بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

جناب چیف جسٹس ۔۔۔ پاکستانی شہری اورنادرا کی روایتی عوام دشمنی

bashir ahmad mirایک دن میں ہوٹل پر اپنے سٹاف ممبران کے ساتھ چائے پی رہا تھا کہ ایک پٹھان جو سندھ میں رہتا ہے اس نے اپنی داستان غم کچھ اس طرح سنائی کہ آپ لوگ اخبار سے تعلق رکھتے ہو ،کیا ہمارے بارے بھی آپ لکھتے ہو یا سب بڑے بڑے لوگوں کے قصیدہ گو ہو ،میں نے چونک کر اس خان بھائی کو بتایا کہ ہمیں کالم لکھنے کے پیسے نہیں ملتے بلکہ ہم اپنا ضمیر زندہ رکھنے کے لئے حق و سچ کا اظہار کر کے اپنے دماغ سے غبار اتارتے ہیں کہ جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں صلاحیت دے رکھی ہے اس کا عوام الناس کو جو فائدہ ہو اس کے صلے میں اللہ ہمارے اوپر کرم میں اضافہ فرمائے۔یہ سن کر خان بھائی نے بڑی افسردگی میں کہا کہ ہمارے ملک کے شہریوں کے لئے قانون کیا الگ الگ ہیں ،وہ پیدائشی طور پر پاکستانی اور سندھ میں آباد ہے اس کے والدین حیات ہیں بھائی بہنیں بھی ہیں سب کے پاس شناختی کارڈ بنا ہوا ہے مگر جب میں نے شناختی کارڈ کے لئے فارم داخل کروانا چائے تو نادرا والوں نے یہ اعتراض لگا دیا کہ آپ سندھی نہیں ہو پٹھان ہو ،لہذا آپ کا چناختی کارڈ نہیں بن سکتا ۔اب میں کہاں جاؤں ،کس سے فریاد کروں۔۔۔؟ بہرحال خان بھائی کی بات سن کر بہت دل افسردہ ہوا اور افسوس یہ ہوا کہ ہمارے ملک میں عجب نظام ہے کہ جو شہری قیام پاکستان سے اس ملک کا باشندہ ہے اسے قانونی شہریت سے محروم کرنا کتنا بڑا قومی جرم ہے جو ہمارے قومی اداروں کی نا اہلی اور فرائض سے غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔کیا اس کام کے لئے بھی عام شہری کو چیف جسٹس کا دروازہ کھٹکانا پڑے گا ۔اس ایک شہری کی یہ داستان غم نہٰں اس وقت سند ھ میں برسوں سے مقیم پختون شہری اسی طرح کے مسائل کا شکار ہیں ۔
عا م شہری کی سپریم کورٹ تک رسائی ممکن نہیں لہذا ’’کریک ڈاؤن‘‘ کی وساطت سے جناب چیف جسٹس سے امید ہے کہ وہ اس ملک کے شہریوں سے روا رکھے جانے والے رویوں پر چند لفظوں پر مشتمل ہدایت جاری کر دیں کہ کم از کم جو پاکستان کا شہری ہو اسے صوبوں میں منقسم کرنے کی بجائے نادرا اس کے کوائف کی روشنی مٰں اسے شناختی کارڈ اجراء کرنے میں لعت و لعل کا مظاہرہ نہ کرئے۔یقیناًاس سے ہزاروں شہریوں کی پریشانی حل ہو جائے گی ۔
ہماری قومی بد قسمتی ہے کہ جو ادارے عوامی مفاد کے حامل ہیں ان میں کام کرنے والے اپنی تنخواہ ،مراعات،تعطیلات و دیگر مفاداتی سرگرمیوں کو ترجیج دیتے ہیں مگر جب عوامی مفاد کی بات آ جاتی ہے وہاں طرح طرح از خود اعتراض لگا کر عوام کو ذلیل و رسواء کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں یہ صرف نادرا ہی کی بات نہیں بطور مجموعی پوری قوم اس دلدل میں پھنسی ہوئی ہے ۔ہر ادارے نے جان بوجھ کر از خود ایسے قاعدے ضابطے بنا رکھے ہیں جن سے عام آدمی ’’سائل‘‘ کو step by stepمشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔یہی نوکرشاہی کا نظام ہمیں روز بروز تنزل کا شکار کر رہا ہے ،انگریز تو ہمیں 66سال ہوئے چھوڑ کر چلا گیا مگر اس نے ایسے گماشتے چھوڑے جنہوں نے ہمارے نظام کو بادشاہی طرز پر جاری و ساری رکھا ہوا ہے ۔ایک اور حیران کن بات ملاحظہ ہو! شناختی کارڈ میں ہر شہری کی جائے پیدائش ،تاریخ پیدائش،گاؤں ،ضلع اور ولدیت لکھی جاتی ہے مگر اس کے باوجود انگریز شاہی کا ورثہ میں ملا ہوا قانون دیکھئے ۔۔!!! ڈومیسال جس میں ضلع کی تصدیق ،پشتنی سرٹیفیکیٹ جس میں ریاست کی تصدیق ہوتی ہے اسے کسی بھی ملازمت کو اختیار کرنے کے لئے لازم قرار دیا گیا ہے ۔حالانکہ یہی تصدیق شناختی کارڈ میں موجود ہے جہاں تک جعلسازی ختم کرنے کی بات ہے تو جناب جعل ساز یہ سب کچھ کر بھی لیتے ہیں ۔مگر عام شہری کو پٹواری سے ڈپٹی کمیشنر تک ذلیل کرنے کے لئے یہ ریہرسل کی جاتی ہے تاکہ رشوت کا دروازہ کھلا رہے اور ان تمام سطحوں تک گذرتے گذرتے ایک ماہ کم از کم ہر شہری خوار ہو ،اس معاملہ پر ہمارے قانون ساز اب تک کیوں خاموش تماشائی ہیں ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر شہری کی مکمل شناخت جب شناختی کارڈ سے پوری ہو جاتی ہے تو پھر یہ ڈومیسال اور پشتنی سرٹیفیکیٹ کا ڈرامہ کیوں کیا جاتا ہے لہذا اس بارے بھی محسن قوم جناب چیف جسٹس آف پاکستان سے امید ہے کہ وہ عوام کو اس انگریز شاہی قانون سے چھٹکارہ دلائیں گے۔یہ ایسے بنیادی مسائل ہیں جن سے ہر شہری مشکلات کا شکار ہے ،نادرا کو فعال بنا کر ہر شہری کی تصدیق مصدقہ کی روشنی میں شناختی کارڈ اجراء کرنا چاہئے تاکہ کسی اور تصدیق کی ضرورت نہ ہو اور تمام مطلوبہ معلومات شناختی کارڈ میں درج ہوں ۔آخر کب تک عوام کو دوہرے تصدیقی نظام میں خوار کیا جاتا رہے گا ۔ہمارے منتخب نمائندوں کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ ایسا قانون جو عوام کے لئے مشکلات کا موجب ہو اسے ختم کرنے اور شفاف قانون سازی کر کے عوام کو سہولیات فراہم کرنے کا فرض پورا کیا جائے ،اگر سب امور چیف جسٹس نے ہی کرنے ہیں تو پھر نظام مملکت چلانے کے لئے اتنے ممبران اسمبلی ،وزراء ،سیکرٹریز اور بے شمار اداروں کے قیام کا کیا مقصد رہ جاتا ہے ۔۔؟؟؟

یہ بھی پڑھیں  آئی سی سی کی ورلڈ کپ2015 کے فائنل کیلئے سپراوورکی منظوری

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

  1. O bhai sahab, agar aap NADRA me hoty to aap ko pata chalta ke Sindh me pathan ka card banany ki kia saza hai? ek officer ko 32 year jail ki saza sunaye gayee, 8 employees ko patahno ky card banany ke jurm me job se farigh kar dya gaya, ab aap batayen kon aap ka card banany ki himmat karega, aap se guzarish hai ke yeh shikayat le kar aap Nadra ke regional director general ke pass jayen agr un ke dil me rahm aa gaya to shayad aap ka card ban sakta hai

  2. 32 year imprisonment in performance of official duty to a Govt servant,that too in a democratically selected AWAMI Govt! ALLAH ‘S CURSE IS ABOUT ON THIS SOCIETY!

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker