تازہ ترینکالمندیم چوہدری

روشن خیالی کےبعد سول سوسائٹی کا اگلہ نشانہ آرمی اورعدلیہ تونہیں !

اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے زیراہتمام سیمنار منعقد کیا گیا جس کا موضوع تھا عوام اور فوج کے تعلقات ،سیمینار میں مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی فوج کو بھرپور طریقے سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا ،سول سوسائٹی کے نمائندوں نے کھل کر فوج اور عدلیہ کے خلاف لب کشائی کی ،پاکستان کے اندر فوج کے کردار اور فوج کے بجٹ پر تنقید کی گئی ،سیا سی جماعتوں کے نمائندوں نے بھی اپنی تمام تر خامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے فوج پر تنقید کا ہی سہارا لیا ،نیشنل پارٹی کے میر حاصل بزنجو نے کہا کہ سول حکومت کے ہوتے ہوئے بھی فارن پالیسی وزیراعظم ہاوس یا صدر ہاوس کے بجائے آرمی ہاوس میں بنائی جاتی ہے ،ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے اندر ہر کام کے لیئے مولوی کو استحمال کیا جاتا ہے ،مولوی کو فوج اپنے مقاصد کے لیے استحمال کرتی ہے نیٹو سپلائی بحال کرنی ہو یا نیٹو سپلائی بند کرنی ہو سب کام ان سے لیے جاتے ہیں، سیمنار میں بلوچستان کے معا ملات پر بحث کی گئی اور وہا ں پر بھی فوج کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ۔ لیکن کسی نے بھی چیف جسٹس آف پاکستان کے ان ریمارکس کا ذکر نہیں کیا جو انھوں نے بلوچستان ہائی کورٹ میں بلوچستان ارکان اسمبلی کے فنڈز پر دئیے تھے کے بلوچستان کے ممبران اسمبلی کو کروڑوں روپے تر قیاتی اخرا جات کے لیے دیئے گئے تھے وہ کہاں خرچ ہوئے ان کا حصاب دیا جائے انھوں اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ کوئٹہ شہر کی سڑ کوں میں سے کوئی ایک ایسی سڑک دکھا دی جائے جو مکمل ہو ،یا جو ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہ ہو ،ہمارا سوال یہ ہے کہ بلوچستان کے اندر آج تک بھی جتنا پیسہ وہا ں کے سرداروں کو دیا گیا ہے اس کا بھی آج حساب نہیں رکھا گیا ،اتنے فنڈز دینے کے باوجود وہاں پر روڈیں ٹوٹی ہوئی ہیں تو اس میں وفاق کا کیا قصور ہے ،بلوچستا ن کا جس طرح ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے ،اس میں بھی فارن فنڈڈ تنظیموں کے اپنے مقاصد نظر آتے ہیں،وہاں پر جو ٹارگٹ کلنگ کی جاتی ہے ،پنجابی اور پٹھان کو جس طرح شناختی کارڈ چیک کرنے کے بعد بے دردی سے قتل کر دیا جاتا ہے اس پر تو کبھی سیمنا ر نہیں ہوئے ،جس طرح ان لوگوں کو وہا ں برسوں گزر گئے کاروبار کرتے ہوئے ان کو مجبو ر کیا جا رہا ہے کہ وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے بھاگ جائیں ،ورنہ قتل کر دیئے جائیں گے ،اس پر کبھی مظاہرے نہیں کئے جاتے ،سیمنار میں اے این پی کے حاجی عدیل نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا جس میں انھوں نے قائد اعظم اور خان لیاقت علی خا ن کو بھی تنقید کا نشانہ بنا ڈالا ،ان کا کہنا تھا کہ قائد اعظم نے بنگلہ دیش میں جا کے ایک غیر مقبول اعلان کر دیا کے پاکستان کی قومی زبان اردو ہو گی ،بقول حاجی عدیل کے قائد اعظم کے بنگلہ دیش کے اندر کھڑے ہو کہ یہ نہیں کہنا چائیے تھا ،کیونکہ بنگالی تعداد میں زیادہ تھے اس لیے اردو کو قو می زبان نہیں کہنا چائیے تھا،حاجی عدیل کا کہنا تھا کہ لیاقت علی خان الیکشن نہیں کروانا چاہتے تھے ،کیوں کے ان کا اپنا کوئی حلقہ نہیں تھا ،انھوں نے شیروانی کو بھی قومی لباس قرار دیا جو کہ اب کوئی بھی نہیں پہنتا لیکن اٹل بہاری واجپائی ضرور پہنتا ہے ،یہ وہ یجنڈا ہے جس پر آج اس سیمنار میں گفتگو ہوئی اب یہ کون سے پاکستا ن کا ایجنڈا ہے ہماری سوچ اور سمجھ سے باہر ہے ،یہ سول سوسائٹی اور قوم پر ست جماعتیں کون سا پاکستا ن چاہتی ہیں،کیا پاکستا ن صر ف لسانی بنیادوں پر قائم ہوا تھا ،اگر اردو کو قومی زبان کہا گیا تھا اس کی وجہ صرف اور صرف یہی تھی کہ پاکستان کے اندر سے لسانیت ختم کی جائے ،لیکن آج اسمبلی کے اندر بیٹھی حکومتی اتحاد کی جماعتیں بھی لسانیت کو ہوا دے رہی ہیں ،سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی سابقہ صدر عاصمہ جہانگیر نے بھی عدلیہ کو آڑے ہاتھوں لیا ،کھل کر عدلیہ کے فیصلوں پر تنقید کی ،حاجی عدیل نے کہا کہ ججوں اور جرنیلوں کے پلاٹوں کا بھی حصاب لیا جائے ،جتنی بھی تنقید ہوئی ،صر ف اور صر ف عدلیہ اور فوج پر ہوئی ،جمہوری حکومت پر کسی نے تنقید نہ کی سوائے سیف اللہ گوندل کے جنہوں نے کہا کہ ہم نے پارلیمنٹ میں آج تک جتنی بھی تحاریک پیش کی ہیں جماعت اسلامی کی طر ف سے ان پر کسی پر بھی عمل در آمد نہیں کیا گیا ۔ کیونکہ ان بلز کا تعلق ڈائریکٹ عوام کے مفادات کے ساتھ تھا اس لیے ان کو فورم پر لایا ہی نہیں گیا ،لیکن ارکان پارلیمنٹ کے ذاتی مفادات کا جو بھی بل ہوتا ہے اس کو فوری طور پر پیش کر کے پاس بھی کروا لیا جاتا ہے ،سیف اللہ گوندل نے کہا کہ جس موضوع پر آج سیمینا ر کیا جارہا ہے اگر ہر ادارہ اپنے دائرے کے اندر رہ کر کام کرے مسائل پیدا ہی نہ ہوں ،عدلیہ اپنا کام کرے پارلیمنٹ اپنا کام کرے ،فوج اپنا کام کرے تو مسائل پیدا ہی نہ ہوںمسائل پیدا ہوتے ہیں جب کوئی بھی اپنی حد سے تجاوز کر تا ہے ،سیف اللہ گوندل نے ٹھیک کہا ،اگر ایک رحمان ملک کو حلف دلانا ہو تو کروڑوں روپے خرچ کر کے اجلاس بلا لیا جاتا ہے لیکن اگر عوام کا کوئی بھی مسئلہ ہو تو پارلیمنٹ کو کوئی پرواہ نہیں ہوتی ،جس طرح کے حالات موجودہ سیاسی حکومت نیں پیدا کئے ہیں ،اس سے تو پاکستان کے عوام کو آج تک کوئی ریلیف نہیں ملا ،صرف اور صر ف اپنی کرسی بچانے کے لیے ہر کام کیا جاتا ہے ،حتی کہ اتحادی جماعتیں بھی اس کام میں پیش پیش ہوتی ہیں،اب الیکشن قریب آئے ہیں تو ہر جماعت عوام عوام کے ڈھنڈورا پیٹ رہی ہے،4 سال میں کسی بھی سیاسی جماعت نے عوام کے حقوق اور عوام ک

یہ بھی پڑھیں  سابق مصری صدر حسنی مبارک کو رہا کر دیا گیا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker