پاکستانتازہ ترین

آزادکشمیر:علماء نےآل پارٹیز سنی ایکشن کمیٹی قائم کردی، احتجاجی تحریک کااعلان

muzaffarabadمظفرآباد(مانیٹرنگ سیل)آزادکشمیر کے علماء نے آل پارٹیز سنی ایکشن کمیٹی قائم کرتے ہوئے سانحہ راولپنڈی کے خلاف آج سے آزادکشمیر بھر میں پر امن احتجاجی تحریک کا اعلان کر دیا حکومت سانحہ راولپنڈی کے مجرموں کو قرار واقعی سزا دے بصورت دیگر ملک گیر احتجاج ہو گا اور پارلیمنٹ ہاؤ س اسلام آباد میں وفاق المدارس اور تمام دینی جماعتوں کی کال پر بیس لاکھ افراد کا احتجاجی دھرنا دیا جائے گا۔مظفرآباد کے مقامی ہوٹل میں مولانا محمود الحسن ،مولانا قاری عبدالمالک توحیدی ،مولانا عتیق الرحمن دانش نے دیگر علما مولانا محمد فیاض خان ،مولانا محمد یونس شاکر،مفتی غلام رسول،قاری بلال ،مولانا منظور الحسن ،مولانا سعید الحسن ،سیف اللہ ،مولانا عبدالمالک کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ راجہ بازار کی قدیمی اور تاریخی جامع مسجد اور دارالعلوم تعلیم القرآن اور سیکڑوں دوکانوں پر مشتمل مارکیٹ کو نذرآتش کرنے اور درجنوں نمازیوں ،علما اور معصوم طلبہ کو شہید کر کے پاکستان کے یکجہتی کو قتل کیا گیا ہے ۔وفاقی اور پنجاب کی صوبائی حکومت ملزمان کو ہر حال میں کیفر کردار تک پہنچائے اور ہر قسم کی مسلکی جلوسوں اور اجتماعات جن میں اسلحہ سے لیس افراد شریک ہوتے ہیں پر پابندی عائد کرے جن کا اسلامی فرائض سے کوئی تعلق نہیں اس لئے ان اجتماعات کو عبادت گاہوں تک محدود کیا جائے ایسے اسلحہ بردار جلوسوں سے ملک میں انتشار پھیل رہا ہے اور معصوم مسلمانوں کی جانیں ضائع ہو رہی ہیں اور یہ اجتماعات انسانی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے عوام کو بھی اس سے مشکلات کا سامنا ہوتا ہے ۔علمانے احتجاجی تحریک کی میڈیا کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ آج انیس نومبرمنگل کے روز سے احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جا رہا ہے اس موقع پر دارالحکومت مظفرآباد میں احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا ۔جبکہ جمعہ بائیس نومبر کے روز کوآزادکشمیر بھر میں پر امن یوم احتجاج منایا جائے گا ۔ایک سوال کے جواب میں رہنماؤں کا کہنا تھا کہ راولپنڈی سانحہ کی متضاد اطلاعات آرہی ہیں تاہم اب تک جو معلومات اکھٹی کی گئی ہیں سانحہ میں درجنوں نماز ،علما اور معصوم طلبہ کو ذبح کیا گیا ،ایک سو پچاس ذخمی ہو ئے اور اب تک 70سے زائد طلبہ و علما اور دیگر افراد لاپتہ ہیں ،تین ہزار سے زائد قرآن پاک کے نسخے پانچ ہزار سے زائد احادیث کی کتب جلا کر شہید کی گئی ہیں ۔جبکہ 108دوکانوں پر مشتمل مارکیٹ جلائی گئی ہے جس میں اربوں روپے مالیت کا نقصان ہوا اور تین ہزار افراد بیروزگار ہوئے ہیں ۔علما نے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق چیف جسٹس سید سجاد علی شاہ کی طرف سے سنی، شیعہ اختلافات کو حل کرنے کیلئے قائم کیا گیا کمیشن بحال کیا جائے اور اس کمیشن کی رپورٹ کو سامنے لایا جائے اور رپورٹ کی روشنی میں قانون سازی کی جائے ۔علما نے محرام الحرام کے دوران آزادکشمیر میں حکومت اور انتظامیہ کی طرف سے سنی مدارس اور مساجد کو سیکیورٹی فراہم نہ کرنے پر شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ حکومت کے اقدامات سے دینی مدارس کے طلبہ اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں اس لئے فوری طور پر دینی مدارس کو سیکیورٹی مہیا کی جائے ۔انہوں نے کہا کہ سانحہ کے بعد ملک بھر کے تیس ہزار دینی مدارس لاکھوں مساجد اور تیس لاکھ طلبہ اور علمائے کرام میں احساس عدم تحفظ پیدا ہو گیا ہے اگر فوری طر پور اس سلسلہ میں کوئی اقدامات نہ کئے تو منظم احتجاج کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button