تازہ ترینسیّد ظفر علی شاہ ساغرؔکالم

نادراملازمین کے مسائل ،مطالبات اور احتجاج مگر حل؟؟؟

پچھلے سال میں نے نادرا کے بعض ملازمین کی نشاندہی اور اصرارپر بلوچستان میں نادراملازمین کو درپیش مسائل و مشکلات،ان کے مطالبات اور اپنے مطالبات کے لئے نادراملازمین کی احتجاجی تحریک کے ایشو کو موضوع کالم بنایاتھااور نادراایمپلائزبلوچستان کو درپیش مسائل اور ان کے مطالبات کے تناظر میں وجودرکھتی صورتحال کو حکومت اور نادراکے حکام بالاکے روبرولانے کی ایک سعی کی تھی۔اس وقت بلوچستان کے نادراملازمین کے چیدہ چیدہ مطالبات یہ تھے کہ ان کی یونین قواعدوضوابط کے مطابق رجسٹرڈہے لہٰذا ان کے تمام مطالبات تسلیم کئے جائیں جن میں یہ کہ ان کی یونین کو آئینی اور قانونی حیثیت دی جائے،ملازمین کو دور دراز علاقوں میں تعینات کرنے کی بجائے ان کی اپنے اضلاع میں تعیناتی عمل میں لائی جائے،20فیصد الاؤنس جس کی منظوری دیگر اداروں میں دی گئی ہے نادراکے ملازمین کو بھی دی جائے، اگر دیگر اداروں کے ڈیٹابیس ملازمین کو 12اور13سکیل ملتاہے تو نادراملازمین کو بھی دیاجائے،دیگر سرکاری اداروں کی طرح نادرامیں بھی ملازمین کے لئے حج کوٹہ سسٹم رائج کیاجائے،نادراملازمین کے لئے پراجیکٹس الاؤنسزکی یکساں تقسیم ہو،مہنگائی کے تناسب سے تنخواہوں میں اضافہ ہو،میڈیکل اور ٹی اے بلز کی آدائیگی میں حائل رکاؤٹوں کا خاتمہ ہو،تقرری و تبادلے کی پالیسی واضح ہو اور پسندونا پسندکی بنیاد پر تقرریوں و تبادلوں کے عمل کا خاتمہ ہو،نادراملازمین بلوچستان کا مطالبہ یہ بھی تھاکہ بلوچستان میں نادرا ملازمین کے خلاف انتقامی کارروائیاں بند کی جائیں اور ان کو دوران ڈیوٹی تحفظ فراہم کیاجائے،اپنے علاقوں سے دور تعینات ملازمین کو رہائش سمیت دیگر سہولتیں دی جائیں،نادراموبائل وین میں کام کرنے والے ملازمین کے الاؤنسز میں اضافہ کیاجائے اور ڈیلیوری ملازمین کو خصوصی الاؤنس دیاجائے، ملازمین کی ترقی میرٹ اور سینیارٹی کی بنیاد پر ہو اور ایچ آر کی وضع کردہ پالیسیوں پرنظرثانی کی جائے،ملازمین کی مستقلی کے عمل کو فوری طور پر مکمل کرکے اسے فنانس ڈویژن اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے منظورکرایاجائے،نادراملازمین بلوچستان کو یوٹیلیٹی الاؤنسز دیئے جائیں، غیرقانونی بھرتیوں کے ذریعے نادراکو تباہی کے دھانے پر پہنچانے سے گرہیزکیاجائے جیسا کہ اس سے قبل ریلوے اور پی آئی اے میں ہوتارہاہے،نادراملازمین کے خلاف انکوائریاں ختم کی جائیں اور کوئی بھی انکوائری قانونی تقاضوں کے مطابق غیرجانبدار کمیٹی سے کرائی جائے،برطرف ملازمین کو بحال کیاجائے اور ان کو ان تنخواہوں کی آدائیگی کی جائے جن کی مستقلی تحریک کے دوران کٹوتی کی گئی تھی یہ تو نادراملازمین کے پچھلے سال کے مطالبات تھیں تب وفاقی حکومت پیپلزپارٹی کی تھی اور اب مسلم لیگ نون کی ہے۔اس وقت کی حکومت کی پالیسیاں کچھ اور تھیں اور موجودہ حکومت کی پالیسیاں یقینی طور پر مختلف ہونی چاہیئے لیکن نظرآتی صورتحال تو یہی بتارہی ہے کہ دیگر پالیسیوں میں تبدیلی ہو یا نہ ہو تاہم نادراملازمین کے لئے وضع کردہ حکومتی پالیسیوں میں کوئی بھی واضح تبدیلی سامنے نہیں آئی ہے کیونکہ موصولہ اطلاعات یہ ہیں کہ اَل پاکستان نادراایمپلائزیونین کے مرکزی صدر سلیم خان شیرپاؤنے حال ہی میں بلوچستان کادورہ کیاہے جہاں دوست علی ترین،ملک رمضان مشوانی، خدائے رحیم ،حاجی رحیم کھوسہ اور دیگر عہدیداروں کے ہمراہ نادراایمپلائزیونین بلوچستان کے صدرضیاء الرحمٰن ساسولی کے والد کی وفات پر تعزیت کرنے سمیت انہوں نے کوئٹہ میں نادرا کے مختلف دفاتر کے دورے کرکے ملازمین سے ملاقاتیں کیں اور ان کے مسائل ومشکلات معلوم کئے ہیں۔سلیم خان شیرپاؤنے مختلف مقامات پر ایمپلائزکے اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیاہے کہ بلوچستان میں نادرا ملازمین کے خلاف مزید انتقامی کارروائی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔اگربلوچستان میں یونین عہدیداروں اور دیگر ملازمین کی اپنے اپنے علاقوں میں تعیناتی عمل میں نہیں لائی گئی تونادراملازمین ڈی جی نادرابلوچستان اور دیگر اعلیٰ حکام کے خلاف ملک گیر احتجاج شروع کرنے پر مجبورہوں گے۔ان کے مطابق بلوچستان کے ڈی جی نادرا چیئرمین نادراکے احکامات کو مذاق سمجھ رہے ہیں اور ان کی دھجیاں اڑارہے ہیں کیونکہ چیئرمین نادرانے ملازمین کے ٹرانسفرپوسٹنگ پر پابندی عائد کررکھی ہے مگرڈی جی نادرا چیئرمین نادراکے احکامات کو خیال و خاطر میں نہ لاتے ہوئے افسران کے ٹرانسفرپوسٹنگ اور عام ملازمین سے ان کے مراعات واپس لینے میں مصروف عمل ہیں جس کی واضح مثال موبائل وین میں کام کرنے والے ملازمین کے الاؤنسز بند کروانااور ان کی میڈیکل اور دیگربلوں کی آدائیگی میں رکاؤٹیں کھڑی کرناہے۔اور یہ نادراملازمین کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔نادراکے اَل ایمپلائز یونین کے مرکزی صدر سلیم خان شیرپاؤ کا دورہ بلوچستان اوراس موقع پرڈی جی نادرابلوچستان کے کردار پر سوالیہ نشان لگاکرلب کشائی کرنے اور اپنے ملازمین کے مطالبات کے حل کامطالبہ کرتے ہوئے ان کی جانب سے یہ دھمکی دیناکہ اگر ڈی جی نادرابلوچستان نے اپناقبلہ درست نہیں کیااور نادراملازمین کے ساتھ کی جانے والی زیادتی فوری طور پر بند نہیں کرائی گئی تو وہ ڈی جی نادرااور دیگرحکام کے خلاف ملک گیر احتجاج کریں گے کے عمل کودیکھتے ہوئے تو اندازہ یہ ہورہاہے کہ بلاچستان میں نادراملازمین آج بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں سال دو سال قبل کھڑے تھے وہ آج بھی گھوم پھرکے اسی مقام پر آئے ہیں جہاں سے کبھی چلے تھے اوروہ آج بھی اپنے ان مطالبات کے لئے صدائیں بلند

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
error: Content is Protected!!