ایس ایم عرفان طا ہرتازہ ترینکالم

نا درا آفس عوام کے لیے وبال جان

اگر مجبو ری سے نادرا آفس جا نے کا اتفا ق ہو جا ئے تو وہا ں کی حالت زار دیکھ کر ایک با ر ایک ذی شعور انسان یہ سوچنے پر مجبو ر ہو جا تا ہے کہ اس ادارے میں نظم و ضبط یا اصول و قواعد جیسی کوئی شے بھی موجود ہے یا پیشتر اداروں کی طر ح یہ بھی بے لگا م چلا یا جا رہا ہے جس میں عوام کا ہجوم ہمہ وقت موجود رہتا ہے ۔ ادارے میں موجود عملہ تعنیا ت تو عوامی خد مت اور سہولت کے لیے کیا گیا ہے لیکن یہ بات ان نادرا نما ئندگان کو سمجھنے کے لیے مد ت لگے گی سرکا ری اداروں کے نظم و نسق اورعوام کے ساتھ برتا ؤ سے اس پر کما نڈ کرنے والو ں اور حکومت کا بخو بی اندازہ لگا یا جا سکتا ہے سرکا ری دفاتر میں عوام الناس سے جیسا برتاؤ کیا جا تا ہے وہ عکاسی کر تا ہے حکومت کی پالیسیوں اور کا رکردگی کی سرکا ری دفا تر میں موجود عملہ کی غیر ذمہ دارانہ حرکتوں اور عوام الناس کے ساتھ نا روا سلوک سے یہ با ت ذہن نشین ہو تی ہے حکومت ایک شتر بے مہا ر طر یقہ کار اپنا ئے محض اپنے مفادات اور اپنی بقاء کے لیے بر سر اقتدار ہے اور اسے عام آدمی کی مشکلا ت اور پریشانیو ں ، مصیبتو ں کی کوئی پروا ہ نہیں ہے یہ تنبیہ ہے آنے والے جنرل الیکشن میں اپنے انتخاب کے حوالہ سے سوچ و بچا ر کی ۔نو مولود بچو ں کی پیدا ئش کی پرچیوں کے اندراج اور ریکا رڈ کیلیے ۲ ، ۳ ماہ تک نادرا آفس کے چکر کا ٹنے پڑتے ہیں یہا ں تک بھی ہو تا ہے کہ پہلے بچے کی پیدائش پرچی نامکمل رہتی ہے اور اسکا ایک اور بھائی یا بہن بھی دنیا میں آجا تے ہیں اس کو سسٹم کی خرابی مت سمجھیے گااگرکسی شخص کی عمر کی درستگی کا معاملہ پڑے تو سمجھیے کہ اب اسکا نادرا والو ں کے ساتھ ایک مضبوط رشتہ استوار ہو چکا ہے محض عمر کی درستگی کے ایسے ایسے کیسز بھی سامنے آتے ہیں کہ جن میں متعلقہ اشخاص کو ۳،۴ سال تک بھی نادرا آفس کے مسلسل چکر کا ٹنے پڑتے ہیں عوام نا درا آفس جا کر ذلیل و خوار ہو تے ہیں جبکہ نادرا آفس کا عملہ خوش گپیو ں میں مصروف رہتا ہے آفس انچا رج سے لیکر سیکیو رٹی گا رڈ تک سب ہی عوام کی حقیقی پر یشانی اور تکلیف سے بے پرواہ دکھائی دیتے ہیں نادرا آفس کے با ہر شہر بھر سے تلا ش کے بعد سب سے بد تمیز سیکیو رٹی گا رڈ تعنیا ت کیاجا تا ہے جو سپر وائز ر کے حکم سے ہر آنے جا نے والے کو بے عزت کرتا ہوا دکھا ئی دیتا ہے غرضیکہ اس آفس میں جا نے کے بعد بد اخلا قی اور بد تہذیبی کی ایک نمایا ں تصویر قلو ب و اذہا ن پر ثبت ہو تی ہو ئی دکھا ئی دیتی ہے ۔جو افرا د نیا شنا ختی کا رڈ بنو انے کے لیے آتے ہیں ان کو گا ئیڈ لا ئن دینے کیلیے نادرا آفس کا کوئی نما ئندہ موجود نہیں ہو تا ہے جمع کرواتے وقت ایک ڈیٹا انٹری آفیسر ۳ ، ۳ لائنو ں کو ہینڈل کرنے کی ناکام کوشش کر رہا ہوتاہے اور میل اور فی میل دونو ں کو ایک ہی ونڈو سے ڈیل کیا جا تا ہے ۵ ، ۷گھنٹے قطار میں کھڑے رہتے ہو ئے بعض افراد ایک دوسرے کے دست و گریبا ن ہونے لگتے ہیں اور بعض کیسیز ایسے بھی دیکھنے کو ملتے ہیں کہ نادرا عملہ کی پیدا کردہ اغلا ط کی درستگی کے لیے ایک ڈیڑھ سال تک بھی سائلین کو آفس کے چکر کا ٹنے پڑتے ہیں جس سو سائٹی کے اندر شناخت نامہ حاصل کر نے کیلیے اتنے پا پڑ بیلنے پڑتے ہوں وہا ں اپنی شنا خت پر فخر کسیے ہو سکتا ہے ؟پر ائیو یٹ سیکٹر میں تو مو با ئل کمپنیو ں میں اپنے کلا ئنٹس کیلیے بہترین سروسز مہیا کی جا تی ہیں اورہر آدمی کو بہتر سروسز پہنچا نے کے لیے تمام تر کلیے استعمال میں لا ئے جا تے ہیں تو پھر سرکا ری دفا تر میں ٹیکسز اور فیسیز اکھٹی کر نے کے با وجود بھی اس طرح کی بری سروسز اور بد نظمی و بد اخلا قی کیو ں دکھا ئی دیتی ہے ؟ ہما رے ہاں سو سائٹی کی تقسیم اور طبقو ں کے تضاد نے عام آدمی کو کشمکش میں مبتلا کر رکھا ہے ہا ئی سو سائٹی کیلیے ہر کام آسان اور بہتر ہے جبکہ ایک عام انسان کے لیے بہت زیا دہ پیچیدگیو ں اور مشکلا ت کو پیدا کردیا گیا ہے بیرونی دنیا میں عام اور خاص کا کوئی تصور ہی نہیں ملتا ہے ما سوائے چید ہ چیدہ چند معا شروں کے وہا ں عام آدمی سے متعلقہ ہر معاملے میں آسانی پیدا کی جا تی ہے اور ادنیٰ سے ادنیٰ شخص بھی وہی حقوق رکھتا ہے جو کہ ہما رے ہا ں ایک خاص سوسائٹی اور طبقے کو مہیا کیے جا تے ہیں مغربی معا شروں میں اسلامی قوانین اور ضا بطے کو عملی شکل دی جا تی ہے جبکہ ہما رے ہاں اسلام اور اس کے اصول محض کتابو ں میں محفوظ کیے جا تے ہیں یا زبانی جمع تفریق دکھائی دیتی ہے جہا ں ہر ادارے کو دن بدن ترقی اور بہتری کی ضرورت رہتی ہے یہا ں الٹی گنگا بہتی ہے ہر کام کو دن بدن عام لو گو ں کے لیے زیا دہ مشکل اور قابل ازیت بنایا جا تا ہے جس کی بدولت نہ صرف عوام کا متعلقہ اداروں سے نفرت کا پیمانہ لبریز ہو تا جا رہاہے بلکہ اپنے شہر ، اپنے وطن اور اس میں قائم حکومت کے خلا ف بھی نفرت اور حقارت پیدا ہو نے لگتی ہے ہر ادارے میں موجود شخص اگر حقیقی طور پر اخلاص اور پوری دیا نت داری کے ساتھ اپنی ذمہ داریا ں پو ری کر نا شروع کردے تو تمام فسادات کی جڑ وں کا خا تمہ ہو سکتا ہے ۔ ظا لم ہے وہ شخص جو کسی منصب یاعہد ے پر رہتے ہو ئے بھی دوسروں کیلیے فائدہ مند اورکا رآمد ثا بت نہ ہوسکے ۔

یہ بھی پڑھیں  ڈیرہ بگٹی چوک کے قریب دھماکے میںرکن قومی اسمبلی سمیت 12افراد زخمی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker