پاکستانتازہ ترین

وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں آئینی ترمیم پر فیصلہ نہ ہوسکا

اسلام آباد(بیورو رپورٹ) وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں آئینی ترمیم پر فیصلہ نہ ہوسکا ، پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) نے مخالفت کردی ۔ تحریک انصاف ایم کیو ایم نے حمایت کا اعلان کردیا ، راجہ پرویز اشرف کاکہنا ہے کہ ضمیر بیچنے والوں کو ٹکٹ نہ دیئے جائیں ہمیں اپنے ممبران پر اعتماد ہے آئینی ترمیم کی بجائے سیاسی جماعتیں اپنے اندر نظم وضبط پیدا کریں ۔ جمعہ کے روز وزیراعظم کی زیر صدارت پارلیمانی رہنماؤں کے اجلاس میں ہارس ٹریڈنگ کے خاتمے کے لیے 22ویں ترمیم پر بات چیت ہوئی اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی اور جے یو آئی (ف) نے ترمیم کی مخالفت کردی جبکہ پاکستان تحریک انصاف ، ایم کیو ایم نے حمایت کااعلان کیا ہے پی پی اور جے یو آئی کا موقف ہے کہ آئینی ترمیم کی بجائے سیاسی جماعتیں اپنے اندر نظم وضبط پیدا کریں بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ صحیح کام غلط وقت پر کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جو لوگ اپنا ضمیر بیچتے ہیں بعض انتخابات کے ٹکٹ بھی نہ دیئے جائیں ہمیں اپنے ممبران پر پورا اعتماد ہے انہوں نے کہا کہ آئینی ترمیم کے لیے سیاسی جماعتوں کا متفق ہونا ضروری ہے اگر تمام جماعتیں متفق ہوئیں تو 22 ویں آئینی ترمیم کی حمایت کرینگے انہوں نے کہا کہ ہارس ٹریڈنگ کے معاملے پر پیپلز پارٹی کا موقف بالکل واضح ہے تمام ارکان اسمبلی کو بکاؤ مال کہنا بالکل غلط ہے کیا ترمیم کے ذریعے تمام ارکان اسمبلی کو کرپٹ ثابت کرنا چاہتے ہیں پیپلز پارٹی انتخابی نظام میں اصلاحات کے لئے ترمیم کی حامی ہے ۔ فضل الرحمان نے کہا کہ بائسیوں ترمیم سے ارکان کی پارٹی وفاداری مشکوک ہوجائے گی ہم ترمیم کے لیے نہی اتحادی کی حیثیت سے الاس میں آئے خورشید شاہ نے کہا کہ ہمیں اپنے ارکان پر اعتماد سیاسی جماعتوں کو اتنا مضبوط ہونا چاہیے کہ ارکان بک نہ سکیں

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
error: Content is Protected!!