بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

مظفرآباد سرینگربس و ٹرک سروس ۔۔امن کی بنیاد

پاکستان اور بھارت نے امن کی کوششوں کو تیز تر کرنے کے لئے کئی اقدامات پر کام شروع کر رکھا ہے بالخصوص تنازعہ کشمیر سے پیدا شدہ حالات کی روشنی میں مشرف دور میں پہلے مرحلہ پر کشمیر کے آرپار شہریوں کو بس سروس کے ذریعے آنے جانے کی سہولیات فراہم کی گئیں اور بعد ازاں دوطرفہ تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے ٹرک سروس کے ذریعے تجارتی سرگرمیوں کو تیزی کے ساتھ شروع کیا گیا ۔ان اقدامات سے دونوں اطراف کے شہریوں نے پورے اعتماد اور بھر پور تعاون کے ساتھ تجارت اور آمد و رفت کو جاری رکھا اگر چہ بس سروس اور ٹرک سروس میں شامل ہونے کے لئے پیچیدہ قواعد و ضوابط بنائے گے مگر اس کے باوجود دونوں طرف کے کشمیریوں نے پاکستان اور بھارت کی حکومتوں سے حتیٰ المقدور اعتماد سازی کے اس عمل کو جاری رکھنے میں کوئی سستی یا لاپروائی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ شروعات میں بس اور ٹرک سروس انتہائی کامیاب رہی اور اس سے دونوں اطراف کے باشندوں نے کافی استفادہ بھی حاصل کیا مگر گذشتہ چند ماہ بھارت کی جانب سے یکے بعد دیگر بعض اشیاء کی پابندیوں اور مال کے بدلے مال کی بنیاد پر تجارتی حلقوں میں کروڑوں روپے کا خسارہ اور اس کے نتیجے میں کافی سرد مہری کا سامنا ہے۔حیران کن امریہ ہے کہ جب یہ ٹرک سروس شروع کی گئی تھی تو اس وقت دو کراسنگ پوائنٹ جو چکوٹھی اوڑی اور تتری نوٹ چکندا باغ پونچھ بنائے گے تھے،ان دونوں کراسنگ پوائنٹس پر آذادکشمیر سے 1250 اور جموں کشمیر سے 900تاجران رجسٹرڈ ہیں جو بھارت کی جانب سے ناقص منصوبہ بندی کے سبب کم ہو کر اب دونوں اطراف سے 20سے 25تاجر ان مشکل حالات میں تجارتی عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔رواں ہفتہ کے دوران اطلاعات کے مطابق 69ٹرکوں نے لائن آف کنٹرول کو کراس کیا ۔سب سے ذیادہ آذادکشمیر سے 46جبکہ مقبوضہ کشمیر سے 23ٹرک آئے۔دو طرفہ تجارت کو کسٹم فری رکھا گیا تھا مگر اس کے باوجود جب یہ تجارت اپنے عروج پر تھی تو اس وقت سب سے پہلے جو ٹرک پاکستان کی حدود میں داخل ہوتا تھااسے( ایف بی آر) والے بہارہ کہو کے مقام پر پکڑ کر لاکھوں روپے ہتھیا لیتے تھے جس سے تاجروں کو بہت نقصان اٹھانا پڑا ۔اگرچہ اس بارے کئی بار آواز بلند کی گئی ،تاجروں نے ہڑتالیں کیں مگر بڑی مشکل اور کافی نقصان ہونے کے بعد وزیر اعظم آذادکشمیر چوہدری عبدالمجید اور وفاقی وزیر تجارت مخدوم امین فہیم کے نوٹس میں یہ بے قاعدگی سامنے لائی گی تو پھر ان کی ہمدردانہ اقدامات کے نتیجے میں ٹیکس مافیا سے ریلیف میسر آیا مگر اب چند ماہ سے بھارت نے منافع بخش اشیاء پر پابندی عائد کر دی ہے جس سے چکوٹھی اور تتری نوٹ کراسنگ پوائنٹ شدید متاثر ہو چکے ہیں ۔ جب سے یہ تجارت شروع ہوئی ہے پہلی بارگذشتہ ہفتے کے دوران ایک دن میں دو ٹرک تتری نوٹ کراسنگ پوائنٹ سے پار گے جبکہ جموں کشمیر سے کوئی بھی ٹرک آذادکشمیر نہیں آیا ۔ ذمینی صورت حال یہ ہے کہ مال کے بدلے مال کی تجارت نے بھی تاجروں کو بے انتہا مالی نقصان سے دوچار کر دیا ہے ۔اگر چہ اس کے باوجود ڈائریکٹر جنرل ٹریڈ اینڈ ٹریول بریگیڈیئر محمد اسماعیل نے تاجروں کو کافی سہولیات فراہم کیں مگر بنیادی طور پر بھارت کی جانب سے سطحی طور پر بعض اقدامات نے تاجروں کو مالی طور پر کروڑوں روپوں کا مقروض کر دیا ہے ۔اگر بھارتی حکام کا یہ رویہ رہا تو دونوں اطراف کے عوام اور تاجر بس و ٹرک سروس سے کنارہ کش ہو جائیں گے جس سے ایک طرف تاجروں کو بھاری سرمائے سے محروم ہونا پڑے گا اور دوسری جانب پاک بھارت امن کوششیں ناصرف متاثر ہونگی بلکہ اعتماد سازی کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ تجارت ہمیشہ دونوں فریقین کی رضا مندی اور منافع سے مشروط ہوتی ہے جبکہ دونوں تاجروں کی آمنے سامنے معاملات طے ہونا تجارتی ترقی کے لئے بنیادی جز ہے۔مگر دونوں طرف سے تجارت کا یہ حال ہے کہ دونوں اطراف کے تاجر گذشتہ تین برسوں کے دوران باہمی طور پر باقاعدہ کہیں بھی آمنے سامنے نہیں بیٹھے یہ پوری دنیا میں بڑے سے بڑے اور چھوٹے سے چھوٹے تاجر کا بنیادی اصول اور قاعدہ ہے کہ وہ مال کی خرید و فروخت میں اپنا آفادہ مدنظر رکھ کر تجارتی معاہدے پر باہمی رضا مندی یقینی بنائے جبکہ حیران کن بات یہ ہے کہ دونوں اطراف کے تاجروں کو فون کال کی سہولت بھی یکطرفہ رکھی جا نانا قابل سمجھ ہے ،پاکستان نے فون کال کی سہولت رکھی ہوئی ہے لیکن بھارت نے کشمیر سے فون کال کی سہولت نہیں رکھی جس سے باہمی روابط متاثر ہونے سے براہ راست تجارتی سرگرمیوں کو نقصان پہنچ رہا ہے ۔ضروری امر یہ ہے کہ تجارت کے عالمی اصولوں کے مطابق دونوں اطراف کے تاجروں کو آپس میں کاروباری معاملات طے کرنے کے لئے خصوصی طور پر پرمنٹ دیئے جائیں ،روابط کو بہتر کرنے کے لئے بھارت پر واضح کیا جائے کہ وہ فون کال کرنے کی سہولت دے تاکہ تاجر کاروبار بڑھانے کے لئے آسانی سے آر پار جا سکیں اور روزانہ کی بنیاد پر نرخوں کے مطابق خرید و فروخت کے معاملات بہتر بنا سکیں ۔درپیش صورت حال میں ممکن نہیں کہ دوطرفہ تجارت ترقی کر سکے چونکہ تجارتی قاعدے کے مطابق موجودہ طریقہ کار ہر گز مفید نتائج نہیں دے سکتا۔ اگر بھارت نے یہ طے کر لیا ہے کہ وہ نہ تاجروں کو باہمی روابط کی سہولت دے اور نہ ہی تجارت کے اصولوں کی پاسداری کرئے اور انتظامیہ تاجروں کی مشاورت کے بغیراز خود بزنس لسٹ میں اپنی مرضی و منشاء کے مطابق آئیٹم شامل کرنے کا تعین کرئے تو اس طرح باہمی تجارت سود مند ثابت نہیں ہو سکے گی اور اس طرح تجارت کسی بھی سطح ،اصول اور قاعدے سے پروان نہیں چڑھ سکے گی۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان سینکڑوں تاجروں کا کیا ہو گا جو کروڑوں روپے اس تجارت میں لگا اور پھنسا بیٹھے ہیں۔۔؟یہ بھی علم میں آیا ہے کہ کئی تاجر بھاری نقصان کے سبب بسترِ مرگ پر پہنچ چکے ہیں اور سینکڑوں اپنا قیمتی اثاثہ لٹا چکے ہیں ۔ایسے حالات میں تاجروں کو تجارتی آفادہ دینے کے لئے ایک حل یہ ہے کہ تجارتی اشیاء ہر دونوں طرف کے تاجروں کے مشورے اور باہمی فیصلے سے آئیٹم لسٹ میں شامل کی جائیں یہ طے شدہ تجارتی اصول بھی ہے کہ تجارت فریقین کی رضا مندی سے ہی ممکن ہوتی ہے نیز مال کے بدلے مال کے بجائے نقدی cashتجارت کے لئے چکوٹھی آذادکشمیر کراسنگ پوائنٹ پرجے اینڈ کے بنک اور بھارتی کشمیر کے سلام آباد اوڑی کراسنگ پوائنٹ پر اے جے کے بنک برانچ قائم کی جائے تاکہ خرید و فروخت کرتے وقت دونوں فریقین اطمینان کر لیں کہ ان کے مابین کوئی لین دین اور کسی قسم کا ابہام نہیں ہے ۔اس طرح تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ممکن ہو سکتا ہے ،تجارت کا مروجہ طریقہ کسی بھی لحاظ سے خسارے کا باعث نہیں ہوتا جب بھی تجارت میں یکطرفہ افادہ پیش نظر ہوتا ہے وہ تجارت کھبی بھی کامیاب نہیں ہو سکتی اور طلب و رسد بنیادی تجارتی اکائی ہوتی ہے جسے دونوں ممالک اختیار کر کے اعتماد سازی کے اس عمل کو آگے بڑھا سکتے ہیں ۔یہ امر بھی لائق توجہ ہے کہ جب ماضی میں اعتماد سازی )CBM) کی بنیاد رکھی گئی تھی تو اس سے یہ مقصود تھا کہ امن کی بحالی کی جائے جبکہ بس اور ٹرک سروس اس کی ابتدائی کوششوں کا حصہ تھا۔ اسی طرح بس سروس کو بھی متاثر کیا جا رہا ہے ،انتظامیہ اپنی مرضی سے دونوں اطراف کے شہریوں کو آنے جانے کے لئے منتخب کرتی ہے جبکہ جن افراد کا آنا جا ناسود مند ہوتا ہے انہیں پرمٹ نہیں دیا جاتا اس وجہ سے آمد و رفت میں کمی ہو رہی ہے لیکن افسوس سے یہ اعتماد سازی کا عمل روز بروز اپنی افادیت کھو رہا ہے اور اس سے دونوں ممالک کے درمیان خلاء پیدا ہونے کا خدشہ اور تناؤ جنم لے سکتا ہے اور اس سے امن دشمن عناصر فائدہ اٹھا سکتے ہیں جو دونوں ممالک کے لئے بد امنی ،تناؤ اور کشیدگی کا باعث بن سکتے ہیں ا گر اس عمل کو کسی درپردہ سازش کے تحت بند کرنا مقصود ہو تو اس کا سارا نزلہ تاجروں پر ڈالنا کسی طور درست نہیں اب اس کا دوسرا حل یہ ہے کہ دونوں ممالک (پاکستان اور بھارت) دونوں اطراف کے کشمیری تاجروں کو ان کا مالی نقصان برداشت کرتے ہوئے جس قدر نقصان کی رقم بنتی ہے وہ ان تاجروں کو ادا کر دی جائے اور اس پر اتفاق کرکے دو طرفہ تجارت کا ڈھونگ بند کر دیں ۔اگر یہ تجارت دونوں اطراف کے کشمیریوں کے حق میں نہیں ہے تو اس کا اختتام مثالی طور پر کرتے ہوئے کروڑوں روپے کے نقصانات دونوں حکومتیں اصولی طور پر برداشت کرنے کی پابند ہونی چاہئیں۔ان دو آپشنز کے سوا کوئی اور راستہ نظر نہیں آتا ہے جو دوطرفہ تجارت کے فروغ یا اس کی بہتری کے لئے معاون ثابت ہو۔اگر تاجروں کا نقصان دونوں حکومتیں برداشت نہیں کر سکتیں ہیں تو انہیں ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جن سے تجارتی ماحول پیدا ہو اور اس کا فائدہ ہر صورت دونوں ممالک اور ان سے متعلق تاجروں کو بھی نظر آئے ۔امید کی جاتی ہے کہ سینکڑوں تاجروں کی مایوس کن صورت حال کو خوشگوار مستقبل میں بدلنے کے لئے پاکستان اور بھارت ہمدردانہ رویہ اور پر کشش تجارتی معاہدے کی از سرِ نو بنیاد رکھ کر قیام امن اور اعتماد سازی کے عمل کو کامیاب کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں  تحفظ حقوق نسواں بل خاندانی نظام توڑنے کے خلاف سازش ہے۔ آل پارٹیز کانفرنس

یہ بھی پڑھیے :

6 Comments

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker