شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / اطہر مسعودوانی / ‘نیشنل یونیورسٹی ماڈرن لینگویجز’ کی مجوزہ انٹرنیشنل کشمیر کانفرنس!

‘نیشنل یونیورسٹی ماڈرن لینگویجز’ کی مجوزہ انٹرنیشنل کشمیر کانفرنس!

اسلام آباد میں واقع ‘نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز ‘ نے اگلے ماہ کے آخری ہفتے دوروزہ انٹرنیشنل کشمیر کانفرنس کرانے کا اعلان کیا ہے جویونیورسٹی کے شعبہ” انٹر نیشنل ریلیشنز ،پاکستان سٹیڈیز و گورنینس اینڈ پبلک پالیسی”کے زیر اہتمام 27اور28فروری2018کو منعقد کی جائے گی ۔”تنازعہ کشمیر،ماضی ،حال،مستقبل’ ‘ کے موضوع پر ہونے والی اس کانفرنس میں بیرون ملک سے کئی شخصیات کی شرکت متوقع ہے۔اطلاعات کے مطابق کانفرنس کے پہلے دن کے سیشن کے مہمان خصوصی صدر آزاد کشمیر مسعود خان اور دوسرے دن کے مہمان خصوصی وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان ہوں گے۔کانفرنس کے دس ذیلی موضوعات میں1۔ نیا انتفادہ،کشمیر میں نوجوانوں کی قربانیاں،چیلنجز اور مواقع۔2۔انسانی حقوق،سوشیو پولیٹکل اور جمہوری مواقع۔3۔انٹرا کشمیر تعلقات اور رابطے۔4تنازعہ کشمیر ،نفسیاتی ،سماجی،ماحولیاتی اور پانی کے مسائل اورتنازعہ کشمیر پر اس کے اثرات۔5۔ کشمیر پر امن عمل کی اہمیت۔6۔تنازعہ کشمیر کے حل کے لئے نرم طاقت کا فروغ۔7۔تنازعہ کشمیرتاریخی تناظر میں 8۔  CPEC  سے بدلتے جیو پولیٹکل اور جیو اکنامک کے کشمیر پرممکنہ اثرات۔9۔عالمی تنظیموں اور بڑی طاقتوں کا تنازعہ کشمیر کے حل میں کردار۔10۔ تنازعہ کشمیر اور علاقائی امن و ترقی۔ بلا شبہ ان معلومات کے نئے ذرائع میسر آنے سے یہ مفید رہے گا کہ مسئلہ کشمیر کے ” ماضی ،حال،مستقبل ” کا بنیادی حقائق کی روشنی میں جائزہ لیا جائے۔یہاں مسئلہ کشمیر کا تذکرہ تنازعہ کشمیر کے طور پر کیا گیا ہے۔بلاشبہ یہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تنازعہ تو ہے ہی لیکن یہ کشمیریوں کا اپنے علاقوں پر اپنے مکمل اختیار،حقوق اور آزادی کی طویل جدوجہد ہے۔کشمیریوں کی جدوجہد کا سلسلہ پاکستان اور ہندوستان کے معرض وجود میں آنے سے پہلے سے جاری ہے۔دونوں ملکوں کے درمیان کشمیر کا تنازعہ شروع ہونے پر ہندوستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے رجوع کیا اور دونوں ملکوں کی رضامندی سے اقوام عالم نے مسئلہ کشمیر کے حل کا یہ بنیادی اصول طے کیا کہ کشمیر کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لئے ریاست جموں و کشمیر میں اقوام متحدہ کی زیر نگرانی رائے شماری کرائی جائے ۔بعد میں ہندوستان نے پینترا بدلتے ہوئے رائے شماری سے انکار کرتے ہوئے ریاست کشمیر کو ”اٹوٹ انگ ” قرار دیتے ہوئے کشمیریوں کے خلاف ظلم و جبر کا ہر حربہ استعمال کرنے کا وہ سلسلہ شروع کیا جو گزشتہ تیس سال سے کشمیریوں کے خلاف بھر پور فوجی کاروائی کی صورت جاری ہے۔پاکستان کی ناقص پالیسیوں اورمسئلہ کشمیر پر کمزوری کے اظہار سے ہندوستان کو کشمیر پر اپنا غاصبانہ قبضہ برقرار رکھنے میں نمایاں مدد ملی ہے۔ کانفرنس کا پہلا ذیلی موضوع ، ”نیا انتفادہ،کشمیر میں نوجوانوں کی قربانیاں،چیلنجز اور مواقع” ۔کشمیر میں گزشتہ ایک عشرے کے دوران انتفادہ کی تحریک تین،چار بار ایک سال سے زائد عرصے تک زور و شور سے جاری رہی۔انتفادہ کی ان تحریکوں میں کشمیر کے عام لوگوں نے سڑکوں پر ہندوستانی قبضے کے خلاف زبردست مظاہرے کئے اور ہندوستان کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔کشمیریوں کا جذبہ آزادی،ان کے خلاف ہندوستان کے انسانیت سوز مظالم اور اس کے ردعمل میں کشمیری نوجوانوں کا مسلح مزاحمتی تحریک کا حصہ بننا، ایک عمل اور ردعمل کا مسلسل سلسلہ ہے۔1988ء میں ہندوستان سے آزادی کی مسلح جدوجہد شروع کرنے میں بھی کشمیری نوجوانوں کا کردار تھا اور گزشتہ ایک عشرے کے دوران نوجوانوں کی سیاسی مزاحمت ہی انتفادہ تحریکوں کی بنیاد ہے۔اس دوران سینکڑوں ہلاک، ہزاروں زخمی،ہزاروں گرفتارہوئے۔مسلح جدوجہد کے مجاہد آزادی برہان وانی کی ہلاکت سے شروع ہونے والی انتفادہ کی تحریک ایک سال سے زائد عرصہ جاری رہی اور اس دوران بھی بڑی تعداد میں کشمیری نوجوان ہلاک،زخمی ،قید اور گرفتار ہوئے۔اس انتفادہ کے دوران ہندوستانی فورسز کی طرف سے مظاہرین کے خلاف چھروں والی پیلٹ گن کے استعمال سے بڑی تعداد میں کشمیری نوجوان اور بچے شدید زخمی ہوئے اور درجنوں کی تعداد میں آنکھوں کی بینائی سے محروم ہوئے۔اس بنیادی اور تاریخی حیققت کا اعتراف اور ادراک ناگزیر ہے کہ کشمیری نوجوان کسی کے کہنے پر جدوجہد کرتے ہوئے قربانیاں نہیں دیتے ۔ کشمیریوں کو مزاحمتی تحریک کی پاداش میں ہندوستان کے بہیمانہ انسانیت سوز مظالم کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کا مطالبہ کرنے والے کشمیریوں کوہندوستان کے انسانیت سوز ریاستی ظلم و جبر اور قتل و غارت گری کا سامنا ہے اور انہیں اور ان کے گھر والوں کو کوئی مدد یا معاونت حاصل نہیں ہوتی۔کشمیریوں کو خاص طور پر ہندوستان کے دوردراز علاقوں کی جیلوں میں قید ررکھا جاتا ہے جہاں ان کے گھر والوں کی رسائی ناممکن ہو جاتی ہے۔ گرفتار کشمیری نوجوانوںکی رہائی کے لئے ان کے گھر والوں کو اپنی اشیائ،املاک بیچ کر لاکھوں روپے رشوت دینے پر مجبور کیا جاتا ہے۔اب اس صورتحال کے تناظر میں انتفادہ کے کیا” مواقع” ہیں،اس بات کا جائزہ پاکستان کے پالیسی سازوں اورحکمت عملی کے اقدامات کرنے والوں کے لئے ضروری ہے۔ہندوستانی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی وسیع پیمانے پر خلاف ورزیوں کے مسلسل سلسلے کے باوجود کسی بھی ادارے کی طر ف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا مکمل ریکارڈ مرتب نہیں کیا جا رہا۔انٹرا کشمیر تعلقات اور رابطے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ریاست کشمیر کے منقسم حصوں کے باشندوں کی دونوں خطوں میں آمد و رفت اور نقل و حمل کے حق کو تسلیم کیا ہے لیکن عملی طور پر  جنگ بندی لائین کے ذریعے کشمیرکے لوگوں کو ایک دوسرے سے جبری طور پر جدا  رکھا گیا ہے۔2005میں دونوں ملکوں کے درمیان  کشمیر کے دنوں حصوں کے درمیان منقسم کشمیری خاندانوں کے لئے سرینگر مظفر آباد بس سروس شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔اس بس سروس میں پرمٹ کے ذریعے منقسم کشمیری خاندانوں کے افراد کو  خصوصی پرمٹ کے ذریعے لائین آف کنٹرول عبور کرنے کی اجازت دی گئی ۔اس کے لئے چکوٹھی۔ اوڑی اور پونچھ کے دو روٹ قائم کئے گئے۔پرمٹ کے ذریعے آمد و رفت کی اجازت سے دونوں ملکوں کی طرف سے کشمیریوں کا اپنی ریاست میں آمد و رفت کا حق(پاسپورٹ کے بغیر) تسلیم کیا گیا۔یہ بس سروس ہفتے میں ایک دن چلائی جاتی ہے تاہم اس سے منقسم کشمیری خاندانوں کو آمد و رفت میں مزید سہولیات فراہم نہیں کی گئیں۔پرمٹ کے حصول کا مہینوں پر محیط طریقہ کار اور ہر بار فارم کی تحقیقات سے منقسم کشمیری خاندانوں کو غیر ضروری دشواریوںاور مشکلات کا سامناہے۔اسی طرح خوشی غمی کے موقع پر ہنگامی طور پر کشمیریوں کو کنٹرول لائین سے آنے جانے کی سہولت کا کوئی طریقہ کار نہیں ہے۔اس بس سروس کے مسافروںپر کئی غیر ضروری پابندیاں بھی عائید ہیں۔تقریبا تین سال کے بعد سرینگر مظفر آباد کے درمیان کشمیری تاجروں کے ذریعے تجارتی سامان کی ” ٹرک سروس” کا آغاز کیا گیا۔اس ٹرک سروس کے حوالے سے کشمیر کے دونوں حصوں کے درمیان تاجروں کی ایسوسی ایشنز قائم ہوئیں۔تنازعہ کشمیر ،نفسیاتی ،سماجی،ماحولیاتی اور پانی کے مسائل اورتنازعہ کشمیر پر اس کے اثرات۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان1947-48کی لڑائی کے بعد یکم جنوری1949 کو اقوا متحدہ کی سلامتی کونسل کی اپیل پر ریاست کشمیر میں جنگ بندی عمل میں آئی اور دونوں ملکوں کی فوجوں کی اگلے مورچوں کی جگہوں کے درمیان جنگ بندی لائین(سیز فائر لائین)کا قیام عمل میں لایا گیا اور شملہ سمجھوتے ہیں کشمیر کی سیز فائر لائین کو ‘لائین آف کنٹرول’ کا نام دیا گیا۔ کنٹرول لائین کی لمبائی740کلومیٹر(460میل)ہے جس میں سے550کلومیٹر(340میل)پر ہندوستان نے تقریبا ایک عشرہ پہلے خار دار تاروں کی اونچی ،ناقابل عبور باڑ نصب کر کے سیز فائر لائین(کنٹرول لائین)کی بنیاد پر ریاست کشمیر کی تقسیم کو مزید مستحکم بنایا۔کشمیر اور وہاں کی انسانی و جنگلی حیات کو تقسیم اور تباہ کرنے والی سیز فائر لائین(لائین آف کنٹرول)کو خونی لکیر کہا جاتا ہے اور اسے ‘ دیوار برلن’ سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔سیز فائر لائین ( لائین آف کنٹرول) پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کے نتیجے میں غیر فطری طور پر قائم ہوئی ،جس سے ریاست کشمیر کے کئی گائوں،آبادیاں اور گھر اس غیر فطری تقسیم کی وجہ ایک ساتھ ہونے کے باوجود الگ الگ ہو گئے۔کشمیر کی سیز فائر لائین( لائین آف کنٹرول)پر دونوں ملکوں کی فوجوں کی بھاری تعداد کی تعیناتی اورباڑ کی تنصیب سے ہزاروں کشمیری خاندان ایک دوسرے سے بچھڑ گئے ۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں ریاست کشمیر کے باشندوں کا اپنی ریاست میں آزادانہ نقل و حرکت کا حق تسلیم کیا گیا تھا لیکن عملی طور پر ریاستی باشندوں کو سیز فائر لائین عبور کرنے کا حق نہیں دیا گیا۔یوں ہزاروں،لاکھوں کشمیری تقریبا سات دہائیوں سے اپنے قریبی رشتہ داروں سے بچھڑے رہنے پر مجبور ہیں۔جنگ بندی کے نتیجے میں قائم ہونے والی اس غیر فطری پابندی کی اس لکیر کے قیام سے کشمیری اپنی ہی ریاست میں اپنے عزیز و اقارب سے مستقل طور پر بچھڑے رہنے پر مجبور ہیں اور یہ ایک بڑا انسانی المیہ ہے۔سیز فائر لائین کا قیام مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے پہلے قدم کے طور عمل میں لایا گیا تھا لیکن عملا لائن آف کنٹرول ریاست کشمیراوراس کے لوگوںکی جبری تقسیم کا باعث ہے۔ریاست جموں و کشمیر میںدرجنوں اقسام کے جنگلی جانور پائے جاتے ہیں اور ان میں سے کئی اقسام خاتمے کے قریب ہیں۔لائین آف کنٹرول پر بڑی تعداد میں ہندوستان اور پاکستان کی فوجوں کی تعیناتی،بارودی سرنگوں اور خار دار تاروں کی باڑ کی وجہ سے نایاب جنگلی جانوروں کی نقل و حرکت محدود ہو گئی ہے اور اس سے ان جانوروں کی کئی نسلیں خاتمے کے خطرات سے دوچار ہیں۔نقل و حرکت پر ان پابندیوں کی وجہ سے جنگلی جانور انسانی آبادیوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں جس سے جانورں کی مختلف نایاب نسلیں انسانوں کے ہاتھوں بھی ہلاک ہو رہی ہیں۔ریاست جموں و کشمیر کے اہم نایاب جنگلی جانوروں میں بھورا ریچھ،کالا ریچھ،سنو لیوپڈ،عام لیوپڈ،آئی بیکس،مار خور،چیرو(اینٹی لوپ)اور ہرن کی کئی اقسام شامل ہیں۔ ریاست کشمیر میںجنگلی جانوروں کی یہ نسلیں خاتمے کے خطرات کا شکار ہیں۔مختلف شعبوں کے ماہرین کے مطابق کشمیر کی لائین آف کنٹرول پر بھاری تعداد میں فوجوں کی مستقل موجودگی دنیا کے امن کے لئے مستقل خطرہ بنی ہوئی ہے اور اس سے ماحولیات اور موسم کے مطابق دوسرے علاقوں کی طرف جانے والی ”وائلڈ لائف” بھی شدید خطرات سے دوچار ہے۔ہندوستانی فوج نے لائین آف کنٹرول پر بارہ فٹ اونچی باڑ نصب کی ہے جس کے ساتھ موشن سینسرز،تھرمل امیجز ڈیوائیسز،لائٹنگ سسٹم اور الارم کے علاوہ بڑی تعداد میں بارودی سرنگیں بھی نصب ہیں۔یوں کشمیر کی سیز فائر لائین پر باڑ اور بھاری تعداد میں فوجوں کی مستقل تعیناتی جہاں ریاست کشمیر کے لوگوں کو بچھڑے رہنے پر مجبور کرتی ہے وہاں کشمیر کی جنگلی حیات(وائلڈ لائف)بھی تباہی کا شکار ہوتے ہوئے شدید ترین اور ناقابل تلافی نقصانات سے دوچار ہے۔1960میں طے پائے سندھ طاس معاہدہ(انڈس واٹر ٹریٹی) کے باوجود  پاکستان اور ہندوستان کے درمیان پانی سے متعلق تنازعات ختم نہیں ہوئے۔ہندوستان نے مقبوضہ کشمیر میں بڑی تعداد میں دریائوں سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے تعمیر کئے جبکہ پاکستان کی طرف سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے غیر معمولی تاخیر کا شکار رہے۔یہ تاثر عام ہے کہ عالمی طاقتوں نے کشمیر کے آبی وسائل کی تقسیم کے لئے تو دونوں ملکوں کے درمیان معاہدہ کرا دیا لیکن بنیادی مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے کوئی پیش رفت نہیں کی گئی۔دونوں ملک کشمیر کے آبی وسائل سے بڑے فائدے حاصل کر رہے ہیں لیکن کشمیر کے دونوں حصوں کو بجلی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ سندھ طاس معاہدے کی وجہ سے ریاست کشمیر کے دونوں منقسم حصوں کو سالانہ اربوں روپے نقصان کا سامنا ہے۔کشمیری یہ سمجھتے ہیں کہ کشمیر کے وسائل سے دونوں ملک عالمی سہولت کاری سے بڑے فائدے حاصل کر رہے ہیں لیکن کشمیریوں کے بنیادی حقوق اور مسئلہ کشمیر کے حتمی حل سے انکار کیا جا رہا ہے۔کشمیر کے دونوں حصوں میں مقامی مسائل و امور کے حوالے سے مقامی اسمبلیاں قائم ہیں لیکن دونوں ملکوں کی نگرانی میں قائم یہ اسمبلیاں مقامی مسائل و امور کے حل میں بھی ناکام ہیں۔چین پاکستان اقتصادی راہداری گلگت بلتستان کے علاقے سے گزرتی ہے۔اقتصادی ترقی کے اس بڑے منصوبے سے مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کی ضرورت میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ہائیر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد کے تعاون سے ‘نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز’ کی یہ مجوزہ کشمیر کانفرنس ایک اچھا اقدام ہے اور یورپ،امریکہ ،ہندوستان اور مقبوضہ کشمیر سے مختلف شعبوں کی شخصیات کی شرکت سے کانفرنس کی اہمیت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔عمومی طور پر مسئلہ کشمیر کو پاکستان اور ہندوستان کے حوالے سے ہی دیکھا جاتا ہے ،تاہم گزشتہ تین عشروں سے ہندوستانی مقبوضہ کشمیر میں جاری عوامی مزاحمتی تحریک سے یہ ضرورت کھل کر سامنے آئی ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بنیادی فریق یعنی کشمیریوں کی رائے کو اہمیت اور فوقیت دی جائے۔مسئلہ کشمیر کے ایک فریق اورکشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت کے طور پر پاکستان کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کا سب سے بڑا حامی ملک ہے۔اس کے علاوہ مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل پاکستان کے لئے بھی کئی حوالوں سے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ یہ بات شدت سے محسوس کی جار ہی ہے کہ کشمیریوں کے لئے پاکستان کی سیاسی،سفارتی اور اخلاقی مدد کے حوالے سے پالیسیوں کا جائزہ لیا جائے تاکہ اسے موثر بنایا جا سکے۔ کشمیریوں کے لئے پاکستان کی سیاسی،سفارتی اور اخلاقی مدد کلی طور پر ” غیر سیاسی بنیادوں ” میں محدود ہونے سے خرابیوں میں اصلاح ممکن نظر نہیں آتی۔اس سے کشمیریوں کی حق خود ارادیت کے لئے تحریک مزاحمت اور مسئلہ کشمیر کے حل میں پیش رفت مزید مشکل ہو جاتی ہے۔اگر مسئلہ کشمیر،کشمیر کاز کے حوالے سے پاکستان کی پالیسیوں کو کشمیریوں کی مشاورت سے بہتر بنانے کی راہ اپنائی جائے تو اس سے تنازعہ کشمیر کے حل میںنمایاں پیش رفت کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔کشمیریوں میں بے چینی پیدا کرنے والے اس موضوع کا شامل کیا جانا مناسب ہوتا کہ مسئلہ کشمیر سے متعلق پاکستان کی پالیسی کیا ہے اور کیا ہونی چاہئے

یہ بھی پڑھیں  عراق میں کار بم دھماکے، 100 سے زائد افراد ہلاک