اطہر مسعودوانیتازہ ترینکالم

مسئلہ کشمیر، قومی اسمبلی سے قومی اسمبلی تک

atharدوست ملکوں کی کوشش سے ’اوفا ‘ کانفرنس میں پاکستان اور بھارت کی وزرائے اعظم ملاقات کے باوجود دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کا سلسلہ منقطع نہیں ہو سکا ہے۔ اگرچہ حکومت کی طرف سے کہا گیا ہے کہ حالیہ کشیدگی کا اثر دونوں ملکوں کے آئندہ رابطوں پر نہیں پڑے گا تاہم روس میں ہونے والی دونوں ملکوں کی وزرائے اعظم ملاقات میں پاکستان کی طرف سے مسئلہ کشمیر کو نظر اندازکئے جانے پر تنقید بھی ہوئی کہ بھارت نے تو ببمئی حملوں سے متعلق اپنا روائتی مطالبہ کیا جبکہ پاکستان کی طرف سے سنگین ترین مسئلہ کشمیر کا ذکر نہ کرتے ہوئے بھارت کے سامنے اپنی ترجیحات واضح کی ہیں۔ پاکستان کے بھارت میں سابق سفیر اشرف جہانگیر قاضی نے کہا ہے کہ روس میں پاکستان اور بھارت کامشترکہ بیان غیرضروری طور پر تباہ کن تھا، یہ پہلا ایسا مشترکہ بیان تھا جس میں کشمیر کا خصوصی ذکر نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی وزارت خارجہ کے پاس سفارت کاری کی تمام مہارت موجود ہے، مسئلہ صرف یہ ہے کہ کیا اسے وہاں کام کرنے دیا گیا۔ کوئی شخص یا ادارہ اس کی جگہ نہیں لے سکتا۔مسئلہ کشمیر کو یوں نظر انداز کئے جانے پر احتجاج کے طور پر حریت کانفرنس کے واضح طور پر بڑے اتحاد کے سربراہ سید علی شاہ گیلانی نے نئی دہلی میں پاکستانی سفیر کی افطار کی تقریب میں شرکت سے معذرت کی ،تاہم حریت کے دوسرے گروپ کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق نے پاکستانی سفارت خانے کی افطار پارٹی میں شرکت کی۔
مجھے کسی حوالے سے قیام پاکستان کے بعد سے قومی اسمبلی میں کشمیر سے متعلق 1971ء تک ہونے والی مختلف تقاریر پر مبنی اہم تاریخی دستاویزات دیکھنے کا موقع ملا۔1947-48ء میں جنگ کشمیر کے دوران پاکستان اور بھارت کے درمیان دفاعی طاقت کا تناسب ایک اور تین کا تھا۔کشمیر کی جنگ طویل ہوئی تو ہندوستانی حکومت کی پریشانی بڑہنے لگی،آزاد کشمیر فورس کی 60بٹالینز تیار ہو چکی تھیں جو کشمیر میں بھارتی فوج پر دباؤ میں اضافہ کر رہی تھیں۔یوں کشمیر کے سیاسی مستقبل کے لئے ریاستی عوام کی رائے شماری کے وعدے پر جنگ بندی کے لئے خود ہندستانی حکومت نے اقوام متحدہ میں کشمیر کا مسئلہ پیش کیا۔کشمیر میں جنگ بندی لائین کے قیام کے بعد ہندوستانی حکومت نے ٹال مٹول اور منافقت سے کام لیتے ہوئے یہ ظاہر کرنا شروع کر دیا کہ اسے کشمیر میں رائے شماری کرانے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔عالمی طاقتوں کی بھرپور مدد سے صرف دوتیں سال میں ہی ہندستان کی جنگی طاقت میں اتنا اضافہ کر دیا گیا کہ پاکستان اور بھارت کا جنگی طاقت کا تباسب’’ ایک اور نو‘‘ہو گیا۔پاکستان کی قومی اسمبلی میں محض دو تین سال کے اندر ہی ہندوستان کی دفاعی طاقت میں اس اضافے کو دیکھتے ہوئے اس حقیقت کا اظہار شروع ہو گیا ’’ اب پاکستان بھارت سے جنگ نہیں کر سکتا‘‘، اور یہ بھی کہ عالمی طاقتیں کشمیر پر بھارت کے ہٹ دھرمی اور ناانصافی پر مبنی روئیے کی حوصلہ افزائی کر رہی ہیں۔آج یہ تلخ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ کشمیر میں سیز فائر لائین کے قیام سے ہی پاکستان کو اسی بنیاد پر مسئلہ کشمیر کے حل کے لئیمجبور کرنے کا عمل جاری ہے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان دریاؤں کی تقسیم کے ’’ سندھ طاس معاہدے‘‘ اور شملہ سمجھوتے میں کشمیر کی سیز فائر لائین کو ’’ لائین آف کنٹرول ‘‘کا نام دیتے ہوئے جنگ کشمیر کی جنگ بندی لائین کی بنیاد پر ہی مسئلہ کشمیر کے حتمی حل کے لئے سندھ طاس معاہدے اور سیز فائر لائین کو کنٹرول لائین بنانے سے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی کمزوری اور پسپائی کا اظہار ہوا۔خاص طور پر ’’ سندھ طاس معاہدہ‘‘ پاکستان کی طرف سے ہندوستان کے حق میں بھارتی مقبوضہ کشمیر سے دستبرادری کی دستاویز بھی قرار پاتی ہے۔مسئلہ کشمیر میں اسی پسپائی کا نتیجہ ہے کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں؂بالخصوص گزشتہ ستائیس سال سے آزادی کی سیاسی اور مسلح تحریک مزاحمت جاری ہونے کے باوجود کشمیر سے متعلق پاکستان کا جارحانہ انداز نظر نہیں آتا۔کشمیر میں سیز فائر لائین کے بعد ہی مسئلہ کشمیر سے دستبرداری کا ایک ثبوت اس طور بھی سامنے آیا کہ آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر سے تحریک آزادی کشمیر کی نمائندہ حکومت کا کردار لے لیا گیا اور اس خطے کی حکومت کا کردار تحریک آزادی سے منقطع کرکے مقامی امور میں محدود کر دیا گیا۔یوں یہ تلخ ترین حقیقت بے نقاب ہو جاتی ہے کہ پاکستان کی سابق حکومتوں نے کشمیر کی سیز فائر لائین کو ایک مقدس گائے کی طرح کا درجہ تسلیم کرتے اور بھارت سے ’ سندھ طاس معاہدے‘‘ کے ذریعے عالمی برادری کے سامنے جس طرح خود کو پابند بنایا ہے،عالمی برادری کے سامنے کئے گئے ’’ عہد‘‘ کی وجہ سے اب کی حکومتوں کو دوہرے معیار اپنانے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی اسی پسپائی اورغلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے کہ آج چین کی اقتصادی راہداری کی تعمیر کے حوالے سے پاکستان کو ’’ متنازعہ علاقے ‘‘کے نام پر بھارتی جارحیت اور مداخلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یہ بات واضح طور پر نظر آ رہی ہے کہ بھارت پاکستان کی طرف سے تعلقات کی بہتری کی کوششوں کو پاکستان کی کمزور ی سے تعبیر کر رہا ہے۔ بھارت پاکستان کے ساتھ کشیدگی کے خاتمے اور تعلقات کی بہتری کے لئے پاکستان کو مسئلہ کشمیر سے دستبردار کرانے کے مذموم منصوبے پر بھی کام کرتے نظر آتا ہے۔یوں پاکستان اور بھارت کے درمیان دشمنی کا ’’پرنالہ‘‘بدستور اپنی جگہ قائم ہے ۔بھارت مقبوضہ کشمیر میں اپنی فوج کی کثیر تعداد کی تعیناتی اور اس کے بھر پور ظالمانہ استعمال کے باوجود کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو ختم کرنے میں بار بار بری طرح ناکام چلا آ رہا ہے۔ اور اب دنیا میں سفارتی سطح پہ خود بھارت یہ تسلیم کر رہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو ختم نہیں کیا جا سکتا اور کشمیریوں کی جدوجہد آزادی جاری رہے گی۔ یہ بات ضروری معلوم ہوتی ہے کہ پاکستان اپنی مبہم کشمیر پالیسی کو واضح کرے اور اس حوالے سے متحرک حکمت عملی بھی اپنائی جائے۔اگر اب بھی پاکستان کے ارباب اختیار نے ماضی کی طرح مسئلہ کشمیر پروقتی مفاد پر پر مبنی فیصلوں کو ترجیح دی تو اس کے بتائج مہلک ترین ہو سکتے ہیں۔ہم کشمیرمیں جنگ بندی لائین کے قیام اور سندھ طاس معاہدے کے وقت سے سنتے آ رہے ہیں کہ ہم انڈیا سے جنگ نہیں کر سکتے ،ایسی ہی پالیسیاں اب بھی نظر آ رہی ہیں۔لیکن پاکستان عملی اقدامات سے دنیا پر یہ تو ظاہر کر ہی سکتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل اس کے لئے کتنا اہم ہے اور اس کا حل نہ ہونا پاکستان کی بقاء اور سلامتی کے لئے بھی ایک چیلنج کے طور پر درپیش ہے۔قیام پاکستان کے چند سال بعد تک کی قومی اسمبلی میں تو عوام کو حقیقت بتا دی جاتی تھی لیکن اب کی قومی اسمبلیاں عوام کو یہ حقیقت بتانے سے قاصر ہیں کہ پاکستان نے مسئلہ کشمیر پر عالمی سطح پر کیا اقرار کر رکھے ہیں اور سرکاری بیانات میں عوام کو کشمیر کی آزادی کے کیا خواب دکھائے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  عورت کا دشمن کون؟

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker