پاکستانتازہ ترین

قومی اسمبلی کا تاریخ ساز اجلاس آج ہوگا، عمران خان کی شرکت مشکوک

national assemblyاسلام آباد(بیورو رپورٹ) قومی اسمبلی کا تاریخ ساز اجلاس آج ہوگا ، میاں نواز شریف ، خورشید شاہ ، امین فہیم ، فضل الرحمن ، آفتاب شیر پاؤ سمیت نو منتخب اراکین قومی اسمبلی حلف اٹھائیں گے ، عمران خان کی آمد پہلے اجلاس میں مشکوک ، ڈاکٹروں کی ہدایت کے بعد فیصلہ کرینگے ، کل سپیکر ڈپٹی سپیکر کے انتخاب کے لئے کاغذات جمع ہوں گے ، پانچ جون کو وزیراعظم کا انتخاب عمل میں آئے گا ۔’’ آن لائن ‘‘ کے مطابق 13 ویں قومی اسمبلی اپنی آئینی مدت پوری کرنے کے بعد تاریخ کا حصہ بن گئی ۔ 16 مارچ 2008ء کو معرض وجود میں آنے والی قومی اسمبلی اپنی آئینی مدت 7 مارچ 2013ء کو مکمل کی جس کی صدارت سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کی اور جنہوں نے ملکی تاریخ سمیت اسلامی ممالک میں بھی پہلی خاتون سپیکر ہونے کا اعزاز حاصل کیا ۔ پانچ سال میں کسی رکن کی جانب سے پہلی مرتبہ سپیکر کا عہدہ غیر متنازعہ رہا اور انہوں نے نہایت خوش اسلوبی سے ایوان کی کارروائی چلائی ۔ سابقہ اسمبلی کے بہترین کارناموں میں 18ویں ترمیم ،19ویں ترمیم اور 20ویں ترامیم کو پارٹی اہمیت حاصل ہوگئی جن کے متفقہ طور پر پاس ہونے سے جمہوریت کو استحکام ، صوبوں کو اختیارات اور اسمبلی میں توازن کی روایت کو قائم کرنے کی کوشش کی گئی 13ویں قومی اسمبلی کو یہ بھی اعزاز حاصل رہا کہ پانچ سال منتخب پارلیمانی صدر مملکت کا خطاب بھی ہوا قومی مسائل اور خصوصاً سکیورٹی کی صورتحال پر طویل ترین مشترکہ اجلاس بھی منعقد کئے گئے ۔14 ویں اسمبلی کا تاریخی اجلاس آج ( ہفتہ ) پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوگا جس میں مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف ، پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے سربراہ مخدوم امین فہیم ، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن ، قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ ، پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی سمیت 323 نو منتخب اراکین قومی اسمبلی حلف اٹھائیں گے جن سے سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا حلف لیں گی عام انتخابات کے نتیجے میں دو مذہبی جماعتوں سمیت اٹھارہ جماعتیں ایوان تک پہنچیں ہیں جبکہ آٹھ آزاد اراکین بھی قومی اسمبلی تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ہیں ۔ اس وقت قومی اسمبلی میں سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) ہے جس کے پاس کل 176 نشستیں ہیں جبکہ پیپلز پارٹی دوسری بڑی پارلیمانی جماعت کے طور پر اسمبلی میں پہنچی ہے جس کی عددی حیثیت 39 ہے ، تحریک انصاف تیسرے نمبر پر ہے جس کے پاس 35 اراکین ہیں جبکہ متحدہ قومی موومنٹ کے 23 اراکین قومی اسمبلی اپنا حلف اٹھائیں گے اسی طرح جمعیت علمائے اسلام (ف) کی 15، پاکستان مسلم لیگ (ف) کی 6، پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کی 4، جماعت اسلامی 4، نیشنل پیپلز پارٹی 3، پاکستان مسلم لیگ (ق) 2، عوامی نیشنل پارٹی 2، مسلم لیگ (ض) ، نیشنل پارٹی ، عوامی مسلم لیگ ، عوامی جمہوری اتحاد ، آل پاکستان مسلم لیگ ( مشرف لیگ ) قومی وطن پارٹی ، بلوچستان نیشنل پارٹی کا ایک ایک نو منتخب رکن حلف اٹھاے گا جبکہ 8 آزاد اراکین بھی اپنا حلف وفاداری اٹھائیں گے ۔ ذرائع کے مطابق 14ویں اسمبلی کے پہلے اجلاس کے لئے سکیورٹی کے سخت انتظامات کردیئے گئے ہیں اور خصوصی پاسز کے علاوہ کسی شخص کو شاہراہ دستور پر کی طرف جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی صرف خصوصی پاسز کے حامل افراد ہی نئی قومی اسمبلی کی کارروائی کو دیکھ سکیں گے ادھر صحافیوں کو جاری کئے گئے پاسز بھی کم پڑ گئے ہیں ۔ دوسری جانب قومی اسمبلی میں تقریب حلف برداری کے حوالے سے انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے اور سیکرٹری قومی اسمبلی کرامت اللہ نیازی کے افسران کو واضح ہدایت بھی جاری کردی ہیں ۔ ذرائع کے مطابق نو منتخب اراکین حلف اٹھانے کے بعد فرداً فرداً رجسٹر پر اپنی حاضری بھی لگائیں گے حلف کے بعد سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخابی عمل میں لایا جائے گا اور اس حوالے سے دو جون بروز اتوار دن بارہ بجے تک سیکرٹری آفس میں کاغذات نامزدگی جمع کرائے جائینگے جن کی جانچ پڑتال دوپہر دو بجے تک کی جائے گی ۔ تین جون بروز سوموار کو نئے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے قیام کا عمل میں لایا جائے گا سپیکر ڈپٹی سپیکر کے انتخاب کے عمل کے بعد اگلا اقدام قائد ایوان کے تقرر کا ہوگا ۔ چار جون کو وزیراعظم کے انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی جمع ہوں گے اور پانچ جون کو وزیراعظم کا انتخاب عمل میں لایا جائے گا ۔ وزیراعظم کے انتخاب کے بعد اگلا مرحلہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کا ہوگا اور جس جماعت کی اپوزیشن میں اکثریت ہوگی اسی سے قائد حزب اختلاف کا انتخاب کیا جائے گا سابقہ 13 قومی اسمبلی کے کارکنوں میں ا یک کارنامہ وزیراعظم کا متفقہ انتخاب بھی تھا اور سید یوسف رضا گیلانی پہلے وزیراعظم ہیں جو اتفاق رائے سے وزارت عظمیٰ کے لیے منتخب کئے گئے تھے جبکہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا بھی پہلی خاتون سپیکر قومی اسمبلی منتخب ہوئیں ۔ سپیکر کے دیگر ہدایات کے ساتھ یہ روایت بھی قائم کی گئی کہ ایک مہنگے گھر میں رہائش کی بجائے چھوٹے گھر میں رہنا پسند کیا اور چھبیس کروڑ کی مالیت کے بنائے گئے سپیکر کے لیے خصوصی گھر میں رہنا گوارہ نہ کیا ۔

یہ بھی پڑھیں  نورعالم امیرترین اورجمشید دستی غریب ترین رکن قومی اسمبلی، الیکشن کمیشن

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker