تازہ ترینحکیم کرامت علیکالم

نمک ہلال وفادار

hakeem kramthایک پنجابی کی کہاوت سنی تھی بزرگوں سے ۔کہ ایک آدمی نے باجرہ کاشت کیا جب اس کی فصل پکنے کے قریب آئی تو وہ اپنی فصل سے تھوڑا دور جاکر کووں کو بھگانے کی کوشش کر رہا تھا ۔کہ ایک آدمی نے گزرتے ہوئے اس سے پوچھا کہ بھائی یہ کوئے تو باجرہ نہیں کھاتے پھر تم ان کے پیچھے کیوں لگے ہوئے ہو ۔تو اس زمیندار نے جواب دیا کہ بھائی تم نہیں جانتے ان سب کی پرندوں کا مشورہ ایک ہی ہوتا ہے ۔یہ سب آپس میں ملے ہوئے ہیں ۔خواہ کوئی شریف پرندہ ہو یا شرارتی سب کی ایک ہی رائے ہوتی ہے میں اس لیے ۔ان کووں کو بھگانے کی کوشش کر رہا ہوں ۔اب ہمارے ملک کے حکمرانوں کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے ۔کوئی تو باجرہ کھانے والے ہیں اور کوئی گندم ۔بار بار بیوقوف بنتی ہے تو وہ ہے اس ملک کی عوام
اب میدان ،،شیر آرہا ہے ،، سائیکل ،،آرہا ہے ،،ترازو،،آرہا ہے اور بھی کئی شکلیں سامنے آرہی ہیں ۔دیکھتے ہیں کون ہے ان میں جو اس ملک کا محب ثابت ہوتا ہے اور کون باہر کے ملکوں سے وفاداری کا ثبوت دیتا ہے ۔پوری طرح ان بیچاروں کا بھی کوئی قصور نہیں ۔اپنے آقاوں سے تو وفاداری کرتے ہیں ۔ہمارے حکمران ٹولے کا نظریہ شاید یہ ہی ہے کہ ،،صنم ہم تو تمہارے ہی ہیں ،،ان کے خیال میں یہ ہے کہ چلو ایک سے تو بنا کے رکھو خواہ وہ ہمارے ملک کا دشمن ہی کیوں نہ ہو ۔ملک کا ہی دشمن ہو گا حکمرانوں کا تو نہیں ۔ ان کے تو وہ محافظ ہیں ان کی لوٹی ہوئی دولت جو پاکستان کے غریب عوام کا خون نچوڑ کر بنائی کمائی گئی اسے اپنے بنکوں میں سنبھال کر رکھتے ہیں ۔اپنے ملک میں ان کے محلات تعمیر کرواتے ہیں ۔ویسے ہمارے ملک کے حکمران نمک حرام نہیں بلکہ نمک حلال کر کے دکھاتے ہیں ۔اپنے ملک کو داو پر لگا دیتے ہیں مگر ۔ملک دشمنوں سے غداری نہیں کرتے ۔جیسے ،،ایمل کانسی انہوں نے مانگا ہم نے تابعداری کرتے ہوئے دے دیا اور پھر اس کی لاش وصول کر لی۔قوم کی بیٹی بے قصور ڈاکٹر عافیہ صدیقی انہوں نے مانگی ہم نے ۔سرِ خم تسلیم کیا اور ان کے حوالے کر دی ۔
ان کا ایک بے غیرت ہمارے لاہور شہر میں سر عام ہمارے معصوم شہریوں کا قتل کر دیتا ہے ،ریمنڈڈیوس،ہم نے باعزت بری کر کے بھیج دیا ۔اب دو دن پہلے امریکی سفارت خانے کی گاڑی کی ٹکر لگنے سے ہمارے ملک کے دو اور نوجوان اس جہان فانی سے کوچ کر گے ہمارے مردہ ضمیر کسی بھی حکمران نے اس بارے میں کوئی زبان نہیں کھولی ۔ ان کا کتا بھی ہمارے ملک میں مر جائے تو ہماری شامت آجاتی ہے ۔
حکمران تو رہے ایک طرف ہمارے علما ء ہمارے علامہ ہمارے شیخ الاسلام کہلوانے والوں کی صورتِحال کیا ہے ۔جو ہر دو منٹ بعد اپنا بیان اپنی بات اپنا واعدہ بدل لیتے ہیں ۔ اتنی جلدی گرگٹ بھی اپنا رنگ نہیں بدلتا جتنی جلدی یہ اسلام کے ٹھیکدار اپنا عوام سے کیا گیا واعدہ بدل لیتے ہیں ۔جب عوام کو ساتھ لے جانا ہوتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ ،،ہم جو بھی بات کریں گے جو بھی مذاکرات کریں گے اپنی عوام کے اپنے پیروکاروں کے سامنے کریں گے ۔بعد میں سب کچھ مک مکا بند بلٹ پروف کنٹینر میں ہی ہو جاتا ہے ۔ پھر وہ وکٹری کا نشان بنا کر کہ رہے ہوتے ہیں کہ دیکھو ہم نے تم کو دو بار ،،بیوقوف بنا دیا
یہ غداری ہمارے ان علماء کی ہے جو ہزار ہزار اسلامی کتب کے مصنف ہیں ۔ ان کا اسلام صرف کتابیں لکھنے تک ہی محدود ہے عمل کرنا عوام کی ذمہ داری ہے ۔انہوں نے تو کتاب لکھی کسی ادارے سے چھپوائی اور اسے تین سو سے پانچ سو تک کی قیمت میں فروخت کیا اور ویزہ ٹکٹ کے پیسے بنائے اور پھرُ سے اُڑ گے امی ،،الزبتھ،، کے ہاں ،، کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ جنت امی کے قدموں میں ہے ،،صرف ان کی ،،
یہ وہ لوگ ہیں جو اسلام کے نام پر عوام کو بیوقوف بنا رہے ہیں ۔یہ وہ اسلام کے ٹھیکدار ہیں جو آج ہمارے حکمرانوں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں ۔دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں ۔ایک طرف پاکستان کے حکمرانوں کی غلامی کا لبادہ اوڑھ کر عوام میں مقبولیت حاصل کر لی اور اپنی غداری رقم کی صورت میں وصول کر لی۔ دوسری طرف غیر ملک میں ان سے مل کر ملک سے غداری اور انعام ڈالروں میں ۔واہ رے مذہب کے ٹھیکدارو۔اسی طرح وفاداری کرتے جاو غیر مسلموں اسلام دشمنوں سے شاید تمہاری فلاح اسی میں ہے ۔مگر یاد رکھو یہ کامیابی اس فانی دنیا تک ہی رہ جائے گی
آج پاکستان ہر طرف سے بے شمار مسائل میں گھرا ہوا ہے ۔ کہیں بے روز گاری ،کہیں دہشت گردی کہیں نا انصافی کہیں غربت و تنگدستی کہیں سماجی مسائل کہیں معاشی مسائل ۔حتیٰ کہ مسائل کا ایک ہجوم ہے جس نے ہمارے ملک کو اپنی گرفت میں لیا ہوا ہے ۔ اس کا ذمہ دار کون ہے ان مسائل کو حل کرنے کے لیے ہمیں ایک ایسے حکمران کی ضرورت ہے ۔ جو مثبت سوچ کا مالک ہو ۔ایک ایسے حکمران کی ضرورت ہے جو ایسی تدابیر اختیار کر سکے کہ یہ ہمار ملک عروج کی طرف سفر شروع کرے ۔ایک ایسا حکمران جو غیروں کی وفاداری چھوڑ کر اس پاک وطن سے محبت کرتے ہوئے اس کو ترقی کی راہ پر گامزن کرے ۔ ایک ایسا حکمران جو اپنے اندر حضرت عمر فاروقؓ جیسا حکمرانی کا جذبہ رکھتا ہو ۔۔ ائے اللہ ہمیں ایسا حکمران عطا فرما ،،ان لیٹروں سے ہماری جان چھڑا آمین

یہ بھی پڑھیں  منڈی بہاؤالدین:ماں باپ کےگھرآئی شادی شدہ خاتون کونامعلوم افراد نےقتل کردیا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker