تازہ ترینکالم

مسلمان تو کیا چاہتا ہے ؟

malik abbasپاکستان میں امن وامان کی صورتحال میں ابتری کا اہم ترین اور بنیادی عنصر اندرونی سازشیں یا بیرونی مداخلت ہے۔ کسی گھر میں چوری ہوتو کہتے ہیں ضرور گھر کے بھیدی نے لنکا ڈھائی ہوگی ۔ جس کی چوری ہوتی ہے اس کا ایمان بھی جاتا ہے۔ وہ ہر کسی کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے اس کیلئے وہ رشتوں ناتوں کی تمیز نہیں کرتا ۔پاکستان کے داخلی امن سے منسلک خارجہ وداخلہ امور کا مشاہدہ کرنے سے اس راز سے پردہ اٹھایا جا سکتا ہے کہ چوری میں کون ملوث ہے۔ گھر کے بھیدی لنگا ڈھا رہے ہیں یا پھر ڈاکو دن دیہاڑے چھاتی کے زور پر یہ آگ برسا رہے ہیں۔ کسی بھی تنازعہ کے حتمی و غیر جانبدارانہ فیصلے تک رسائی کیلئے بے رحمانہ غیر جانبدارنہ تجزیہ درکار ہوتا ہے۔ اپنے یا اپنوں کی غلطیوں کوتاہیوں کی معافی نہیں دی جاسکتی ۔ تب یہ حقیقت واضح ہو کر سامنے آئے گی کہ ملک میں دشمن کیسے دندناتے پھر رہے ہیں۔ سیاسی وداخلی امور کے ذمہ دار تنقید کو اصلاح کے حوالے سے دیکھیں نہ کہ اسے ذاتیات پر چسپاں کر کے بے عزتی اور ذاتی دشمنی وعناد کے تناظر میں دیکھیں۔ اس ماحول میں نہ صرف ہماری بے عزتی ہو رہی ہے بلکہ وہ بھی ساتھ ہی رسوا ہو رہے ہیں۔ اس لیے اس مسلہ پر سب کا موقف متفقہ ہونا چاہیے۔ ڈرون اور خود کش حملوں سے متاثرہ معاشرے میں دہشت و بدامنی کی فضا اورمعاشرے میں بہت مسائل پیدا ہوئے ہیں۔
اس بدامنی کا بنیادی کردار افغان معاملات اور مہاجرین ہیں۔ بھائی چارہ اور ہمسائیگی کے حقوق کی ادائیگی کی جو بھاری قیمت پاکستانی معاشرہ ادا کر رہا ہے اس کیلئے نہ تو افغان ہمارے احسان مند ہیں اور نہ ان سے اس کی توقع رکھی جاسکتی ہے۔ حکومت پاکستان کو افغان ٹریڈ اینڈ ٹرانزٹ کے اصولوں کوبدلنا چاہیے۔ افغانستان سے راہداری کا سلسلہ اب ویزا میں تبدیل کرنا ہوگا۔ کم ازکم ہر خاص وعام کو سرحد عبور کرنے سے روکا جانا ممکن ہوجائے گا۔ افغان مجاہدین کیمپس اور ان کو جہادی سپلائی کرنے والے مدرسوں کو روکنا بھی ضروری ہے۔ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ ڈرون حملے حقانی نیٹ ورک کے مجاہدین کا پیچھے کرتے کرتے اب خیبر پختونخواہ کی حدود میں ہونے لگے ہیں۔ اس کی وجہ طالبان کا عمل دخل ان علاقوں میں ہے۔ پاکستانی معاشرے میں دولت کی بنیاد پررسوخ اور اہم ترین تجارتی مراکز پر افغان باشندوں کا قبضہ ہو چکا ہے ۔ یہ بلدیاتی سطح پر عوامی نمائیندگی کا استحقا ق دولت کی بنیاد پر قائم کرنے کی پوزیشن میں آ چکے ہیں۔جلدسیاست میں انکی مداخلت اور اجارہ داری کو روکنا ناممکن ہو جائے گا۔ اکابرین اس خطرے سے بے نیاز انہیں ووٹ کے حصول کیلئے سیاسی امور میں شامل کیے جارہے ہیں۔ سیاسی لوگوں نے ووٹ کی خاطر افغان باشندوں کو ووٹر لسٹ میں لانے کیلئے انہیں قومی شناختی کارڈ کا حصول او ردیگر دستاویزات مہیا کرائیں ۔ اپنوں کی دولت کی ہوس سے افغان مہاجر باشندوں نے دولت کے استعمال سے شہریت خریدی اور آج اکثریت کے پاس قومی شناختی کارڈ اور ڈومیسائل موجود ہیں۔ کم قیمت زمینوں کو مہنگے داموں افغان باشندوں کو فروخت کر کے پراپرٹی مافیا نے دولت اکھٹی کی۔ پراپرٹی مافیا سیاستدانوں کا بنیادی سرمایہ کار ہے۔ انہوں نے ووٹوں کیلئے سیاسی اکابرین کو افغان ووٹر پیش کیے ۔ اسی سلسلہ میں ان کے شناختی کارڈ اور ووٹر لسٹوں میں اندارج کرایا گیا۔یہ پاکستانی قومی شناختی کارڈ کے ساتھ مہاجر کارڈ اور افغان شہریت سب کچھ ساتھ ساتھ چلا رہے ہیں۔ ان کے رشتے ناتے کاروبار ہمدردیاں بھی وہیں تو یہ اکھاڑ بچھاڑ کرنے میں ذرا تامل نہیں کرتے ۔ یہاں پر خطرہ ہو ا توکابل اور وہاں پر خطرہ محسوس ہو ا تو سرحد عبورکرکے پاکستان آ جاتے ہیں۔ ان کامستقل پتہ عموما فاٹا ایجنسیزکا ہوتا ہے تحقیق کرائی جائے تو امید ہے کہ 90فیصد فراڈ کیس ثابت ہونگے۔ اس سے شک پیدا ہوتا ہے کہ افغان باشندوں نے جعلی پتہ کی بنیاد پر پاکستانی شہریت حاصل کی ہے۔ ان کے خاندان یا خاندانی جائیداد کا ثبوت نہیں ہوگا۔ اس طریقہ پر عمل کر کے افغان باشندوں کے پاکستانی شہریت کینسل کی جا سکتی ہے ۔
روسی تسلط سے آزاد ہو کرچوہدراہٹ اور اجارہ داریوں کیلئے افغان ایک دوسرے کے دست وگریباں و خون کے پیاسے بن گئے ۔ اپنی سلطنتوں کے بے تاج بادشاہ کہلانے کیلئے ایک دوسرے کے مدمقابل آکر سارے جہاد کے ثمرات خواہشات کے سیلاب میں بہا دئیے ۔ خلافت و شریعت کے نفاذ میں تنازعات اور ذاتی خواہشات نے عجب سماں پیدا کر دیا ۔جہاد کو سپانسر کرنے والوں نے اپنے عقائد ونظریات کی پاسبانی کیلئے انہیں استعمال کیا۔ اس میں مختلف مسالک کے پیروکار ممالک کی پشت بانی اور ان کے سرمایہ نے کردار ادا کیا ۔ جس سے مجاہدین میں اتحاد کی بجائے نفاق اور ملت کی بجائے ذات کا دفاع عود کر آیا ۔ ایک مولوی صاحب سے کسی نے پوچھا کہ آپ لوگ اکھٹے کیوں نہیں ہوتے۔ جواب تھا کہ ہم تو اکھٹے ہوتے ہیں لیکن یہ چندہ اکھٹا نہیں ہونے دیتا ۔ بھائی اکھٹے ہو گئے تو چندہ کس کے پاس جائے گا اور کون اس کا حقدار ہوگا۔ دین کے خدمتگار وں کی توہین وملامت ہرگز بھی مطلوب نہیں۔مطلوب سامنے ہے ۔
افغان پاکستان میں دندناتے پھریں گے تو لازمی ہے کہ ایک دوسرے کو زک پہنچانے کیلئے بھی اقدامات کریں گے۔ اس میں مسلکی اختلافی عقائد اور جہادی فوائد بھی ضرور شامل ہونگے۔ ایک دوسرے پر افغانستان کی سرزمین تنگ کرنے والوں کو پاکستان کی پرامن فضا مکدر کرنے میں کوئی عار نہیں ہوتا۔ جب سے شدت پسندعناصر کے ہاتھ معاملات کی باگ ڈور گئی ہے مسلکی اختلافات کی خلیج ناقابل عبور ہو چکی ہے۔ افغان جہادمیں ہر مسلک کے لوگوں نے شرکت کی لیکن کریڈٹ ایک مسلک کے اکابرین نے میڈیا کے استعمال سے حاصل کیا۔ اب افغان اس کے بدلے میں ان کے مسلکی مخالفین پر عرصہ حیات تنگ کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ اس سے معاشرے میں مذہبی ہم آہنگی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوگا جب تک معاملات کو دلائل کی سطح پر نہیں لایا جائے گا۔شدت پسند کے پاس طاقت کی دلیل ہے اور وہ دلائل کو کمزوری کی علامت جان کر اس کی طرف مائل ہی نہیں ہوتا ۔اپنے نظریہ کی کمزوری یا اپنے علم کی کمی کو طاقت کے زور پر پورا کرنے والے سے دلیل کی زبان میں کیسے بات ہو سکتی ہے ۔ اس مذہبی بلیک میلنگ کا خاتمہ کس طریقے سے ممکن ہو سکتا ہے۔ جہاں سارے ایک دوسرے کو کافر قرار دیتے ہیں توپھرمسلمان کون ہے۔ان سارے کافروں میں کیا اس بات کا تعین ہو سکتا ہے اور یہ تعین کون کرے گا کہ کون مسلمان ہے اور کون کافر ۔ کس کے عقائد اسلام وشریعت سے متصادم کون اللہ ورسول کے نزدیک دین حق پر ہے۔ کس شریعت کے نفاذ کی بات کی جائے۔ کیاوہ سنی شریعت ہو دیوبندی شریعت ہو یا شیعہ شریعت ہو ۔ واضح ہونے کے باوجود کہ خلافت چار اکابر اصحابہ تک ہی ہوگی پھر بھی خلافت لانے والے یہ تو بتائیں کہ وہ خلیفہ کہاں سے لائیں گے۔ شریعت کا وہ کون سا روپ ہے جو سب کیلئے قابل قبول ہے ۔ وہ کون سی شریعت ہے جس پر سب متفق ہو نگے ۔ پہلے وہ شریعت تو لائی جائے بعد اس کے نفاذ کی بات اور جدوجہد کی جائے۔ہم پاکستانی تو بن نہیں سکتے مسلمان کیا بنیں گے۔ سندھی پنجابی اردو سپیکنگ بلوچی پٹھان سرائیکی میں سے مسلمان ملت کا انتخاب کیسے کیا جائے۔
پاکستانی اس کوتاہی سے لاکھ انکار کریں لیکن یہ وہ حقیقت ہے جس کو بیان کرنے میں اکثر بہت سی رعایتیں آڑے آتی ہیں۔ ضیاء کے دور سے لے کر آج تک اس پر نہ تو کسی نے توجہ دی اور نہ ہی اس کا سدباب کرنے کے بارے میں سوچا ۔ note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button