تازہ ترینصابرمغلکالم

مسلمانوں پر ظلم۔کرونا وائرس اور دنیا کے بے ایمان منصف

اس وقت دنیا انتہائی موذی کرونا وائرس کی لپیٹ میں ہے،چین کے شہر ووہان ابھرنے والے اس وائرس نے اب پوری کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جس میں رزانہ کی بنیاد پراضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے،2015کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں مسلمانوں کی کل آبادی 1.8ٹیلین جو دنیا کی کل آبادیی کا 24.1فیصد ہے،مسلمانوں کی 50سے زائد بڑی ریاستیں یا ممالک ہیں جن میں سے کئی تیل اور گیس کی دولت سے اتنی مالا مال ہیں کہ دنیا کے ہر غیر مسلم ملک میں بھی ان کے اثاثے پڑتے ہوئے،اس کے علاوہ دنیا بھر کے تقریباً ہر ملک میں مسلمان بطور اقلیت بھی رہ کر شاندار کردار ادا کر رے ہیں،پاکستان کے پڑوسی اور دشمن ملک نے آزادی پاکستان کے بعد ہی ریاست کشمیر پر غاضبانہ قبضہ کر لیا،جنگ ہوئی بات اقوام متحدہ تک جا پہنچی مگر بات چونکہ سلمانوں کے خلاف تھی جس بنا پر آج تک اس پر کام نہ ہوا الٹا انڈیا کی جانب سے مقبوضی کشمیر میں ظلم و ستم اور درندگی میں اضافہ ہوتا چلا گیا جنت نظیر خطہ کو جہنم میں بدل کر رکھ دیا گیاوہاں کے مسلامنوں نے اپنی آزادی اور حق خود ارادیت کے لئے طویل جدوجہد کی اور ہر قسم کی قربانیاں دیتے چلے گئے،5اگست کو2019کو انڈیں حکومت نے طویل منصوبہ بندی جس میں امریکہ،برطانیہ اور سب سے بڑھ کر اسے اسرائیل کیمکمل معاونت اور آ شیر آباد حاصل تھی ایک صدراتی فرمان کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کی الگ حیثیت ختم کرنے کا نہ صرف آرڈننس جاری کر دیا بلکہ مقبوضہ کشمیر میں رہنے والیے مسلمانوں کئی لااکھ نازہ دم فوج داخل کرتے ہوئے وہاں مکمل لاک ڈاؤن کر دیا،کرفیو کے نافذ پر وہاں کے رہائشیوں کو گھروں تک محصور کردیا،ایک بہت بری مسلم آبادی پر زندگیزندان میں تبدیل کر دی گئی ان کی مذہبی،تجارتی،تعلیمی او روزمرہ کی سرگرمیوں کو قید خانے میں بدل کر رکھ دیا گیا،اس دورانن نہ سرف شمیریوں کو گھروں میں قید رکھا گیا بلکہ ان کے گھروں پر نام نہاد الزامات کے تحت چھاپے مارتے ہوئے ان کے جوان بیٹوں کو لے جا کر کئی کو گولیوں سے چھلنی اور کوئی کو جیلوں میں صعوبتوں کے لئے ڈال دیا گیا،حریت رہنماؤں کو دہلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں ڈال کر ظلم و ستم کے پہاڑ کھڑے کر دئیے گئے انتہائی تکلیف دہ امر تو یہ ہے کہ دنیا بھر میں آنے والی قدرتی آفات جس کا شکار خود انڈیا بھی ہے کے باوجود وہاں ظلم کا باز ویسے کا ویسے گرم ہے،وہاں کے مکین دنیا جہاں کی سہولیات سے الگ تھلگ کر دیئے گئے، ہندوستان کی جانب سے مسلمانوں پر آر ایس ایس نظریہ کے حامل اور انتہا پسند ہندو نریندر مودی کی حکومت کے انتہائی اقدامات پر ساری دنیا پوری طرح با خبر ہے مگر غیروں نے تو کیا،نام نہاد اقوام متحدہ نے تو کیا بلکہ چند ایک کے علاوہ دنیا بھر کے مسلمان ممالک کے حکمرانوں نے کفار حکمرانوں کی طرح بے غیرتی،بے حمیتی،سفاکیت،درندگی،بے رحمی اور انسان دشمنی کا انتہائی بے رحمانہ ثبوت دیا،اس حوالے سے انڈیا بھر میں ابھرنے والے فسادات کئی زندگیوں کو نگل گئے مگر دنیا خاموش رہی،وہاں کی صحافت کو بھی گلہ گھونٹا گیا ایک رپورٹ کے طمابق انڈیا آزادی صحافت کے 20بد ترین ڈیجیٹل شکاریوں ب کی فہرست میں شامل ہے ڈیجیٹل شکاری ان ممالک کو کہا جاتا ہے جہاں ہراسانی،ریاستی سنسر شپ،غلط معلومات اور انگرانی یا جاسوسی شامل ہوں،فلسطین میں گذشتہ سال 348مسلمانوں کو گولویں سے بھون ڈالا گیا2008سے لے کر اب تک اسرائیل کی وحشایانہ بمباری اور اب تک ہزاروں فلسطینی مسلمان شہید ہو چکے ہیں،امریکہ نے تو عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بیت المقدس میں اپنا سفارت خانہ بھی کھول ڈالا،میانمار میں مسلمانوں کی نسل کشی کی گئی وہاں اب بھی2.59سے 4لاکھ مسمان سنگین ترین پابندیوں کا شکار ہیں،7لاکھ سے زائد روہنگیا مسلمان ظلم برداشت نہ کرنے کی سکت رکھتے ہوئے بنگلہ دیش میں پناہ گزین ہو گئے،نوبل انعام یافتہ میانمار کی وزیر اعظم شوچی نے1982میں یہاں ہرنے والے رونگیا مسلمانوں کی شہریت ختم کر دی تھی جو اب تک ریاست سے محروم اور آ زادانہ نقل و حرکت اور دیگر بنیادی حقوق سے محروم ہیں،2013میں تو میانمار کی ریاست دخائن میں مسلمانوں کے قتل عام کیا گیا،مگرانسانیت کے حقوق کے عالمی چیمپئین اور عالمی منصفوں نے مجرمانہ خاموشی اجری رکھی،پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں دنیا مسلمانوں با الخصوص مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے ظلم وستم اور بر بریت سے آ گاہ کیا مگر دنیا ٹس سے مس نہ ہوئی،یہاں تک کہ ترکی اور ملائیشیا کے علاوہ کسی مسلم ملک نے واضح ترین انداز میں اس کی مذمت تک نہ کی،چین کی سر ھد چونکہ انڈیا کے ساتھ ملتی ہے اس نے پاک دوستی یا اپنے مفادات کی خاطر انڈیا کو ان گھٹیا حرکات پر تنبیہ اور برے نتائج کی دھمکی ضرور دی،شام میں گذشتہ9برس سے خانہ جنگی شروع ہے غیر مسلم قوتیں اپنے اپنے مفادات کی خاطر مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ رہے ہیں،50لاکھ سے زائد افراد وہاں سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے،وہاں بمباری کے دوران بچوں اور عورتوں کے لاشے بکھر گئے،مگر سب خاموش،امریکہ نے عراق اور افغانستان میں اینٹ سے اینت بجا دی مگر یہ اس کا حق،پاکستان کو دہشت گردی کی بد ترین جنگ میں دھکیلا گیا یہ الگ بات کہ ہم دنیا کی واحد قوم ہے جس نے کئی جانوں کا نزڑانہ دینے کے باوجود دہشت گردی کے اس عفریت کا ناکام بنایا، ظلم آخر ظلم ہے مٹ ہی جاتا ہے،دکھ تو زیادہ اس بات پر بھی ہے کہ طاقوتی طاقتوں کی طرح ہمارے مسلمان ممالک کیوں بھارتی،اسرائیلی،میانمار عراق، افغانستان کی تباہی اور شام میں ہونے والی خانہ جنگی پر خاموش رہے؟ہم مسلمان ہیں بطور انسان ہم ہر ایک کی خیر مانگتے ہیں چاہے اس کا تعلق کسی بھی مذہب،کسی بھی خطے سے ہی کیوں نہ ہو،مگر یہ بات ضرور غور طلب ہے اس وقت دنیا کی وہی بڑی طاقتیں،کئی اہم ترین اسلامی ممالک اس کی لپیٹ میں ہیں مگر ہندوستان جہاں کا وزیر اعظم پورے ملک کو کرونا وائرس کے ڈر سے لاک ڈاؤن کرنے کی منصوبہ بندی میں مصروف ہے وہیں مقبوضہ کشمیر کے لوگ اس وقت بھی جنگلی جانوروں کی طرح مقید ہیں جن کا کوئی پر سان حال نہیں کچھ پتا نہیں ان کی حالت کیا ہے؟کرونا سے وہ کچھ حد تک محفوظ ہیں،دیگر بیماریوں سے ان کا کیاحال ہے؟خوراک کی کمی نے انہیں کس حد تک نچوڑ رکھا ہے؟حکومت پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کی کرونا کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے ہمیں تمام تفصیلات سے آگ اہ کیا جائے،مگر دنیا کے اس بدمعاش کو دنیا کے دیگر اور بڑے بڑے بدمعاشوں کی آشیر بادحاصل ہے بھلا اسے کیا پرواہ،چین کے شہر ووہان سے شروع ہونے والے اس موذی مرض نے اس وقت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے،حیرت انگیز بات یہ کہ چین کو چولیں ہلانے والے،اس کی معیشت کو تباہ و برباد کرنے والوں کو اب اپنی جان کے لالے پڑ چکے ہیں،چین نے تو متاثرہ شہر تک میں اپنے تعلیمی ادارے کھول دئیے ہیں وہاں زندگی رواں دواں ہو چکی ہے،7مارچ تک دنیا میں متاثرین کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر چکی تھی،متحدہ عرب امارات،کویت اور بحرین سے زمینی رابطے محدود کر دیئے،سعودی شہر قطیف میں لاک ڈاؤن اور پورے ملک میں تعلیمی ادارے بند،مساجد میں نماز ادا کرنے پر پابندی،کویت میں بھی نماز گھر ادا کرنے کا حکم،مسلم ممالک میں اس وائرس سے ایران بری طرح متاثر ہوا ہے گذشتہ روز وہاں ایک دن میں 147ہلاکتیں ہوئیں جبکہ مجموعی طور پر یہ تعداداب تک1135تک پہنچ چکی ہے،ایران میں اعلی سطع کے رہنماء70سالہ آیت اللہ ہاشم ہلاک ہو چکے ہیں امریکہ میں کورونا نے بتدریج تمام50ریاستوں کو اپنی لپیت میں لے لیا ہے،،8مارچ کو اٹلی میں ڈیڑھ کروڑ افراد پر قرنطیہ لاز،می قرار دے دیا گیا،پاپ پوپ فرانسس نے اینجلس کے روایتی خطاب کے لئے صدیوں پرانی روایت ٹورتے ہوئے ٹیکنالوجی کا سہارا لیا اس سے قبل وہ سینٹ پیٹرس اسکوائر پر مخصوص کھڑکی پر آکر بیان کرتے تھے،تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اٹلی میں کرونا وائرس کی وجہ سے اموات ی تعداد4ہزار سے تجاوز کر چکی ہیں وہاں خوف و ہراس کی آندھی ہر طرف گھپ اندھیرا کئے ہوئے ہے،پورے یورپ میں موت کے آسیب کا سایہ ہے،وہاں عوام کو گھروں تک محدود رکھنا حکومت کے لئے وبال بن چکا ہے،اس نے کئی ہفتے قبل ڈیڑھ کروڑ افراد پر قرنطیہ لازمی قرا دیا،قطر نے بھی پاکستان سمیت متعدد ممالک پر پابندی عائد کر دی،چین کے بعد اٹلی اس وقت سر فہرست اور امریکہ دوسرے نمبر پر ہے جہاں یہ وارئس انتہائی تیزی سے پھیل رہا ہے،امریکہ میں 8کروڑ کے قریب افراد اس وارئس کا شکار ہو چکے ہیں خود ڈونلڈ ڑمپ کو چیک کرانا پڑاجن میں ایوان نمائندگان اور امریکی سپریم کورٹ کے آفیشل ڈائریکٹربرائن مونا بھی شامل ہیں،اٹلی کے وزیر اعظم کی اہلیہ بیدرو سانچر کی اہلیہ بیگونا نوگونر بھی محفوظ نہیں،برطانیہ کے یورپی ممالک پر اپنے ملک داخلہ بند کر دیا،دنیا کی متعدد نامور شخصیات اس وقت کرونا کا شکار ہیں،عالمی معیشت کو 20کھرب ڈالر ز کا نقصان پہنچنے کے قریب ہے،جن کا ذکر کیا جائے تو تحریرمزید طوالت پکڑ جائے گی،پورے یورپ اور دیگر طاغوتی طاقتوں میں ہو کا عالم ہے،خد عظیم اس وباء سے انسانیت کو محفوظ کرے آمین،انٹیلی جنس ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ان خطرناک ترین حالات کے باوجود انڈیا اپنی خباثت ترک کرنے کو تیار نہیں (نہ ہی اقوام متحدہ سمیت کسی ملک نے اس پر پریشر ڈالا ہے) کہ اب وہ مقبوضہ کشمیر میں اس وباء کی کے نام پر بے گناہ اور ظلم کے ستائے کشمیریوں کا قتل عام کرنے جا رہا ہے،پاسکتان کی تازہ ترین صورتحال کے مطابق اب تک495افراد میں تصدیق جن میں 252سندھ،92بلوچستان،23خیبر پی کے،5پنجاب،10اسلام آباد،21گلگت اور ایک کا تعلق کشمیر سے ہے جبکہ 3افراد موت کا شکار ہوئے ہیں،دنیا کے منصفو اب بھی وقت ہے مقبوضہ کشمیر کی طرف توجہ دو شاید انہی ناکردہ گناہوں کی سزا پانے والوں کی وجہ سے آج تم سب کو اپنی جان کے لالے پڑ چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  مصحف

یہ بھی پڑھیے :

What is your opinion on this news?

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker