تازہ ترینکالم

مذاکرات کی دھول

واہ کیا بات ہے جناب کیا کہنے بمباری سے دہشت گردی ختم نہیں ہوتی اور خود کش حملوں سے اسلام کی تبلیغ نہیں ہوتی کے بعد نیا ایڈیشن جہازوں کی بم باری کی دھول میں مذاکرات نہیں ہو سکتے ۔ امریکہ سے بلواسطہ مذاکرات جاری ہیں سارا اختیار فوج کے پاس ہے حکومت بے اختیار ہے ۔دونوں کمیٹیاں ختم کرکے فوج اور طالبان میں براہ راست مذاکرات کریں شاید اس طرح امن کا کوئی رستہ نکل آئے ۔ آئین کو نہیں مانتے حکومت پہلے جنگ بندی کا اعلان کرے مذاکرات سے مسائل کا حل چاہتے ہیں ۔ یہ وہ افکار مقدسہ ہیں جو ایک طبقہ کی خاص کی جانب سے اس قوم کی سوچ کو متاثر کرنے کیلئے شائع کرائے جارہے ہیں۔ عجب سماں ہے کہ الٹا چور کوتوال کے ڈانٹے ۔
آئین کو نہ ماننے اور اسلامی شریعت کے برخلاف اعمال کے باوجود بھی ابھی پاکستان اور پاکستانی ہی مجرم ٹھہرے ۔ بہت سے ایشو ایسے ہوتے ہیں جن پر قلم طرازی اور قلم دارزی کے فوائد کم اور اس کے نقصانات بحیثیت مجموعی زیادہ ہوتے ہیں۔ اس کے ذاتی فوائد اور ملی اور قومی نقصانات کا توازن رکھنا ضروری ہے ۔ طالبان اور حکومت کے ساتھ عسکریت پسندوں کے مذاکرات میں عسکری قوت کی شمولیت بھی ایک ایسا ہی زیر قلم ایشو ہے ۔ ضروری ہے کہ بحیثیت مجموعی دیکھا جائے نہ کہ اس کو ایک فریق کے طور پردیکھا جائے ۔ معاشرے کا ایک گروہ اگر ملک کے آئین کو ہی ماننے کو تیار نہیں تو اسی آئین کی ڈرائینگ سے ہی تو ملک کا نقشہ اور نام ہے ۔ بلواسطہ یہ پاکستان کے وجود سے انکار کے مترادف بات قرار پاتی ہے ۔ممکن ہے کہ عسکریت پسندوں کے ذہن کے کسی گوشے میں بھی یہ بات نہ ہو ۔ پھر بھی اس طرز عمل سے دیگر افراد کو عسکریت کے زور پر اپنے مطالبات پیش کرنے کا نمونہ اور ترغیب ہو تی ہے۔
عسکریت پسندوں کو معاشرے میں اسلام کی تبلیغ کی ترغیب اگر عسکریت کے ضرور پر کرنا جائز نظر آتی ہے تو ان عسکریت پسندوں کو بموں کی دھول میں مذاکرات پر اعتراض کیوں ؟اپنے افکار اور اعمال میں بے ترتیبی اور ان کا اسلامی تعلیمات ومعاشرت سے بیگانہ پن ہی ان کے راہ کا اصل روڑا ہیں۔ عسکریت پسندوں نے پاکستان کو مٹی کا گھروندا سمجھ لیا ہے یا پھر کانچ کی چوڑیاں جو ہر وقت اسے توڑنے اور اس کے ٹوٹ جانے کی آس ان کے بیانات اور خوابوں میں ہے۔ یقیناًمذاکرات کیلئے حکومت نے اچھا اقدام کیا لیکن اس کے جواب میں عسکریت پسندوں اور ان کے نمائیندوں کا طرز عمل ہرگز بھی قابل ستائش نہیں۔ آئین وقانون سے اغراض برتنے والوں کا یہ طرز عمل ہرگز بھی قابل ستائش قرار دینے کہ وہ ملک وقوم کو اپنے نظریات اور افکار کی بلیک میلنگ کے ذور پر نیچا دکھا کر فاتح بن جائیں۔
ان کے استاتذہ کو یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ آئین وقانون کے دائرے میں کیسے بات کریں اور اس کو ماننے کا اعتراف کیسے کریں۔ یہ دوغلا پن ہی اس سارے معاملے کو الجھا رہا ہے ۔ ایک طرف تو وہ عسکریت پسندوں کے نمائیندے ہیں اور دوسری طرف وہ آئین وقانون کے محافظ بھی ہیں۔ افکار سے آگ لگاتے ہیں اور مذاکرات سے اس آگ کو بجھانے کا فریضہ بھی سرانجام دینا انہی کی ذمہ داری ہے ۔ عسکریت پسند اگر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں تو انہیں ہتھیار پیچھے کرنا کرکے ہاتھ اگے بڑھانا چاہیے لیکن وہ اس کے برعکس بندوق کی نال سینے پر رکھ کر مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے ساتھ مذاکرات کرو۔ یہ کون سا طرز فکر ہے جس سے مذاکرات کا عمل اگے بڑھایا جائے ۔ اس سے مزید یہ کہ طالبان نے اپنی مذاکرای کیلئے جن اصحاب کو منتخب کیا وہ محدود یت کے اس مرتبے پر فائز ہیں کہ انہیں سرکار دوعالم ﷺ کے مرتبے کا بھی احترام نہیں۔ دوسرے مذاکرات بحیثیت پاکستانی اس مسلے کے حل تلاش کرنے کے اہل ہی نہیں وہ کنوئیں کے اندر ہی گھوم پھر کو خود کو ابن بطوطہ قرار دینے والے دانشور ہیں۔ ایسے دانشوروں سے کیسے توقع رکھی جائے کہ وہ ایک قومی مسلہ کا حل تلاش کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے ۔ اس سے بھی اگے جا کر دیکھا جائے تو حکومت سے مذاکرات کیلئے طالبان کی اپنی لیڈر شپ خود نہیں بلکہ ان کے نمائیندے اگے ہیں۔
کل ان کے ایک اتالیق نے امام حسین ؑ اور یزید کو ایک قرار دے دیا ۔ آج اس کی منطقیں پیش کر کے صفائی پیش کررہے ہیں۔ اسی طرح حضور پاک ﷺ کی جائے پیدائش سے منسوب جگہ کو حرم کی توسیع کے منصوبے کے تحت مسمار کرنے کی سازش کو بام تک لے جایا گیا ہے ۔ اسلام کی من پسند تفسیروں سے کیا مقاصد حاصل ہورہے ہیں۔ حضور پاک ﷺ سے وابستہ چیز کی حفاظت کی جانی چاہیے یا اس کو مسمار کردینا چاہیے۔ عجیب منطق بازی ہے کہ مسلمانوں کے دل سے حضور پاک کی محبت ختم کی جائے ۔ محبت کا اظہار چوم کر خدمت کرکے منسوب یا اس کے زیر استعمال چیزوں کو رکھ کر کیا جاتا ہے ۔ دنیا کی روایت ہے کہ وہ ثقافت اور تہذیب کو اپنوں کے ساتھ نسبت کی وجہ سے حفاظتی تحویل میں رکھ کر کرتی ہے۔ موہنجو دڑو کے آثار قدیمہ کی سلامتی پر تو سب کے دل مچلتے ہیں۔ بدھ مت کی تہذیب کے آثار کی حفاظت کیلئے دنیا بھر سے صدائیں آتی ہیں ۔ تاج محل کا رنگ خراب ہونے کی خبر پر سب کی چہرے پژمردہ ہونے لگے ۔ عجیب بے حسی کہ مسلمانوں کیلئے عقیدت اور راہنمائی کا منبع ومرکزسے منسوب ہر چیز کو مسمار کرتے ہوئے کسی کا دل پر کوئی بوجھ نہیں۔ بیشک کہ سرکار دوعالم ﷺ کو ہماری حفاظت کی ضرورت نہیں لیکن کیا ہمیں بھی سرکار دوعالم سے نسبت کی کوئی ضرورت نہیں ۔کیا ہمارا ایمان سرکار سے نسبت کے بغیر مکمل ہو سکتا ہے۔
توحید ورسالت ایمان کا اہم ترین اور بنیادی جز ہیں ۔ ان کے بغیر کسی طرح بھی ایمان مکمل نہیں ہو سکتا ۔ مسلمانوں کی طرف سے کی گئی بے وقوفیوں کی وجہ سے ان کی بحرمتی کرنا یا ان کو مسمار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آنے والی نسلوں کو سرمایہ محبت ان سے چھین لیا جائے ۔ تاکہ وہ اپنی عقیدتوں کے ان مراکز کو نہ دیکھ پائیں اور نہ انہیں ان سے کوئی انسیت ہو۔ بلواسطہ یہ سرکار دوعالم ﷺ سے بغض کی علامت ہے ۔اپنی منطق اور اپنی سوچ کو دین پر حاویٰ کرنے سے ہی معاشرے میں اس وقت جو صورتحال پیش آرہی ہے وہ سامنے کی بات ہے۔ اس سے اگے جا کر یہی حال ہو گا جو اس وقت وسطی ایشیائی ریاستوں کے مسلمانوں کا ہے ۔ ان سے ان کی محرومیوں کے بارے میں پوچھیں اور ان سے ان اشیاء اور ان جگہوں کی قدر وقیمت پوچھیں۔
اسلام کی من پسند تفسیروں سے ہم اپنی منزل کی شناخت کھو رہے ہیں۔ ہماری آنے والی نسلوں کو منزل کی شناخت نہ ملی تو وہ پھر منزل کی تلاش میں بھٹک کر جانے کس طرف نکل جائیں۔ یہی متشدد لوگ پھر انہیں راہ راست پر لانے کیلئے انہیں کہاں سے شناخت بتائیں اور دکھائیں گے۔ بیٹھیں سوچیں سنیں اور سنائیں پھر جو چیز اللہ اور اللہ کے رسول کے احکامات سے مماثل ہے اس کو اختیار کریں ۔ ہتھیار بندی یا دہشت گردی کا طریقہ خارجیوں کو تھا کہ اپنی بات کو حق قرار دے کر اس پر ہتھیار بند ہو جاتے تھے ۔ اپنے عقائد کو دیگر عقائد پر حاوی کرنے کی یہ جنگ اسلام یا دین کی ہرگز بھی خدمت نہیں ۔ اسے محدود ذہنیت کے محدود مقاصد کی جنگ تو کہا جا سکتا ہے لیکن اسے دین کی تبلیغ وخدمت کا روپ قرار دینا ہرگز بھی جائز نہیں۔ اس کی دھول میں دین کا چہرہ ہی آلودہ ہو رہا ہے باقی دین کی کوئی خدمت اس سے نہیں ہو رہی ۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker