شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / نیب کی جانب سے ہتھکڑیاں لگانے کا غیر اسلامی فعل

نیب کی جانب سے ہتھکڑیاں لگانے کا غیر اسلامی فعل

اسلامی نظریاتی کونسل نے ایک اجلاس کے دوران کرپشن اور بدعنوانی کے خلاف قائم قومی ادارے NABکی جانب سے ملزمان کو ہتھکڑیاں لگانا خلاف قانون و شریعت کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ نیب اس قسم کے اقدامات سے باز رہے،جسٹس(ر)رضا خان کی سربراہی میں کمیٹی بھی تشکیل میں آئی جو اس بات کا جائزہ لے گی کہ نیب آرڈننس کے کون کون سے قوانین اسلامی قانون کے متصادم ہیں کیونکہ 1973کا آئین یہ کہتا ہے کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں بنایا جا سکتا،اسلامی نظریاتی کونسل کا نظریہ 1962میں صدر ایوب خان نے پیش کیا تھا تاہم اسے آئین حیثیت 1973کی شق نمبر227جس کے مطابق پاکستان میں کوئی بھی قانون قرآن و سنت کے مخالف نہیں بنایا جائے گا اس نظام کو مزید وضع کرنے کے لئے اسی آئین میں دفعہ228.229.اور230کے تحت اسلامی نظریاتی کونسل کے نام سے 20اراکین پر مشتمل دی گئی ،اسلامی نظریاتی کونسل کے کم از کم4اراکین ایسے ہوں جنہوں نے اسلامی تحقیق میں 15سال تک لگائے ہوں اور انہیں جمہور پاکستان کا اعتماد حاصل ہو ،اسلامی نظریاتی کونسل چونکہ قانون کو شریعت کے مطابق رکھنے کا ذمہ دار ہے اسی کے مطابق جرم ثابت ہونے سے قبل ملزموں کو ہتھکڑیاں لگا نا خلاف قانون و شریعت کے منافی اورتکریم انسانیت کے منافی ہے،اسلامی نظریاتی کونسل ایک آئین ادارہ ہے اس کی تجاویز سر آنکھوں پر مگر 1973میں آئینی پوزیشن حاصل ہونے کے بعد اسے اچانک خیال آیا کہ بغیر جرم ثابت ہوئے کسی بھی ملزم کو ہتھکڑیاں لگانا تکریم انسانت اور شریعت کے خلاف ہے ؟اور وہ بھی باالخصوص نیب کے حوالے سے،پاکستان کے کسی بھی تھانہ میں چلے جائی ،کسی بھی تحصیل ہیڈ کوراٹر،ضلعی مقام ،ہائی کورٹس یا سپریم کورٹس وہاں ملزمان ہتھکڑیوں میں ہی نظر آتے ہیں ،اسلامی نظریاتی کونسل پر ہم تنقید نہیں بلکہ کچھ حْائق کی جسارت کرنے جا رہے ہیں کہ انہیں آج تک توفیق نہیں کہ پاکستان بھر میں عام ملزمان کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا جاتا ہے،؟ان کو لگنے والی ہتھکڑیوں کا خیال نہ آیا اور اگر انہیں شریعت یاد آہی گئی تو وہ بھی ان کے لئے جو لوگ قومی خزانے کو بے دردی سے لوٹنے میں ملوث ہیں یہ بات سچ ہے کہ قومی خزانے کی لوٹ مار تک رسائی کسی عام آدمی کے بس کی بات نہیں وہ کردار بھی عام نہیں ہوتے،ان کے قوانین بھی دیگر عوام سے مختلف ہوتے ہیں،انہیں کوئی ہاتھ لگائے تو جمہوریت خطرے میں ،کوئی ہتھکڑی پہنائے تو وہ فعل السامی شریعت اور انسانی تکریم کے منافی قرار،اسلامی نظریاتی کونسل کے چار اراکین کے لیے جو چار بنیادی شرائط ہیں ان میں یہ بھی کہ انہیں جمہور پاکستان کی مکمل تائید حاصل ہو اور جمہور پاکستان یہاں ہے کیا؟کہ انہیں انہی لوگوں کا اعتماد حاصل ہو جو انتہائی اعلیٰ اختیارات کے مالک ہو جن کے حکم کے بغیر پتہ بھی جنبش نہ کر سکے یہ معزز اراکین بھی انہی کے اعتماد ہافتہ ہوتے ہیں،اس وقت ونسل کے سربراہ قبلہ ایاز ہیں جن کی موجودگی میں قوم کی سنی گئی کیونکہ یہاں چند اچھے پویلس آفیسرز کے علاوہ مجموعی طور پر مقدمات کے ذریعے ہی ساراعوامی نظام اشرافیہ نے مفلوج کر کے رکھا ہوا ہے کسی کو مجال نہیں ہوتی کہ وہ ان کے خالف نعرہ بھی بلند کر سکے،خلفیہ دوم حضرت ابوبکر صدیقؒ سے پوچھ لیا گیا کہ آپ کو ملنے والا کپڑا کم تھا مگر آپ کا یہ سوٹ کیسے بن گیا جس پر آپؒ نے وضاحت دی کہ اس میں میرے بیٹے کو ملنے والا کپڑا بھی شامل ہے،عوام کے حوقو ضغب کرنے والے،انہیں ذہنی اذیت سے دو چار کرنے والے،ان سے روز گار چھیننے والے،انہیں گندگی کے ڈھیروں سے روزی تلاش کرانے والے،انہیں خود کشی پر مجبور کرنے والے،قومی اداروں کو دیوالیہ کرنے والے،قیمتی سرکاری زمین کو باپ کی جاگیر سمجھ کر تبادلہ کرنے والے،منی لانڈرنگ کرنے والے ،فوج اور ریاست کے خلاف بیانیہ جاری کرنے والے کس رعایت کے مستحق ہیں؟اسلامی نظریاتی کونسل کے اس فیصلے سے تو انکار نہیں کہ بغیر کسی ثبوت کے کسی کو ہتھکڑی نہیں لگائی جا سکتی مگر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے ہ غیرم مسلم ممالک میں تو جرم ثابت ہونے سے قبل کسی کو گرفتار تک نہیں کیا جاتا،وہ لوگ تو مسلمان بھی نہیں مگر ان کے نزدیک تہذیب ہے ،تمدن ہے ،انسانیت ہے ،بہت تاخیر سے جمہوری تائید حاصل رکھنے والے نظریات کونسل کے اراکین کو یاد آیا کہ نیب میں بہت خامیاں ہیں نیب بھی تو کوئی آج نہیں بنا اسے کام کرتے بھی 20سال ہونے کو ہیں اس سے قبل وہ گرفتاریاں بھی کرتا رہا،ہتھکڑیاں ھی لگاتا رہا،پلی بارگین بھی کرتا رہا،ملزمان کو سزائیں بھی دلواتا رہا ،اب ایسا کیا ہو گیا کہ اچانک تکریم انسانیت زد میں آ گئی ؟کوئی پریشان نہ ؁ لوگوں کے ہاتھ بھی بڑے ہوتے ہیں ،عدالتوں سے انہیں روایت سے ہٹ کر ریلیف بھی مل جاتا ہے، اگر تکریم انسانیت کی دھجیاں بکھرتی دیکھنی ہیں ہیں تو کونسل کے اس فیصلے کے بعد آج ہی پاکستان کی کسی بھی کچہری میں جاؤ اور جکڑے لوگوں سے پوچھوں تمہارا جرم ثابت ہو چکا؟تم کس جرم میں ہتھکڑی جیسا زیور پہنایا گیا؟تب پتا چلے گا کہ ان خلاف مقدمہ کیا ہے وہ کب سے جیل یا حوالات میں بند ہیں ان کے ساتھ سلوک کیا روا رکھا جا رہا ہے؟خدا کرے اعلیٰ و ارفع اشرافیہ کے ساتھ انسانی تکریم سے ہٹ کر سلوک ہونے پر عام آدمی کی بھی سنی جائے جنہیں ڈنگروں کی طرح باندھ کر سر عام کچہریوں میں رسوا کیا جا تا ہے مگر وہ اس قابل نہیں ہوتے کہ میڈیا تو کیا کسی عام آدمی کی بھی ان پر نظر پڑ جائے ،اسلامی نظریاتی کونسل جلد از جلد نیب قوانین کی بھی مزید تشریح کرے تا کہNABکو ٹھیک طرح لگام ڈالی جا سکے یہ خود کو سمجھتے کیا ہیں؟

یہ بھی پڑھیں  وادی کاغان میں سیاحوں کی ایک اور گاڑی حادثہ کا شکار ہو گئی