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کر دی۔ اور یہ ثابت کر دیا کہ ہر وہ مسلمان خواہ وہ کتنا ہی لبرل آزاد خیال حتیٰ کہ گناہگار ہی کیوں نہ ہو اس کا پور پور عشق مصطفی میں ڈوبا ہوا ہے۔ وہ سب کچھ برداشت کر سکتا ہے مگر حرمتِ رسول پر آنچ نہیں آنے دے گا۔ ہمارا ایک دن یومِ عشق رسول ہرگز نہیں ہے ۔ ہمارا ایک ایک دن یومِ عشق رسول ہے ہر ہر لمحہ عشقِ مصطفی میں ڈوبا ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  ڈرون بمقابلہ فرعون

بتلا دو گستاخِ نبی کو غیرتِ مسلم زندہ ہے
میرے نبی سے میرا رشتہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے

یہ بھی پڑھیے :

8 Comments

  1. Pakistan is a lost nation.I am a Pakistani but scared to go back to my homeland.if you study world history,that was just the Balkan before breaking up.in 50 years time,when Pakistan would be long gone; the history students would study Pakistan as a case of religious fanaticism,illiteracy and intolerance

  2. my ny ap ka coloumn parha … ap ny bohat acha likha hy ……waqzi hum sab ki ragoon my laho ki jaga ishqe muhammad pbuh gardish karta hy……..

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker