ایس ایم عرفان طا ہرتازہ ترینکالم

مسلماں پہ مسلما ں کا قتل حرام ہے

اسلام امن و آشتی کا دین ہے ۔ اس میں جہا د کا حکم درا صل مظلو م کی حما یت اور ظا لم کے خلا ف اس کی سر کو بی کے لیے دیا گیا ہے ۔ قر آن و سنت کی اصطلا ح میں اس کے معنی انتہا ئی کو شش کے ہیں ۔ جو سر بلندی حق اور با طل کے خلا ف آواز کی جستجو ہے ۔ خو اہ وہ بر ہا ن ہو زبان سے، جان سے یا زور علم و قلم سے یا زور با زو سے یا کسی طور سے غر ض یہ کہ ہر وہ درجہ کما ل کی علمی ، قلمی ، فکری ، قلبی ، نفسی ، لسانی ، ما لی ، جا نی جد و جہد جس کے زریعے حق سربلند ہو اور با طل سر نگو ں رہے ۔ مغربی اقوام پو ری دنیا میںبسنے والے مسلمانو ں کو اپنا دشمن ، وحشی ، شدت پسند ، انتہا پسند، جنونی اور ایک مو ت کو بر پا کر نے والا خطرہ سمجھتے ہیں ۔ حا لا نکہ یہ اسلام کے نظریہ امن کا ہی فیض ہے کہ غلا می میں جکڑی ہو ئی نسل نوع انسانی کو آزادی ملی جہا لت کی تا ریکیوں میں ڈو بے ہو ئوں کو نو ر علم کی رو شنی عطا ہو ئی 360بتو ں کے سامنے سجدہ ریز ہو نے والو ں کو جا م تو حید و رسا لت میسر ہو ا ۔ اسلام حقیقت میں کسی انسان کا دشمن نہیں بلکہ اس کی فساد و شر میں ڈ وبی ہو ئی فکر و نظر کا دشمن ہے ۔ آج ہر مسلمان فرد وا حد کا اولین فریضہ ہے کہ وہ اسلام کی اصل اور سچی تصویر اپنی تحریر و تقریر میں بیا ن کرے ۔اسلام امن و سلامتی کا پیا مبر اور تحریک رحمت اللعا لمین ہے اس لیے مسلمان نا حق خو ن انسانی بہا نے کا ذرا بھی روا دار نہیں ہے ۔ دین اسلام نے انسان کے خون کی حفا ظت کی بھرپور تا کید کی ہے ۔’’اور جو کوئی مسلما ن کو جان بو جھ کر قتل کر ے تو اس کا بد لہ جہنم ہے کہ مد تو ں اس میں رہے اور اللہ نے اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لیے تیا ر رکھا بڑا عذ ا ب ﴿النسائ۳۹ ﴾
اسلام میں کفر و شرک کے بعد سب سے بڑا جرم نا حق قتل کو قرار دیا گیا ہے ۔ جنا ب رسول اللہ ö نے فرما یا کہ سب سے زیا دہ مبفو ض ۳ قسم کے لوگ ہو تے ہیں حرم میں فساد مچا نے والا ۲ اسلام میں زمانہ جا ہلیت کی رسمو ں کو رواج دینے والا ۳ نا حق کسی کے خون کا خوا ہش مند تا کہ وہ اس کا خون بہا ئے ﴿بخا ری شریف ﴾
نبی ö نے فرما یا کہ مو من کا قتل اللہ کے نذ دیک دنیا کے تہہ و بالا ہو نے سے بڑھ کر ہے ﴿النسائی ﴾
ارشا د نبوی ö ہے اگر تمام زمین و آسمان والے کسی مسلمان کے خون میں شریک ہو ں تو اللہ تعا لیٰ ان کو جہنم میں اوند ھا ڈا ل دے گا ۔ جنا ب رسول اللہ ö نے فرما یا سا ری دنیا کی بر بادی ایک مسلمان کے قتل کے مقا بلے میں اللہ تعا لیٰ کے نز دیک با لکل بے قیمت ہے ﴿جا مع ترمذی﴾
رسول اللہ ö کا ارشاد ہے جو شخص کسی مسلمان کے قتل میں کوئی مدد کر ے خوا ہ وہ ایک لفظ ہی کیو ں نہ ہو تو قیا مت کے دن اسطرح آئے گا کہ اس کے ما تھے پر لکھا ہو گا ’’خدا کی رحمت سے ما یوس ہے ﴿ابن ما جہ﴾ قتل کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ بندہ اپنا ہا تھ خون آلود نہ کرے مگر اثر و رسوخ سے کام لے کر کسی دوسرے کو اس سلسلہ میں استعمال کر ے اور اس کے زریعے کسی بے گنا ہ کا سر قلم کر نے کی نا پاک کوشش کر ے اسلام اس صورت کو بھی بر داشت نہیں کر تا ہے اور اصل مجرم اس اثر و رسو خ والے کو ہی قرار دیتا ہے ۔ ارشاد نبوی ö ہے کہ آگ کے ۰۷ حصے ہیں ان میں سے ۹۶ حصے اس کیلیے ہو گی جو قتل کا حکم دیتا ہے اور ایک حصہ قا تل کے لیے ہو گی جو کسی کے کہنے پر قتل کر تا ہے ﴿جمع الفوا ئد﴾
پھر ارشا د نبویö ہے کہ قیا مت والے دن قا تل و مقتو ل دونو ں اللہ تعالیٰ کے رو برو لا ئے جا ئیں گے مقتول عرض کر ے گا یا رب قا تل سے پو چھیے کہ اس نے مجھے کس قصور کی وجہ سے قتل کیا ؟ قا تل حکم کر نے والے کی طرف اشارہ کر ے گا اورجواب دے گا کہ پر ورد گار عالم اس نے مجھے حکم دیا تھا اس جو ا ب کے بعد قا تل و آمر دونو ں کے ہا تھ پکڑے جا ئیں گے اور دو نو ں کو ایک ساتھ جہنم میں جھونک دیا جا ئے گا ۔ آج کچھ مغربی سوچ کے پر وردہ عنا صر بیر ونی خفیہ ایجنسیو ں سی آئی اے ، مو ساد اور را کے جھا نسے میں آکر اپنے ہی بھا ئیو ں کے خو ن کے پیا سے بنے ہو ئے ہیں یہو د و نصا ریٰ مسلمانو ں کے خلا ف ایک اکا ئی کی حثیت اختیا ر کر گئے ہیں جب کہ مسلمانو ں کو کئی تفرقوں ، گر وہو ں ، طبقوں اور حصو ں میں تقسیم کر کے پو ری قوت کے ساتھ بے حد نقصا ن پہنچا یا جا رہا ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے آپ کو اصل دین کو اور اپنے رشتو ں کے تقدس کو پہچا نیں اور مخالف بیر ونی قوتوں کے خلا ف شیر و شکر ہو جا ئیں جس کا درس ہمارا دین ہما را خالق و مالک اور ہما رے قا ئد المرسلین ö اپنے ارشادات میں دے چکے ہیں ۔اسلام من مانی کانام نہیں اسلام فر ما نبرداری کا نام ہے ۔جب ایسے حا لا ت میںکہ آئے دن مسلما نو ں کو بم دھما کو ں کی نظر کر دیا جا تا ہے ۔ مسجد میں نما زیو ں کو ، سکو لو ں میں بچو ں کو ، مد رسو ں میں طا لب علموں کو ، گھرو ں میں سو ئے ہو ئے مسلما نو ں کو مقربین الی اللہ کے زائرین کو عبا دات میں مشغول آگ کا جھو نکا بنا دیا جا تا ہے ۔ کیا اس سب کی اسلام نے اجا زت دی ہے ؟ جوا ب نہیں میں ہو گا مگر افسوس سے کہنا پڑ تا ہے کہ آج ایک مخصوص طبقہ ا ن سا رے کا مو ں میں جنت کی ٹکٹیں تقسیم کر تا ہوا دکھا ئی دیتا ہے ۔ ننھے منے بچو ں کے سینو ں سے بم با ندھ کر انہیں اڑا دینا سا تھ کئی ہزار افراد کو آگ میں جلا دینا یہ لو گ معمولی سا کھیل سمجھتے ہیں ۔ تبھی تو دل سوز واقعا ت منظر عام پر دکھا ئی دیتے ہیں جن کو دیکھ کر ایک ذی شعور انسان کی روح تک کا نپ اٹھتی ہے اور دل خو ن کے آنسو روتا ہے کہ ما رنے والا کو ن تھا اور مر نے والا کون ہے کس کے مقدر میں شہا دت لکھی تھی اور کس کے مقدر میں ذلت و رسوائی کی موت ؟ انسانی ذہن انہی گر دشو ں کے ما بین منجمند ہو کر گم سا ہو جا تا ہے خدا را اس با ت کا احساس پیدا ہو جا ئے کہ جس خون کو ہم اتنی بے دردی اور بے رخی کے ساتھ بہا دیتے ہیں اس خون کو مالک و خا لق نے تو کعبتہ اللہ سے بھی مقدس قرار دیا ہے اس جسم کو تو حورو ں کا محور و مسکن قرار دیا ہے پھر یہ دیدا دلیری کس کے لیے پھر یہ گمراہی اور را ہ حق سے را ہ فرار کس کیلیے کو ن سے عنا صر اس سا رے خطرناک کھیل کے پیچھے چھپے ہو ئے ہیں اور کو ن سی بیر ونی قوتیں ان کی پشت پنا ہی کر رہی ہیں ہمیں اس با ت کی طرف تو جہ کر نا ہو گی اور قیمتی انسانی جا نو ں کے ضیا ع سے اپنے کچھ بھو لے بھٹکے بھا ئیو ں کو رو کنا ہو گا ۔ اس کے لیے ہمیں اپنی سیکیورٹی اداروں کے ہا تھ مضبوط کر نا ہو ں گے جو اپنے پرا ئے کو تلا ش کر تے ہو ئے ہمیں بھی ان کی پہچان کروا تے رہیں اور مسجد و جنت سے پا کیزہ سرزمین وطن کو خون آلود ہو نے سے بچا یا جا سکے ۔
دھما کے کر رہے ہیں جو مسلما ں ہو نہیں سکتے یہ سب ہیں ملک دشمن ، اہل قرآں ہو نہیں سکتے
اے اہل دیں کے دشمن تو یہ بھی غور سے اب سن یہ ہے اللہ کے محبوب کے محبوب کا گلشن
لگا ئے با غ جو اللہ ویرا ں ہو نہیں سکتے کبھی فردوس کے حقدار شیطا ں ہونہیں سکتے