شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / مستحکم پاکستان۔۔۔کس کی ذمہ داری؟

مستحکم پاکستان۔۔۔کس کی ذمہ داری؟

وزیراعظم پاکستان عمران خان کا بہت قابل اعتماد طبقہ وہ پاکستانی بھی ہیں جو بیرون ملک مقیم ہیں اور اپنے وطن کیلئے اپنا خون پسینہ ایک کرکے اس سے حاصل ہونے والی آمدنی اپنے ملک پاکستان بھیجتے ہیں جس سے پاکستان کی اقتصادی ومعاشی حالت مستحکم ہوتی ہے،ابھی عمران خان کو وزارت اعظمی کا عہدہ سنبھالے چند ہی ہفتے گزرے تھے کہ انھوں نے قوم سے اپنا ایک خصوصی خطاب کیا۔اس خطاب میں انھوں نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے پاکستان میں ڈیم بنانے کیلئے فنڈزدینے کی درخواست کی۔جس پر بہت بڑی رقم پاکستان آنا شروع ہوئی ،یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ بیرون ملک مقیم افراد نے کسی خاص منصوبے کیلئے اپنی جمع پھونچی پاکستان بھیجی ہو بلکہ عمران خان کی اس طبقہ پر اعتماد کی وجہ ہی یہ ہے کہ یہ طبقہ عمران خان کا آزمایا ہوا طبقہ ہے اور فراخ دل بھی۔حکومت نہ صرف ان کے بھیجے ہوئے سرمایہ پر اکتفا کرتی ہے بلکہ اپنی طرف سے اوور سیز پاکستانیوں کیلئے ان کے مسائل کو اچھے طریقے سے حل کرنے کیلئے سنجیدگی سے اقدامات بھی کرتی ہے،پنجاب میں یہ کام اوور سیز پاکستانیز کمیشن کرتا ہے جس کی کارگردگی نہ صرف قابل اطمینان ہے بلکہ دوسرے اداروں کیلئے ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتی ہے کہ جس انداز میں اوپی سی نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے مسائل حل کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے وہ قابل تعریف ہے ۔صوبائی سطح پر اوور سیز پاکستانیز کمیشن کا سربراہ چیئرمین یعنی و زیراعلیٰ پنجاب ہوتاہے،جو کہ سردار عثمان بزدارہیں اسکے بعد وائس چیئرپرسن کا عہدہ ہوتاہے جس پوسٹ پر آج کل چوہدری وسیم اختر جیسا فعال اور متحرک کردارکا مالک مخلص انسان اپنی شب و روز کی محنت سے اس ادارے کی کارگردگی کو اعلیٰ سے اعلیٰ بنانے میں کوئی کسراٹھا نہیں رکھ رہا۔اوور سیز پاکستانیز کمیشن کا ایک اور نگینا عثمان انور ہے جو ڈائریکٹر جنرل کی حیثیت سے اپنا طویل ترین تجربہ سے اپنی ذمہ داریاں نبھاررہا ہے۔گورنز ر پنجاب چوہدری سرور کا اوور سیز پاکستانیز کمیشن میں نے بھی نئی روح پھونکنے میں کلیدی کردارادا کیا ہے ،اس تمام ٹیم کی حالیہ کارکردگی سے اوپی سی کی افادیت میں بے پناہ اضافہ ہواہے۔ایک اہم اور حالیہ اقدام میں اوور سیز پاکستانیز کمیشن کے ممبران کے تقرر کی سمری وزاعلیٰ پنجاب کو بجھوا دی گئی ہے جس کا نوٹیفکیشن جلد موقع ہے،کمیشن کی تشکیل کے بعد ضلع کمیٹیوں کے چیئرمینوں اور ارکان کی تقرری بھی کردی جائے گی، لاہورہائی کورٹ کے معزز چیف جسٹس صاحب کے ساتھ اوور سیز پاکستانیز کمیشن کے وفد نے گورنر پنجاب چوہدری سرور کی سربراہی میں ملاقات بھی کی ہے۔جس میں یہ طے کیا گیا ہے کہ اوور سیز پاکستانیز کمیشن کے لئے صوبہ بھر میں عدالتیں مختص کی جائیں گی اور ان کے مقدمات کا فیصلہ چھ ماہ کے اندر کیا جائے گا جو کہ میرے خیال میں ایک نہایت احسن فیصلہ ہے،اس عمل کی تکمیل کے لئے لاہورہائی کورٹ کے زیر اہتمام خصوصی ڈیسک تشکیل دیا جائے گا،جس کا باضابطہ رابطہ اوپی سی کے ساتھ ہوگا۔اوور سیز پاکستانیوں کو ون ونڈو کی سہولیات مہیا کرنے کے لئے کمپلینٹ ویب پورٹل کو دوبار ہ ڈیزائن کیا گیا ہے جس پر پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے ذریعے عمل درآمد کیا جائے گا،چند ماہ قبل اوپی سی کے وفد نے وائس چیئر پرسن چوہدری وسیم اختر کی سر براہی میں انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب سے ملاقات کی جس میں طے پایا کہ اوپی سی کی طرف سے بجھوائی جائے والی شکایات پر 30دنوں میں کاروائی کی جائے گی، ڈی پی اوز کے دفاتر میں قائم اوور سیز کمپلینٹ ڈیسک کا نچارج انسپکٹر سطح کا افسر ہوگا،اوور سیز پاکستانیوں کی شکایات کو سی پی او،ڈی پی اویا ایس پی رنیک کا افسر سنے گا، تمام ڈی پی او زاوورسیز پاکستانیوں کی زیر التوا شکایات کو مقررہ وقت میں نمٹائیں گے، سی سی پی او لاہور کے دفتر میں ڈسٹرکٹ اوور سیز پاکستانیز کمیٹی کا اجلاس باقاعدگی سے منعقد ہوگا، آئی جی پولیس پنجاب اوور سیز پاکستانیوں کی شکایات کی مانیٹر نگ خود کریں گے تاکہ ان کے فوری ازالے کو یقینی بنایا جاسکے،او پی سی پورٹل کو پولیس کے سنٹرل مانیٹرنگ سسٹم 8787سے منسلک کیا جائے گا، اوور سیز پاکستانیز کمیشن کو مزید فعال بنائے کے لئے اوپی سی ایکٹ 2018ء میں ترامیم تجویز کی گئی ہیں جن کو ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور محکمہ قانون کو ارسال کردیا گیا ہے تاکہ ان کی صوبائی اسمبلی سے منظوری حاصل کی جاسکے،کمیشن کی تشکیل کے بعداوور سیز پاکستانیز کمیشن کمپلینٹ پورٹل کوسفارت خانوں کے ساتھ منسلک کیا جائے گا۔جس رفتار سے وائس چیئرپرسن چوہدری وسیم اختر اپنے محکمے کی کارکردگی کو بہتر بنائے کیلئے اقدامات اٹھارہے ہیں جلد اس کے اثرات نمودار ہونا شروع ہوجائیں گے جس سے پاکستان کو مزید استحکام ملے گا۔چوہدری وسیم اختر نہ صرف اپنے ملک میں اوور سیز پاکستانیز کمیشن کے مسائل حل کرنے کی تگ دو کررہے بلکہ دوسرے ممالک کے وفودسے بھی گاہے بگا ہے ان کی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے جس میں پاکستانیوں کے مسائل زیر بحث لائے جاتے ہیں۔سو یہی وہ موثر اقدامات ہیں جو اوور سیز پاکستانیز کوریلیف فراہم کرنے کا باعث ہونگے۔چوہدری وسیم اختر کی نیک نیتی کا سبب ہے کہ ان کی آواز ہر ملکی و غیر ملکی فارم پر سنی جارہی ہے اور ان کو مکمل تعاون کی نہ صرف یقینی دہائی کراتی جاتی ہے بلکہ عملی کوششیں ہوتی نظر بھی آرہی ہیں۔میری نظر میں سمندر پار پاکستانیوں کی شکایات کے ازالے کے طریقے کار،ادارے کی کارکردگی او ر او پی سی ایکٹ کی ترامیم کی سفارشات کے اقدامات ان کی کارگردگی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  کترینا کیف عربی سیکھنے کی تیاریوں میں مصروف