شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / ناجائز اسلحہ کی استعمال کے سزا میں اضافہ کرنے سے جرائم کی شرح میں کمی ممکن ہے

ناجائز اسلحہ کی استعمال کے سزا میں اضافہ کرنے سے جرائم کی شرح میں کمی ممکن ہے

Abdul mateenجیسا کہ آپکو علم ہے کہ میں اپنے گزشتہ کالموں میں حکمرانوں اور محکموں کی کرپشن کے متعلق بتا چکا ہوں مگر آج آپکو ایک ایسے محکمے کے بارے میں بتایا جائے گا جو کہ نہ صرف بے بسی کا شکار ہے بلکہ ناکامی سے بھی دو چار ہے۔اگر اخبارات میں چھپنے والی خبریں کسی محکمہ کی کارکردگی کی عکاسی کرتی ہیں تو ہمارے ملک میں سب سے فرض شناس اور محنتی محکمہ پولیس ہے کوئی دن ایسا نہیں گزرتا کہ پولیس کی کارکردگی اخبارات کے صفحات کی زینت نہ بنتی ہوں مگر دن بدن بڑتی ہوئی قتل و غارت،دنگا فسادات،ڈکیتی ،چوری کی وارداتیں اس بات کا ثبوت ہے کہ محکمہ پولیس اب بے بس ہو گیا ہے۔معزز قائرین اس ملک میں ایک عرصہ سے قیامت برپا ہے لاکھوں بے گناہ لوگوں کا قتل کیا جا رہا ہے۔ہر طرف لاشے نظر آتے ہیں اخبارات میں ہر روز مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا دیکھ کر.مجھے یوں لگتا ہے کہ شاید اب انسانوں کی خبروں کا قحط پڑ گیا ہے جو آجکل اخبارات کو اپنا دامن بھرنے کے لیے مجبوراََجانوروں کے قتل ہو جانے کی خبریں چھاپنا پڑھ رہی ہیں۔ملک بھر میں ہونے والے بم دھماکوں ،ٹارگٹ کلنگ، لڑائی ،جھگڑوں اور دیگر وارداتوں میں لاکھوں بے گناہ لوگ مارے گئے،جو معذور ہوئے ان کی تعداد بھی کم نہیں ،میں نے اپنی آنکھوں سے ماؤں کواپنے لختِ جگر کی لاشوں سے لپٹ کر روتے دیکھا ،کئی ماؤں کی کوکھ اجڑ گئی۔بے شمار عورتیں بیوہ ہوگئیں۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان انفرادی صدمے بھول جاتے ہیں اور ان صدموں کا سبب بنبے والے پائلٹوں کو بھی معاف کر دیتے ہیں مگر جب پائلٹ کے غلط اورخود غرضانہ فیصلے یا بر وقت فیصلوں کے فقدان کے سبب زندگی کا ہوائی جہاز حادثات کا شکار ہو جائے تو ایسا صدمہ قومیں کبھی بھی نہیں بھول پاتیں۔ایسے بے شمار سانحات گزر چکے ہیں جنہیں آج بھی ہم نہیں بھول پائے۔حکمران ملک میں ہونے والے دھماکوں پر مذمت کے پیغامات دے کے اور فائرنگ،ٹارگٹ کلنگ اور ڈکیتی کے دوران ڈاکوں کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والوں کی قبرں پر ان کی بخشش کی دعائیں مانگ کر اس ملک کی قوم پر احسان چڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔عجیب تضاد ہے کہ اس ملک میں انسانی جان اتنی سستی ہے کہ ہر روزہزاروں بے گناہ لوگوں کا قتل ہواجارہاہے ۔پانی میں تیرتی ہوئی لاشیں ،ٹارگٹ کلنگ سے مرنے والوں اور لاپتہ افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ڈکیتی ،چوری کی وارداتوں کے دن بدن اضافے سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ حکمران سمیت محکمہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے تمام ادارے عوام کاا عتماد کھو چکے ہیں ،عوام خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگ گئے ہیں۔ ہمارے حکمرانوں نے ملک پاکستان کو دنیا بھر میں بدنام کرنے کی کوئی کسر نہ چھوڑی ہے۔جبکہ ملک بھر کی عوام کو اس بات کا باخوبی علم ہو گیا ہے کہ حکمرانوں کے ہر روز اخبارات میں چھپنے والے دعوے اور وعدے جھوٹے ہیں۔ آپ بھی سوچیں گے کہ میں آج کن مایوسیوں کے قصے لے بیٹھا ہوں مگر میں بھی ایک عرصہ سے دل پر پتھر رکھ کرملک بھر کے حالات اور حکمرانوں کے تماشے دیکھتا آرہا ہوں مگر جہاں تک میرا خیال ہے محکمہ پولیس کے متعدد اقدامات کے باوجود کرائم کی شر ح میں کمی لانے میں ناکام رہی ہے۔اب تو حکمرانوں کو چاہیے کہ غیر ملکی امداد پرچلنے والامحکمہ پاپولیشن پلاننگ بند کر کے اب آبادی گھٹانے کا ٹھیکہ بھی دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کے سپرد کر دیا جاے تاکہ ایک تیر سے دو شکار ہوں ملک کی بڑتی ہوئی آبادی میں کمی بھی ہوتی رہے اورپولیس کی بھاگ دوڑ بھی ختم ہو جائے ۔خیر بات لمبی ہوتی جا رہی ہے ، چند روز قبل ایک محفل میں اصلاح معاشرہ کے موضوع پر گفتگو ہو رہی تھی کہ محفل میں میرے ایک مہربان چوہدری محمد حنیف ریٹائرڈ جج سمیت قصور بار کے چند سینئر وکالاء جن میں سردار شریف سوہڈل،ملک غلام قادر ،چوہدری لطیف بھٹہ شامل تھے موضوعِ بحث تھاکہ حکومت کی تمام تر کوششوں کے باوجود معاشرہ بگاڑکی راہ پر کیوں گامزن ہے اس گفتگو کے آخر میں یہ بات سامنے آئی کہ ملک میں آج تک ۔اغوا،زناء،قتل ، دنگا فسادات،چوری اور ڈکیتی جیسی وارداتیں ناجائز اسلحہ کی مدد سے کی گئی ہیں۔ایسی وارداتیں ناجائز اسلحہ کی مدد کے بغیر ہر گر ناممکن ہیں۔جبکہ ہمارے ملک میں ناجائز اسلحہ کے استعمال اور فروخت پر ایک معمولی نوعیت13/20/65 جرم لگایا جاتا ہے جس میں گرفتار ملزم کوانصاف کی کرسیوں پر بیٹھے منصف فوری ضمانت لے کرآزاد کر دیتے ہیں۔اور جرم ثابت ہونے پرملزم کو 500روپے جرمانہ کر یا جاتا ہے۔معزز حکمرانوں کے لیے اطلا ع ہے کہ اگر ملک کو اسلحہ سے پاک کردیا جائے تو تمام قسم کے کرائم کی شرح میں کمی ممکن ہے،میرا ایک قیمتی مشورہ حکومت تک پہنچا دیں کہ اگر ناجائز اسلحہ کے استعمال اور فروخت کرنے پر درج کیے جانے والے مقدمہ 13/20/65 کی سزا میں اضافہ کر دیا جائے تو ملک بھر میں ہونے والے دنگافسادات،چوری،ڈکیتی،اغوا و دیگر جرائم میں بہت حد تک کمی آئے گی

یہ بھی پڑھیں  کامیابی کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہوں۔سونم کپور