پاکستانتازہ ترین

سپریم کورٹ سے’’سزایافتہ‘‘شخص کووزیراعظم رہنےکاکوئی حق نہیں،نوازشریف

لاہور﴿نمائندہ خصوصی﴾ پاکستان مسلم لیگ ﴿ن﴾ کے صدر محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ سے ’’ سزا یافتہ ‘‘ شخص کو وزیر اعظم رہنے کا کوئی حق نہیں ۔ دنیا کیا کہے گی کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت سے سزا یافتہ شخص برطانیہ کا دورہ کر رہا ہے ۔ سوموار کو یہاں مدیران جرائد ، سینئر اخبار نویسوں ، کالم نگاروں اور اینکر پرسنز سے ملاقات میں انہوں نے کہا کہ مہذب اور نیم مہذب معاشروں میں بھی حکمرانوں میں سے کسی پر صرف الزام لگتا ہے تو وہ مستعفی ہو جاتا ہے ،یہاں تو ملک کی سب سے بڑی عدالت یوسف رضا گیلانی کو ’’ سزا یافتہ ‘‘ قرار دے چکی ہے اور وہ اس کے باوجود وزارت عظمیٰ پر قابض ہیں ۔ ملاقات میں میاں شہباز شریف ، چوہدری نثار علی خان ، سینیٹر اسحاق ڈا ر، خواجہ محمد آصف ، سینیٹر پرویز رشید ، سینیٹر مشاہد اللہ خان ،خواجہ سعد رفیق اور نصیر بھٹہ بھی موجود تھے۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ سپریم کورٹ سمیت قومی اداروں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اس کے اصل ذمہ دار آصف زرداری ہیں ، باقی لوگ ان کے ہاتھو ں استعمال ہو رہے ہیں ۔ یوسف رضا گیلانی کی وفاداری زرداری کے ساتھ نہیں بلکہ اپنے ملک ، آئین اور قانون کے ساتھ ہونی چاہیے تھی لیکن وہ ایک فرد کے لئے اپنے حلف سے بے وفائی کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے 90 فیصد عوام کا مطالبہ ہے کہ بیرونی سودوں میں کک بیکس کے ذریعے حاصل کئے گئے کروڑوں ڈالر ، سوئس بنکوں سے واپس آئیں ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ملک میں کروڑوں ، اربوں کی کرپشن ہو رہی ہو ، تو کسی ادارے کو تو اس کا نوٹس لینا چاہیے ۔ اگر سپریم کورٹ اپنے آئینی اختیارات کے تحت یہ کام کر رہی ہے تو کسی کو اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کو اصل خطرہ ہماری جدوجہد سے نہیں بلکہ موجودہ حکومت کے رویوں سے ہے ۔ اسے چیک نہ کیا گیا تو یہ عدلیہ سمیت تمام قومی اداروں اور جمہوریت کے مستقبل کے لئے تباہی کا باعث بنے گا ، ہماری جدوجہد تو اصلاح کا باعث بنے گی ۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا نے جس طرح عدلیہ بحالی مہم میں بھر پور کردار ادا کیا تھا ، اب عدلیہ کے فیصلوں پر عملدرآمد کرانے کے لئے بھی اپنا کردار ادا کرے ۔ یوسف رضا گیلانی کے اس بیان پر کہ حزب اختلاف ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لے آئے ، نواز شریف نے کہا کہ سپریم کورٹ سے سزا یافتہ ہونے کے بعد وہ وزیر اعظم ہی نہیں رہے تو ہم ان کے خلاف عدم اعتماد کیوں لائیں ۔ انہوں نے کہا کہ ان چار برسوں میں حکومت نے مشرف دور کی خرابیوں کی اصلاح کی بجائے الٹا ان میں اضافہ کیا ہے ۔ اس عرصے میں کوئی ایک کام نہیں جس پر موجودہ حکومت فخر کر سکے ۔ لوڈ شیڈنگ ، مہنگائی ، غربت ، کرپشن ، عدلیہ کی توہین ہر خرابی پہلے سے کہیں بڑھ گئی ہے ۔ اس سے جمہوریت بدنام ہوئی ہے اور لوگوں کا جمہوریت پر اعتماد بھی متاثر ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی اس روش کو چلنے دیا گیا تو حالات کہیں زیادہ خراب ہو جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی موجودہ جدوجہد قانون کی حکمرانی کی جدوجہد ہے جس پر کوئی سودے بازی ملک کے ساتھ سخت زیادتی ہو گی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اقتدار کے لئے جمہوریت اور اداروں کو بچانے کے لئے نکلے ہیں ۔ حکمرانوں کو اس روش پر چلنے دیا گیا تو یہ سب کچھ تباہ کر دیں گے اور پاکستان کو ایک ایسا ملک بنا دیں گے جو انسانوں کے رہنے کے قابل نہیں ہو گا۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ دسمبر 2007ئ میں اسی گھر میں اے پی ڈی ایم کی میٹنگ ہوئی جس میں الیکشن کے بائیکاٹ پر غور و خوض کیا گیا ۔ ہمارا موقف تھا کہ پیپلز پارٹی کے بغیر بائیکاٹ غیر موثر ہو گا ،انہوں نے بے نظیر صاحبہ سے مل کر انہیں بائیکاٹ پر آمادہ کرنے کی کوشش کی لیکن وہ اس پر تیار نہ تھیں ۔ اے پی ڈی ایم کی جماعتوں میں اے این پی اور جے یو آئی ﴿ایف ﴾ بھی بائیکاٹ پر تیار نہ تھیں ۔ ایسے میں عمران خان اور باقی ایک دو جماعتوں کو بھی الیکشن میں حصہ لینا چاہیے تھا۔ ہم پارلیمنٹ میں موجود نہ ہوتے تو این آر او بھی منظور ہو چکا ہوتا اور3 نومبر کے غیر آئینی اقدام سمیت مشرف کی باقی غیر آئینی کارروائیوں کو بھی تحفظ مل جاتا ، عدلیہ بھی بحال نہ ہوتی ۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی بحالی کے اعلان کے بعد لانگ مارچ جاری رکھنے کا کوئی جواز نہیں تھا ، تاہم گوجرانوالہ میں لانگ مارچ ختم کرنے پر شہباز شریف نے قاضی حسین احمد سے اور چوہدری نثار نے عمران خان کو اعتماد میں لیا تھا ۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ استعفے دینا ہمارے لئے کوئی مسئلہ نہیں ، لیکن سوال ہے کہ کیا ہم حکومت کو پارلیمنٹ میں کھلی چھٹی دے دیں کہ وہ اپنی اپوزیشن بنا کر اپنی پسند کا چیف الیکشن کمشنر اور نگران حکومتیں بنا لے ۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر ہم استعفوں کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے سے گریز نہیں کریں گے جو ہمارے جمہوری کاز کے لئے مفید ہو ۔

یہ بھی پڑھیں  سینیٹ انتخابات: وفاقی کابینہ نے سیکریٹ بیلٹ ختم کرنے کی منظوری دے دی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker