ایم اے تبسمتازہ ترینکالم

قومی حلقہ این اے 129میں سیاسی ہلچل زوروں پر

ma tabsumحلقہ این اے 129 میں الیکشن کا بگل بجتے ہی سیاسی جوڑتوڑ عروج پر پہنچ گیا۔رانا ، سندھو،گھرکی،سردار گروپوں نے صف بندی شروع کردی۔لاہور کا حلقہNA۔129 جس میں زیادہ تر دیہات کا علاقہ شامل ہے۔ یہاں سالوں سے مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی میں مقابلہ ہوتا آرہاہے، اب نئے الیکشن کے بگل بجنے کی آوازیں سنائی دیتے ہی رانا ، سندھو ،سردارگروپ نے اس حلقہ میں جوڑ توڑ اور صف بندی کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ رانا گروپ جس کی قیادت رانا مبشراقبال کرتے ہیں ان کاتعلق مسلم لیگ (ن) سے ہے۔ جبکہ سندھوگروپ جس کی قیادت چوہدری محمدمنشاء سندھو کرتے ہیں ان کا تعلق پہلے مسلم لیگ (ن)، (ق) سے تھا اب پاکستان تحریک انصاف سے ہے۔ حلقہ این اے 129 کے دیہاتی علاقہ میں زیادہ تر پیپلزپارٹی کا ووٹ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن یہاں پر مذہبی ووٹ کے ساتھ ساتھ برادریوں کے ووٹ کا بھی بڑ ا عمل دخل ہے۔ حلقے میں رحمانی ،انصاری ،جٹ ،بھٹی ،آرائیں اور مےؤبرادریاں موجود ہیں جو اس آنے والے الیکشن میں اپنی اپنی طاقت شوکرنے کے لیے اب تک کئی اجلاس منعقد کر چکی ہیں، اس حلقہ میں وہی پرانی دھڑ ہ بندی چلی آرہی ہے۔ اگر ایک دھڑہ پیپلزپارٹی کے ساتھ لگتا ہے۔ تو دوسرا مسلم لیگ ن سے جا ملتا ہے۔ لیکن اس حلقہ این اے 129 میں اس وقت جو بڑے مسائل سامنے آ رہے ہیں ان میں انڈسٹری کا تباہ ہو جانا ہزاروں کا بے روزگار ہو جانا، یہاں پر کسی نئی انڈسٹری / صنعت کا نہ لگنا ہے۔ سوئی گیس اور بجلی کی بندش نے یہاں پر لوگوں کے کاروبار اور انڈسٹری کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ لیکن گزشتہ انتخابات کے دوران منتخب ہونے والے مقامی ممبران اسمبلی کی جانب سے اس ضمن میں آواز نہ اْٹھائے جانے کی وجہ سے ووٹرز شاکی دیکھائی دیتے ہیں لیکن ان تمام مسائل اور عوام کے شکوؤں کے باوجود حلقے کی دونوں پرانی سیاسی حریف جماعتوں نے آئندہ الیکشن میں جیت کیلئے اپنے اپنے گھوڑے دوڑانے شروع کر دئیے ہیں۔قومی حلقہ 129لاہور مضافات کے علاقوں پر مشتمل ہے اس حلقے میں لاکھوں نفوس پرمشتمل آبادی رہائش پزیرہے۔اس حلقے میں الیکشن 2008ء میں پیپلزپارٹی کے امیدوار طارق شبیرمےؤنے ق لیگ کے حبیب اللہ وڑائچ ،اور ن لیگ کے سردار عادل عمرکو شکست سے دوچار کیا تھا۔اس حلقے میں عیسائی برادری اور مےؤبرادری کا ووٹ بینک متاثرکن حالات پیدا کرتا ہے۔اور جس امیدوار کو عیسائی برادری اور مےؤ برادری اپنا ووٹ کاسٹ کرتی ہے۔اس امیدوار کے جیتنے کے امکانات واضح دکھائی دیتے ہیں۔ حلقے میں اس مرتبہ الیکشن 2013ء میں سیاسی جماعتوں نے اپنے امیدوارابھی تک شو نہیں کئے۔تاہم ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن نے فیصلہ کررکھا ہے کہ پچھلے الیکشن میں پٹے ہوئے امیدواروں سے کنارہ کشی کی جائیگی اور ان کی جگہ اہل اور نئے چہروں کو میدان میں اتارا جائیگا۔ایک حلقے کے مطابق اس قومی حلقے سے مسلم لیگ ن خواجہ سعد رفیق،مریم نوازیاپھر میاں نصیراحمدکو میدان میں اتار سکتی ہے ،کیونکہ اس حلقے سے سردارعادل عمر اور رانا مبشراقبال بھی قومی اسمبلی کے ٹکٹ کے لئے کوششوں میں مصروف ہیں،سردار عادل عمر کوپچھلے الیکشن میں بری طرح ہارنے کی بنا پر اور رانا مبشر اقبال کو جعلی ڈگری کے الزام لگنے کی صورت میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ سے ہاتھ دھونا پڑسکتا ہے،اس قومی حلقے سے پیپلزپارٹی نے ابھی تک اپنے پتے شونہیں کئے اور بعض حلقوں کے مطابق پیپلزپارٹی کے گزشتہ الیکشن میں جیتنے والے امیدوار طارق شبیر مےؤ کوہی ٹکٹ دیا جائیگا،لیکن اس کا فیصلہ نہیں ہوسکا۔تحریک انصاف بھی ابھی تک گونا گوکی صورتحال سے دوچار دکھائی دیتی ہے۔تحریک انصاف نے بھی ابھی تک اپنے مہرے شونہیں کئے حالانکہ قومی حلقہ 129میں تحریک انصاف کے پاس مضبوط امیدوار چودھری محمدمنشاء سندھوہے۔جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ کسی وقت بھی پانسہ پلٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ تحریک انصاف کو اسی حلقے سے ملک نوازاعوان کی صورت میں امیدوار میسر ہے ،اب فیصلہ تحریک انصاف کی قیادت کو کرنا ہے کہ وہ ٹکٹ کا اہل کسے تصور کرتی ہے۔اس قومی حلقے میں صوبائی حلقہ 159بھی شامل ہے جس میں زیادہ تر دیہاتی آبادی شامل ہے۔اس حلقے سے ہر قومی جماعت کے درجنوں امیدواروں نے کاغذات نامزدگی داخل کروارکھے ہیں۔جن میں مسلم لیگ ن سے راؤشہاب الدین خان مےؤ،رانا خالدقادری،میاں مقصودعالم،ملک خالد فاروق کھوکھر،شاہدشبیرمےؤ ،رمضان مستانہ ودیگر کے نام نمایاں ہیں،مسلم لیگ ن کی قیادت گزشتہ الیکشن میں بری طرح ہارنے والے امیدوار رانا خالد قادری پر رسک نہیں لے گی اور اس بار الیکشن میں راؤشہاب الدین مےؤ اور میاں مقصود عالم مضبوط امیدوار کے طورپر سامنے آئے ہیں، مسلم لیگی قیادت راؤشہاب الدین مےؤ یا میاں مقصود عالم میں سے کسی ایک کو میدان میں اتار سکتی ہے،پاکستان پیپلزپارٹی نے بھی پس پردہ اپنا امیدوار سابق ایم این اے ارشد گھرکی کے صاحبزادے ابوبکر گھرکی کوبنانے کا عندیہ دیا ہے۔گھرکی خامدان اس حلقے میں خاصہ مقبول ہے۔ تحریک انصاف کوبھی درجنوں امیدواروں نے پی پی 159کی ٹکٹ کے لئے درخواستیں دی ہیں جن میں علی امتیازوڑائچ،ملک اصغرعلی اعوان ودیگرکے نام سامنے آئے ہیں اب دیکھنا ہے کہ تحریک انصاف کسے اکھاڑے میں اتارتی ہے۔ایک حلقے کے مطابق اسی قومی حلقے 129سے سابق صدر پرویزمشرف کے بھی الیکشن لڑنے کا امکان ہے،اگر پرویزمشرف اس حلقے سے میدان میں اترتا ہے تو اسے میواورعیسائی برادری کا بہت بڑا ووٹ بینک ملنے کا امکان ہے،اس صورت میں پرویزمشرف اور تحریک انصاف کے مضبوط امیدوار چودھری منشاء سندھو کے درمیان کانٹے کا مقابلہ دیکھنے کو ملے گا،سننے میں یہ بھی آ رہا ہے کہ مسلم لیگ ن NA-129 سے خواجہ سعدرفیق کولارہی ہے اور خواجہ سعد رفیق کے ذاتی حلقے125 NA- میں گلوکارہ حمیراارشد کے الیکشن لڑنے کے امکانات بڑھ چکے ہیں،جب تک تمام جماعتوں کی طرف سے اْمیدواروں کی نامزدگی کر کے ابہام دور نہیں کیا جاتا اْسوقت تک یہاں کے سیاسی افق کا مطلع صاف نہیں ہو گا۔تحریک انصاف کو بھی صوبائی حلقہ 159سے کوئی مضبوط امیدوار دنگل میں اتارنا ہوگا ،ورنہ روائتی سیاستدان پھر براجمان ہونگے اور پھر پانچ سال تک عوام کی تقدیرسے کھیلیں گے۔اس بات کا فیصلہ تو سیاسی جماعتوں نے ہی کرنا ہے کہ وہ اپنے کن کن امیدواروں کو الیکشن میں اتارتی ہیں۔اس اہم الیکشن میں عوام پر بھی بڑی اہم ذمہ داری عائدہوتی ہے کہ وہ اپنا ووٹ ضرورکاسٹ کریں ،اور اپنے ضمیر کے مطابق اس شخص کواپنے ووٹ کا اہل بنائیں جوواقع ہی عوام کے اعتماد پر پورا اترتا ہو۔ایسا نہ ہو کہ پھر عوام کو دھوکہ دہی اور سبزباغوں کے بہکاوے میں لا کر ووٹ حاصل کرلیا جائے اور عوام ہاتھ ملتی رہ جائے۔ووٹ قومی فریضہ ہے اسے اہل لوگوں کوضرورکاسٹ کریں۔اب فیصلہ عوام کوہی کرنا ہے کہ وہ کن سیاسدانوں کے ہاتھوں اپنے اور اپنے بچوں کے مستقبل کی باگ ڈور دیتی ہے۔فیصلہ انتہائی سوچ بچار کے بعد ہی کرنا ہوگا جذبات سے کئے گئے فیصلے شرمندگی کا باعث ہوا کرتے ہیں۔note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button