تازہ ترینکالممیرافسر امان

مسلمانوں حرمتِ رسول ؐ کے لیے یہ احتجاج کم ہے؟

گستاخی رسول ؐفکری دہشت گردی ہے اور امریکا کے اندر ناپاک فلم (innocence of muslims)بننے پر جو مسلم دنیا میں احتجاج کیا گیاہے وہ بہت ہی کم ہے۔کیوں نہ مسلم ملکوں کی پوری کی پوری آبادی احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آئی تاکہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے دشمنوں کے دِلوں پر لرزہ تاری ہوتا اور آئندہ آنے والی اپنی نسلوں کو بھی پیغام دے دیتے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی شان میں ادنیٰ سے ادنیٰ گستاخی بھی نہ کرنا …کیوں کہ اس کے چاہنے والی امتِ مسلمہ زندہ اور بیدار ہے ۔ تم نے نبی ؐ کی زندگی میں بھی اُن کو اذیتیں دی تھیں۔بدبختو !تم نے اُس نبی ؐ کی امت کو للکارا ہے جس کا بدلہ نبی ؐ پر جان قربان کرنے والے مسلمانوں نے اس وقت بھی تمہیں شکست سے دوچار کر کے لے لیا تھا ۔اس کے بعد ۹۹سال( بنی امیہ کے دور تک) کے اندر تمہاری حکومتوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی۔ نبی ؐ کے جانثاروں خالد بن ولیڈؓ ، ابو عبیدہ بن جراح ؓ ،سعد بن ابی وقاص ؓ اور بعد میں صلاح الدین ایوبیؒ نے تمہیں ناکوں چنے چبوا دیے تھے، جس مسلمان قوم کے لیڈر طارق بن زیادؒ نے تمہاری زمین کے باہر اپنی کشتیاں جلا کر کہا تھا موت یا فتح… اور پھر اللہ کے حکم سے فتح حاصل کی تھی۔ ارے کم ظرفو! جس پاک ہستی کے لیے اللہ تعالیٰ خود فرما رہا ہے ’’اللہ اور اس کے فرشتے نبی ؐ پر دُرود بھیجتے ہیں،اَے لوگو جو ایمان لائے ہو،تم بھی ان پر دُرود و سلام بھیجو‘‘(سورۃ الاحزاب۵۶ )۔ ناقدرو! دنیا میں ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمان اُس دن سے لے کرآج تک رسولِ محترم صلی علیہ و سلم پردُرود و سلام بھیج رہے ہیں اور تم ہو کہ جہالت پر اتر آئے ہو۔ یاد رکھو!اللہ کے بعد نبی ؐ کا ہی درجہ ہے۔ اس کی تشریع، یعنی مدحتِ رسول ؐ کرتے ہوئے فارسی کے شاعر نے کیا خُوب کہا ہے ’’بعد از خُدا بزرگ تو قصہّ مختصر‘‘۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے بعد نبی ؐ مُحترم ہی افضل ہیں۔ دوسری جگہ پر فرمایا جارہا ہے’’اے نبی ؐ، ہم نے تم کو دنیا والوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے‘‘( سورۃالانبیا۱۰۷) نبیؐ رحمتہ للعالمین ہیں۔ نبی ؐ مُحسن انِسانیت ہیں جو شخصیت تمام جہاں والوں کے لیے رحمت العالمین بنا کر بھیجی گئی ہے جو شخصیت انَسانیت کی مُحسن ہو، نادانوں! وہ تمہارے لیے بھی ویسے ہی رحمت بنا کر بھیجے گئے ہیں جیسے مسلمانوں کے لیے ،وہ تمہارے لیے بھی مُحسن ہیں اور تمہاری کم ظرفی ہے کہ تم اس نبی ؐ رحمت کی شان میں گستاخی کرتے ہو۔ہاں ہاں مسلمانوں کو معلوم ہے تمہارے آبا و اجداد بھی اللہ کے پیغمبروں کے ساتھ ایسا ہی کرتے رہے ہیں انہوں نے انبیاء کو ناحق قتل کیا۔پھر اللہ نے تم کو سزا دی اور امامت تم سے چھین کر امتِ مسلمہ کو دے دی تھی اور اب پھر تم ویسی ہی گستاخانہ حرکتیں کرنے لگے ہو….. میر ا وجدان کہتا ہے کہ وقتی طور پر دنیا کا ورلڈ آڈر جو تم نے قبضہ کیا ہوا ہے وہ اب پھر سنتِ خدا وندی کے تحت مسلمانوں کے ہاتھ آنے والا ہے مصر کے تحریر چوک کو یاد رکھو جس پر اللہ کے ایک بندے نے چالیس لاکھ مسلمانوں کو نمازِ جمعہ پڑھاتے ہوئے اللہ کی کبرایائی بیان کی ہے۔ عرب بہار، مصر،مراکش،لیبیااور خو د تمہاری اس شرارت سے پوری اسلامی دنیا کی اُٹھان نے اس کی شروعات کر دی ہیں… ایمان لے آؤ قبل اس کے کہ اللہ تمہیں نیست ونابود کر دے۔ اللہ کے آگے سربسجود ہو جاؤ ۔ نبی ؐ کی شانِ مبارکہ میں گستاخیاں کرنا بند کر دو ورنہ مکافاتِ عمل کے لیے تیار ہو جاؤ اللہ کی پکڑ میں دیر ہو تو ہوسکتی ہے اندھیر نہیں .
مسلمانوں! آپ کے کرنے کا کام یہ ہے کہ اس جاری احتجاج میں تیزی لاؤ اس کے لیے پلاننگ کرؤ اور اپنے اپنے ملکوں میں تحریر چوک بناتے جاؤ۔ اپنے ان پاک اور نیک جلوسوں میں بنی ؐ محترم پر دُرود و سلام پیش کرتے جاؤ۔ اللہ فساد پسند نہیں کرتا اس لیے اللہ کے حکم اور اپنے نبی ؐ رحمتہ للعالمین کی سیرت پر عمل کرنا ہر گز نہ چھوڑنا۔ دشمن تمہاری صفوں میں شامل ہو کر جلاؤ گھراؤ اور اپنی ہی املاک کو نقصان پہنچائیں گے۔ غیر مسلموں کے سفارت خانوں پر توڑ پھوڑ کریں گے اس سے ہوشیار رہنا۔غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کی بے حرمتی کریں گے۔ ان پر نظر رکھنا کیوں کہ یہ نبی ؐ رحمت کی سیرت کے خلاف ہے ہمارے پیارے نبی ؐ نے مکارم اخلاق کی تکمیل کرتے ہوئے اپنے جانی دشمنوں کو بھی معاف کر دیا تھا۔ مسلمانوں!پُرامن احتجاج مرتے دم تک جاری رکھو۔اگرپُر امن احتجاج سے ۳۰ سے ۵۰ سالہ امریکی پٹھو ڈکٹیڑوں کی حکومتوں سے آزادی مل سکتی ہے تو شاتمَ رسول ؐ امریکا اور اس کی بقایاحواری حکومتوں کو بھی انشا اللہ شکست سے دو چار کریں گے۔ پوری دنیا میں یہ احتجاج اُس وقت تک جاری رہنا چاہیے جب تک اقوام متحدہ قانون پاس نہیں کرتی کہ رسول ؐ کی شان میں گستاخی قابل جرم فعل ہو گا اگر مٹھی بھر یہود ہولو کاسٹ پر قانون پاس کروا سکتے ہیں تو کیا ڈیڑھ ارب سے زیادہ مسلمان یہ جائزکا م نہیں کروا سکتے اس پرُامن احتجاج کی وجہ سے مسلمان دنیا میں امریکہ پٹھو حکمرانوں سے امتِ مسلمہ کی جان چھوٹے گی اور آذاد جمہوری اسلامی فلاحی ریاستیں بھی مسلم دنیا میں قائم ہو نگی۔ بلا آخر مسلمانوں کی
خواہش کے مطابق خلافت بھی قائم ہو گی۔ مشتری ہوشیار باش ! دشمن شیطان تمہیں ’’چوں کہ چناچہ‘‘ میں مصروف کرنا چاہتا ہے اس سے ہوشیار ہونا پڑے گا اگر حرمتِ رسول ؐ کے لیے کوئی بظاہر گناہ گار مسلمان( حالا ں کہ دلوں کا حال اللہ ہی جانتا ہے ) ایک دینی فریضہ ادا کر نا چاہتا ہے تو کیا یہ کام صرف علماء ہی کا ہے؟۔نہیں نہیں! یہ ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے اور وہ یہ کام کر سکتا ہے تمام مسلمانوں کو سلام پیش کرنا چاہیے محترم غلام محمدبلور عوامی نیشنل پارٹی کے لیڈر اور وفاقی وزیر ریلوے کو کہ انہوں نے شاتمِ رسول کے سر کی قیمت لگائی ہے۔باوجود اپنی پارٹی، اتحادی حکومت،غیر ملکی حکومتوں کے دباؤ کے مردِ پٹھان ڈٹ گیا ہے اور اپنا بیان بار بار دوہرا رہا ہے۔عوام ایسی ہی بہادری اور نبی ؐ سے محبت کا رویہ دوسرے لیڈروں سے چاہتے ہیں۔ سماجی تنظیموں ،این جی اوئز ،سیاسی اور مذہبی لیڈروں سے بھی ایسے ہی رویے کی توقع کر رہے ہیں۔مسلمانوں ان مکڑی کے جالوں سے مت ڈرو اور حرمتِ رسول ؐ پر کٹ مرنے کے لیے تیار ہو جاؤ اللہ تمہارے ساتھ ہے تم ہی کامیاب ہو گے ان شا اللہ۔ کراچی میں اہلسنت جماعتوں کا ۱۰ لاکھ سے زیادہ انسانوں کا ٹھاٹیں مارتا ہوا سمندر تھا اپنے رسول ؐ سے عقیدت کا اظہار کیا۔ یہ مثالی اور پُر امن جلوس تھا۔ آج اہلسنت والجماعت کے رہنماوں نے کراچی میں ہر حالت میں ناموسِ رسالت ؐ ریلی نکالنے کے بیان پر عمل کرتے ہوئے پُرامن ریلی نکالی۔پشاور میں دفاع پاکستان کونسل نے ناموسِ رسالت ؐ کے لیے تیاری کر لی ہے یکم اکتوبر کو خیبرپختونخواہ کی تاریخ کی مثالی ریلی ہو گی۔شباب ملی کراچی نے بھی ۳ اکتوبر کو ورکرزکنونشن کا اعلان کیا ہے۔ جماعت اسلامی کراچی نے ۷ اکتوبر کو ناموسِ رسالت پُرامن ریلی کا اعلان کیا ہے جو یقیناً پہلے کی طرح لاکھوں افراد پر مشتمل ہو گی انشا اللہ۔ آج لاہور میں جماعت اسلامی اور جماعتہ الدعوۃ اور دوسری تنظیموں کی ریلیاں نکلیں۔ خیبرپختونخواہ کے شہر مردان بینک روڈ میں شباب ملی کے زیر اہتمام حرمت رسول ؐ عزم اسلامی انقلاب یوتھ کنونشن سے خطاب کیا اس میں ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں نے شرکت کی ۔پورے ملک میں پر امن احتجاج جاری ہے ۔ پروگرموں میں او�آئی سی کو متفقہ قراداد کو عملی جامہ پہنانے تک اپنا احتجاج جاری رکھنے کا کہا گیا۔جب تک اقوام متحدہ قانون سازی نہیں کرتی یہ احتجاج جاری گا۔
قارئین!ناموسِ رسالت ؐکا احتجاج اس وقت تک جاری رہنا چاہیے جب تک اقوام متحدہ قانون سازی نہیں کرتی۔احتجاج ہر حالت میں پرامن ہونا چاہیے۔ تمام اسلامی ملکوں اور دنیا میں جہاں جہاں مسلما ن آباد ہیں مسلسل احتجاج جاری رہنا چاہیے۔مسلمان ملک اپنی اپنی پارلیمنٹس میں ناموسِ رسالت ؐ کے لیے متفقہ قراردادیں پاس کریں۔پرنٹ میڈیا میں اس مسئلے پر بھر پور بحث ہونی چاہے۔ الیکٹرونک میڈیا ٹاک شو پر پروگرام ہونے چاہیے ۔ کالم نگار اپنے کالموں میں ، مضمون نگار اپنے مضامین میں، تجزیہ نگار اپنے تجزیوں میں علماء اپنے جمعہ کے خطبوں میں اور ملت کا ہر فرد اپنے اپنے حلقہ اختیارمیں یہ احتجاج جاری رکھیں۔اس مسئلے پر منفی رویہ رکھنے والے ہر شخص کو یاد رکھنا چاہیے کل یوم حساب کے دن وہ اپنے رب کو کیا جواب دے گا… صاحبو!یہ بہت ہی نازک مسئلہ ہے ۔ یہ فکری مسئلہ ہے۔ اس میں پھونک پھونک کر قدم اٹھانا ہو گا دشمن مسلمانوں کو غلط راستے پر ڈالنا چاہتا ہے دشمن کو ہر محاذ پر شکست دینی ہو گی کیونکہ یہ مسلمانوں کے ایمان کا مسئلہ ہے ساتھ ہی ساتھ اللہ سے دعا کرنی چاہیے تا کہ مسلمان اس نیک اور پاک مہم میں کامیاب ہوں آمین۔

یہ بھی پڑھیں  سیالکوٹ: 2 رائس ملوں پر چھاپے، غیر قانونی طور پر ذخیرہ کی گئیں گندم برآمد، مقامی انتظامیہ

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker