آصف یٰسین لانگوتازہ ترینکالم

” ن” لیگ بلوچستان کی زیادتیاں عروج پر

asif langoveپاکستان مسلم لیگ ن یا نواز شریف : سابق وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں نواز شریف کی زیر قیادت یہ جماعت 1988ء میں اپنے قیام سے ملکی سیاست میں اہم کردار ادا کرتی چلی آ رہی ہے ۔ اسے دیگر مسلم لیگ سے ممتاز کرنے کے لئے پاکستان مسلم لیگ ن کہا جاتا ہے ۔ اس جماعت کو 1988ء میں فوجی آمر جنرل محمد ضیاء الحق ؒ کی موت کے بعد محمد خان جونیجو کی پاکستان مسلم لیگ سے علیحدہ ہونے والے فدا محمد خان نے تشکیل دیا۔ اس نئی جماعت کے سربراہ فدا محمد خان اور معتمدعام (جنرل سیکرٹری ) میاں نواز شریف تھے۔ پاکستان مسلم لیگ ن اس وقت پاکستان کی سب سے بڑی لیگ بن چکی ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل ن لیگ بلوچستان میں کافی زیادہ سست تھی جیسے آج تحریک انصاف ہے ۔ بقول تجزیہ نگار ہارون الرشید کہ نواز شریف نے بلوچستان کے کچھ معروف نواب و سردار کو پیسوں میں خریدا ہے
بحرحال ن لیگ سردار ثناء اللہ زہری، نوابزادہ چنگیز خان مری ، نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی،میر ظہور خان کھوسہ جیسے قد آور شخصیات کی شمولیت نے ن لیگ کو جان و روح بخشی ہے۔
ڈیرہ اللہ یار کے معروف سیاسی و سماجی رہنماء اور سابق ضلعی نائب ناظم میر منظور خان کھوسہ ، معروف سیاسی و سماجی رہنماء میر نعیم خان کھوسہ، سابق اسپیکر بلوچستان اسمبلی و سابق صوبائی وزیر بزرگ معروف کھوسہ قبیلے کے مایہ ناز ممتاز قبائلی رہنماء میر ظہور حسین خان کھوسہ ، اوستہ محمد کے معروف ممتاز سیاسی رہنماء میر عطاء اللہ خان بلیدی، میرفتح علی خان کھوسہ ، میر لیاقت جمالی و دیگر نے آج کئی سال پہلے پاکستان مسلم لیگ ” ن” میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے ڈیرہ اللہ یار ، اوستہ محمد، صحبت پور سمیت جعفر آباد و نصیر آبادNA_266 ، PB_26, BP_27, PB_28, PB_25, ، PB_29 بلوچستان بھر میں پارٹی کے لئے کافی مضبوط ترین امیدوار ملے تھے۔ 2011ء کے ضمنی انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ ” ن” کے امیدوار میر نعیم خان کھوسہ نے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار و سابق ” ق” لیگی رہنماء میر عبدالرحمن جمالی کے ساتھ سخت ترین مقابلہ کیا مگر میر نعیم خان کھوسہ نے تھوڑے ووٹ سے نشست ہار گئے ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کا امیدوار نشست جیتنے میں کامیاب ہو گیا۔ ” ن” لیگ کے رہنماؤں اور امیدوار کے مطابق الیکشن میں دھاندلی ہوئی اور اسٹبلیشمنٹ پاکستان پیپلز پارٹی کی تھی اور سرکاری مشینریاں بھی خوب استعمال ہوئے ہیں بقول ان کے کہ آج بھی عدالت میں کیس جاری ہے مگر پاکستان میں کوئی فیصلہ جلدی تھوڑی نہ ہوتا ہے ایک دو صدیاں حتمی فیصلے کے لئے ضرور لگیں گے ۔
بحرحال پاکستان مسلم لیگ ” ن”
نے ناانصافی کی تما حدود پا ر کر دئے پاکستان کو ترقی و خوشحالی کے خواب دکھاے والے میاں نواز شریف کی ناانصافی ہے ۔گزشتہ نسلوں سے ضلع جعفر آباد میں کھوسہ اور جمالی قبیلے کے درمیان ہمیشہ سیاسی جنگ رہی ہے کیونکہ دونوں قبیلے کے سر کردہ حضرات پاکستان کی قیام کے وقت سے سیاست و حکومت سے ہمیشہ وابسطہ رہے ہیں۔ کھوسہ قبیلہ کے مایہ ناز و معروف بزر گ سیاستدان الحاج میر نبی بخش خان کھوسہ کی وفات کے بعد کھوسہ قبیلہ کی اندرونی عدم اتحاد نے کھوسہ قبیلہ کے امیدواروں کے درمیان ایک رکارٹ رہی ہے ، جس جمالی خاندان نے بھر پور فائدہ اٹھایا ہے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ این اے 266 جعفر آباد و نصیر آباد میں آبادی کے لحاظ کھوسہ قبیلہ سرفہرست اؤل نمبر ہے ۔ پی بی 26 تحصیل ڈیرہ اللہ یار اور پی بی 27 تحصیل صحبت پور میں کھوسہ قبیلہ کی زاتی اور محفوظ رترین نشست ہیں مگر عدم اعتماد نے پی بی 26 تحصیل ڈیرہ اللہ یار کو کھوسہ کی نسبت زیادہ جمالی خاندان نے کامیابی حاصل کی ہے۔ دور کی بات نہیں بلکہ ہم ماضی قریب گزشتہ دس سال کی مثال لیتے ہیں۔ پی بی 26 تحصیل ڈیرہ اللہ یار2002ء تا 2007 تک میر عبدلرحمن خان جمالی اور 2008ء کی الیکشن میں کھوسہ نے اتحاد قائم رکھا تو میر ظہور خان کھوسہ ۔ پی بی 26 تحصیل ڈیرہ اللہ یار میں بھر پور طریقے سے صوبائی اسمبلی کامیاب ہوئے ۔ تین سال کے بعد جعلی ڈگری کیس کے زمرے میں آکر ان کو اسمبلی سے فارغ کر دیا گیا ۔ ضمنیانتخابات میں کھوسہ اتحاد میر منظور خان کھوسہ، میر نعیم خان کھوسہ ، میر ظہور خان کھوسہ و دیگر نے باقاعدہ اتحاد کے زریعے میر نعیم خان کھوسہ کو پاکستان مسلم لیگ ن کی ٹکٹ پر الیکشن کی بھر پور کمپینگ کی مگر کافی اندرونی اتحاد کی فقدان نظر آیا ، کافی نوجوانوں نے حصہ لیا جس سے کھوسہ کی ووٹ بنک تقسیم ہو گیا ۔ اور جمالی نے نشست جیت لیا ۔عام لوگوں کی رائے کے مطابق میر نعیم خان کھوسہ کی ناکامی کی چند اسباب ہیں جو کہ اندرونی اتحاد کی فقدان ، سابق رکن صوبائی اسمبلی میر ظہور خان کھوسہ کی تین سالہ ایم پی اے فنڈ ز جو ڈیرہ اللہ یار میں استعمال نہیں ہوا ، ڈیرہ اللہ یار کھوسہ کے لئے کھوسہ قبیلے کے امیدوار ہونے کی صورت میں بھی ترقیاتی کام کرانے میں نظر اندازی کر وائی، بیک وقت معتد حضرات کا الیکشن میں حصہ لینا جس سے کھوسہ برادری کی ووٹ تقسیم ہو جاتی ہے اور تھوڑی سی قیادت کی فقدان بھی نظر آتا ہے ۔ ایک دوسرے پر یقین کا مسئلہ بھی درپیش ہے ۔ ڈیرہ اللہ یار کے عوام کے مطابق میر منظور خان کھوسہ صوبائی اسمبلی پر الیکشن حصہ لیتے تب کھوسہ برادری میں سب سے زیادہ مضبوط ترین امیدوار تصور ہوتے اور شہر ڈیرہ اللہ یار ان کے والد اسم گرامی کی نسبت سے ہے تب اپنی والد کے نام کے صدقے شہر میں ترقیاتی کاموں کی دیرینہ خواب پورے ہونے کے امکانات بھی زیادہ تھے ۔ جس طرح ڈیرہ اللہ یار کھوسہ ہونے کی وجہ سے جمالی خاندان کے بیشتر حضرات تعصبات کی بنا پر سٹی ڈیرہ اللہ یار میں ترقیاتی کام کرانے کے لئے سنجیدہ نہیں ہوتے ہیں ۔ سابق وزیر اعظم میر ظفر اللہ جمالی نے اقتدار میں بھی اس تعصب کی نبا پر ڈیرہ اللہ یار کو کوئی ترقیاتی اسکیم نہیں دی ۔ لاکھوں کی آبادی والے شہر کے واپڈا گریڈ اسٹیشن بھی ڈیرہ اللہ یار کے لئے منظور ہونا تھا مگر چند سو آبادی والے گاؤں روجھان جمالی میں منتقل ہوا جو ڈیرہ اللہ یار کے عوام کے ہی مطابق ا ن کے ساتھ انتہائی ناانصافی ہے ۔ اللہ یار خان کھوسہ کے فرزند اور میر منظور خان کے بھائی میر اقبال خان کھوسہ بھی ایک بار کھوسہ اتحاد کی بنیاد پر صوبائی نشست جیتنے میں آسانی سے کامیاب ہوئے تھے جس نے اپنی دور اقتدار ڈیرہ اللہ یار کے لئے بیشتر کام کروائے جس میں سرکاری ہسپتال ، لائبریری جیسے اہم ادارے شامل ہیں۔
بحرحال میرمنظور خان کھوسہ، میر ظہور خان کھوسہ ، میر عطاء اللہ خان بلیدی ، میر نعیم خان کھوسہ و دیگر بلوچستان سے تعلق رکھنے والے اہم ترین رہنماؤں نے پاکستان مسلم لیگ ن سے اپنے راستے الگ کر لئے کیونکہ میاں نواز شریف نے ان کے ساتھ ٹکٹ کی فراہمی کا وعدہ کیا تھا جو وعدہ وفا نا ہو سکا ۔ بقول ان کے ان کے حقوق چند فصلی بٹیروں میں تقسیم کر کے پرانے اور نظریاتی رہنماؤں کے ساتھ کھلم کھلا نا انصافی ہے ۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے ضلعی رہنماء گل رند کے مطابق صوبائی صدر ثناء اللہ خان زہری نے بلوچستان کے ٹکٹ فروخت کئے ہیں جس وجہ مخلص و سچے رہنماؤں کو ٹکٹ فراہمی نہیں ہو سکا ہے ۔ ممکن ہے کہ ایسا ہو ؟
معروف شہر دو لاکھ کے آبادی والا ڈیرہ اللہ یار ڈگری کالج، واپڈا گریڈ اسٹیشن،پکی سڑکیں ، سیلاب سے بچا ؤ بند، ڈیرہ اللہ یار کے ارد گرد بیشتر زرعی علاقے پانی کی عدم دستیابی، جدید ہسپتال، سیوریج سسٹم ، صاف پانی کے لیے گزشتہ کئی سالوں سے ترس رہے ہیں ۔ جس کی خواب 2وزیر اعظم پاکستان،4 وزراء اعلیٰ بلوچستان، کئی صوبائی و وفاقی وزراء بھی پورا کرنے کی قاصر رہ گئے ہیں۔
بقول شہری کہ بر سر اقتدار آنے والے تمام حکمران طبقہ نے ڈیرہ اللہ یار کے ساتھ ایسی نا انصافیاں کئے ہیں کہ عوام نے اخلاقی دائرہ میں بر قرار رہے ہیں و دیگر صورت ان تمام سابقہ حکمران طبقہ کو سلام تک دینا گوارہ نہیں ۔
بحرحال عوام کی جذبات درست ہیں 2وزیر اعظم پاکستان،4 وزراء اعلیٰ بلوچستان، کئی صوبائی و وفاقی وزراء کے باوجود بھی عوام تمام سہولیات سے محروم ہیں۔
ڈیرہ اللہ یار میں کھوسہ برادر ی کی اکثریت ہے لہذا اتحاد کی ضرورت ہے ،اپنے تمام ووٹرز کے ساتھ مساوی سلوک اور ڈیرہ اللہ یار پی بی 26 کی عوام کے فلا ح و بہبود کے لئے ٹھوس جزبے کے ساتھ میدان میں ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہے۔
اس وقت جمالی خاندان سے تین اہم ترین شخصیات نے میدان میں مقابلے عزم کی ہے۔ جن میں پی پی پی کی ٹکٹ یافتہ میر خان محمد خان جمالی، مسلم لیگ ن کے میر فائق علی خان جمالی کی اہلیہ محترمہ راحب بی بی جمالی اور سابق وزیر اعظم میر ظفر اللہ خان جمالی کے صاحبزادے میر عمر خان جمالی دوسری جانب کھوسہ قبیلہ سے تو نیم درجن کے قریب شخصیات ہیں مگر میر نعیم خان کھوسہ ( سابق امیدوار ن لیگ ضمنی الیکشن 2011ء ) جس کو کھوسہ قبیلہ کے اہم رہنماؤں کی حمایت بھی حاصل ہے اور نعیم خان کھوسہ کے لئے ایک فائدے مند بات ہے کہ نعیم خان کھوسہ دوسری مرتبہ الیکشن میں حصہ لے رہا ہے جس پر کوئی خاص الزام نہیں ہے کہ فنڈنگ میں عوام کو نظر انداز کیا ہے۔ مگر باقی جمالی خاندان کے تمام آزمائے ہوئے تیر ہیں ۔اقتدار ختم ہونے کے بعد لوگ بدظن بھی ہوتے ہیں ۔ میر نعیم خان کھوسہ کوکھوسہ برادری کی اتحاد کو بحال و تیز کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ جس سے نعیم خان کھوسہ کو بہت فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔
پاکستان مسلم لیگ ن نے PB-26 پر میر نعیم خان کھوسہ کی ٹکٹ میر فائق خان کھوسہ کو فراہم کر کے نہ صرف نا انصافی کی ہے بلکہ سینکڑوں نظریاتی ورکرز کی حوصلہ شکنی کی ہے ۔حالانکہ میر نعیم خان کھوسہ نے ضمنی الیکشن میں خود کو کافی حد تک سیاسی میدان میں منا لیا تھا ۔ میر فائق جمالی سے کافی سینئر اور کھوسہ قبیلہ کی زاتی ووٹ بنک کے مالک میر نعیم خان کھوسہ کو نظر انداز کر کے صوبائی اسمبلی کی نشست کو اپنے ہاتھ سے گوابیٹھا ہے۔ اسی طرح PB-25 اوستہ محمد میں سینئر رہنماء میر عطاء اللہ خان بلیدی کو بھی ن لیگ نے نظر انداز کر کے میر جان محمد جمالی کو ٹکٹ دے کر اپنی روایتی نا انصافی کو جاری رکھتے ہوئے پارٹی کے نظریاتی وورکرز کو کافی ٹھوس صدمہ پہنچایا ہے جس سے وہ پارٹی سے کنارہ کش ہوئے ہیں۔ اسی طرح پاکستان مسلم لیگ ن نے بلوچستان میں کافی زیادہ ٹکٹ کی غیر منصفانہ تقسیم نے پارٹی کی ساخت کو نقصان پہنچایا ہے۔ سینئر رہنماؤں نے پارٹی کو چھوڑا ہے مگر پارٹی کی ساخت کو نقصان پہنچا ہے کیا میاں نواز شریف نے درست فیصلہ کیا ہے ؟note

یہ بھی پڑھیں  بھائی پھیرو:پروفیسرغفوراحمد کی وفات پر مذہبی،سیاسی اورسماجی رہنماؤں کا اظہارافسوس

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker