انور عباس انورتازہ ترینکالم

نیک نام بزرگوں کی بداولادیں

anwar-abas-logoبیڑا غرق ہو ہوس کا جس نے بڑے بڑے نیک نام اور بلند کردار دینی،مذہبی،سیاسی اور ادبی شخصیات کی روحوں کو تڑپا دیا ہے اور رلا دیا ہے،ان نیک نام اور صاحب کردار راہنماوں نے اپنی ساری زندگی پاکیزہ کردار کی حفاظت کرتے کرتے بسر کردی، ادیب جب اس دنیا سے گیا تو پیچھے ترکہ میں سوائے اپنے کلام کے کچھ نہ چھوڑا، سیاستدان اس فانی دنیا سے رخصت ہوئے تو انہوں نے بھی جاگیروں کو مربعوں میں بطور ترکہ اپنے پسماندگان کے لے چھوڑا، شاعرون میں آپ مرحوم حبیب جالب کا نام بطور مثال پیش کرسکتے ہیں اور سیاستدانوں میں بابائے جمہوریت نوابزادہ نصراللہ خاں ہمارے نوجوان سیئاستدانوں کے لیے مشعل راہ بن سکتے ہیں،
جب سے کراچی میں دہشت گردی اور دہشت گردوں اور امن دشمن ٹارگٹ کلرز کے خلاف آپریشن کے لیے پاک فوج نے انتہائی دانشمندی سے اس دیس کے مکار سیاستدانوں سے کمال ہوشیاری سے آئینی طور پر اختیارات ہتھیائے ہیں تب سے سیاستدان خون کے آنسو رو رہے ہیں، اور روزانہ ایسے ایسے کرپشن کی گنگا میں اشنان کرتے سامنے آ رہے ہیں کہ انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے،کیونکہ کرپشن کی گنگا اشنان کرنے والوں کی نسبت ایسی شخصیات سے ہے جن کا قیام پاکستان،تحریک پاکستان،اور دیگر شعبوں میں بڑا اہم کردار رہا ہے اور لوگ انکے کردار اور قربانیوں کے باعث انکے نام انتہائی احترام سے لیتے ہیں اسی نسبت سے کرپشن گنگا میں غوطے لگانے والوں کو بھی ہر شعبہ میں احترام و عزت کی نگاہوں سے دیکھا جاتا تھا
آپ قارئین بھی سوچتے ہونگے کہ میں انہیں کن بھول بھلیوں میں چکر لگوا رہا ہوں کھل کر بات نہیں کرتا، تو جناب عالی سنئیے! ڈاکٹر عاصم حسین کون ہیں شائد آپ کے علم میں پہلے سے ہو لیکن میں پھر بھی بتائے دیتا ہوں کہ یہ موصوف سر سید احمد خان کے انتہائی معتمد ساتھی اور تحریک پاکستان کے نہایت فعال راہنما سر ڈاکٹر ضیا الدین احمد کے نواسے ہیں یعنی سر ڈاکٹر ضیاالدین احمد کی بیٹی کے فرزند ارجمند ہیں، این آئی ایل سی کیس کے حوالے سے جن کے اکاونٹ میں چار کروڑ روپے کسی نے اللہ واسطے جمع کروادئیے تھے وہ مخدوم امین فہیم پیر آف ہالا شریف کے گدی نشین ہیں ،اور سہروردی جماعت کے سربراہ بھی۔۔۔ انکے والد محترم مخدوم الزماں طالب المولی ہیں جن کے گھر پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی گئی، پیپلز پارٹی سے میری مراد سابقہ برسراقتدار پیپلز پارٹی نہیں ہے کیونکہ پچھلے دور میں جو پیپلز پارٹی برسراقتدار رہی ہے وہ ’’ پاکستان پیپلزا پارٹی پارلیمنٹرین تھی اور آجکل بھی سینٹ ،قومی اسمبلی اور سندھ کی حکمران جماعت بھی یہی پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین ہے۔۔۔مخدوم امین فہیم اسی پارٹی کے صدر اور راجہ پرویز اشرف شائد اب کوئی اور جنرل سکریٹری ہیں۔ذوالفقار علی بھٹو والی پارٹی جس کا انتخابی نشان تلوار ہوا کرتا تھا وہ تو کئی برسوں کے بعد اب الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ہوئی ہے۔اور اسکے سربراہ بلاول بھٹو زرداری ہیں
یوسف رضا گیلانی جن کے لیے ڈوب مرنے کے لیے یہی کافی ہے کہ ترکی کی خاتون اول نے سیلاب زدگان کی امداد کے لیے جو قیمتی ہار تحفہ میں دیا وہ یہ موصوف ملتان لے گئے یا لاہور کے ڈیفینس والے بنگلہ میں۔۔۔میڈیا میں شور مچا تو کئی دنوں کے بعد بالآخر واپس کرنا پڑا ، دیگر کرپشن کے مقدمات اسکے علاوہ بھی انکے والد جن کی شخصیت کے حوالے سے یوسف رضا گیلانی صاحب خود اخبارات میں آرٹیکل لکھتے ہیں یا لکھوا کر اپنے نام سے شائع کرواتے ہیں جیسے ’’ چاہ یوسف‘‘ کے معاملے میں مشہور ہے۔ سید یوسف رضا گیلانی کے والد محترم سید علمدار حسین گیلانی کے بارے میں لوگ اچھے الفاظ میں ذکر کرتے ہیں،
پیر مظہر الحق سندھ کے سابق وزیر تعلیم رہے ہپیں میں انکا بہت فین رہا ہوں کیونکہ پیر مظہر الحق نے ضیائی آمریت میں ڈٹ کر لڑائی لڑی ایک واقعہ مجھے آج بھی یاد ہے میں ان دنوں سکھر میں ہوتا تھا واقعہ یوں ہے کہ پیر مظہر الحق کراچی آرہے تھے کہ پیچھے سے آنے والی گاڑی نے ہارن دیکر راستہ مانگا لیکن پیر مظہر الحق اپنی موج مستی میں ڈرائیونگ کر رہے تھے لہذا راستہ نہ دیا چنانچہ پیچھے سے آنے والی گاڑی نے ٹیک اوور کرکے پیر صاحب کا چالان بجرم تیز رفتاری کیا اور ملٹری کورٹ سے سزا سنائی ۔۔۔ میں آپ کو یہ بتاتا چلوں کہ پیچھے سے آنے والی گاڑی سب مارشل لا ایڈمنسٹریٹر صاحب کی تھی مقدمہ کے اندراج پر بہت شور اٹھا کہ تیز رفتاری میں اگر چالان پیر مظہر الحق کا ہوا ہے تو پیچھے سے آکر تیک اوور کرنے والی گاڑی تو ان سے بھی تیز رفتار ہوگی؟یہی پیر مظہر الحق پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنی وزارت کے دوران پیسے لیکر لوگوں کو ملازمتیں دیں ۔

یہ بھی پڑھیں  سندھ کے سرکاری تعلیمی اداروں میں ہفتے کی تعطیل ختم

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker