پاکستانتازہ ترین

قومی اسمبلی میں جنوبی پنجاب صوبے کی قرارداد منظور

اسلام آباد (بیوروچیف)  قومی اسمبلی کا آج ہونے والا اجلاس 20 منٹ تاخیر سے شروع ہوا۔ اجلاس کی صدارت اسپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا نے کی۔ اسمبلی میں مسلم لیگ ن کے ارکان نے آج پھر بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر اسپیکر کی نشست کے سامنے دھرنا دیا۔ ‘ ارکان گو گیلانی گو اور مجرم وزیر اعظم , مجرم وزیر اعظم اور گیلانی استعفی دو کے نعرے لگاتے رہے اجلاس شروع ہوتے ہی ن لیگ اراکین نے ایوان میں ہنگامہ آرائی شروع کردی اور اسپیکر کے ڈائس کے سامنے سیڑھیوں پر دھرنا دیا۔ ن لیگ کے احتجاج پر اسپیکر اسمبلی نے اراکین کو اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھنے کی ہدایت کی اور کہا کہ ن لیگ اراکین ایوان کا ماحول خراب نہ کریں۔ ن لیگ اراکین اسپیکر کی ہدایت کو نظر انداز کرتے  رہے اور نو نو کے نعرے لگاتے رہے۔ بعد ازاں ن لیگ اراکین نشتوں پر جا کر کھڑے ہوگئے اور گو گیلانی گو کے نعرے لگانے لگے۔ ن لیگ کی ہنگامہ آرائی پر اسپیکر نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان گندی روایات کو ایوان میں نہ لایا جائے۔ جس کے بعد مسلم لیگ ن کے اراکین اپنی نشستوں سے اٹھ کر وزیراعظم کی خالی نشست کے سامنے کھڑے ہوگئے۔ ن لیگ کے ارکان نے وزیر اطلاعات کا گھیراؤ کرلیا اور ایجنڈے کی کاپیاں‌ پھاڑ کر ان پر پھینک دی۔ جس پر وفاقی وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ نے کہا کہ کچھ سابقہ جج اور چیف جسٹس صاحبان ٹاک شوز میں جو باتیں کرتے ہیں، ان سے کنفیوژن پھیلتا ہے۔ سابقہ جج صاحبان کے بیانات اپنے ججوں کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ قمر زمان کائزہ کے جواب دیتے وقت ن لیگ کی خواتین اراکین نے ان کے سامنے پوسٹرز لہرائے۔ پوسٹرز پر سزا یافتہ وزیراعظم نامنظور، عدالتی فیصلے مانو، کرپشن نامنظور کی عبارات درج تھیں۔  وفاقی وزیر اطلاعات نے اس موقع پر کہا کہ جمہوریت کے چیمپئن پارلیمنٹ کا احترام کریں۔ اگر کام نہیں کرنا تو اپوزیشن ارکان اپنے سوال واپس لے لیں، قوم کا پیسہ ضائع نہ کریں۔ چوہدری نثار پیچھے بیٹھ کر چکر چلا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  پارلیمنٹ لاجز یا مے خانے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker