پاکستانتازہ ترین

وزیراعظم فوری عہدہ چھوڑ دیں، میاں نواز شریف

لاہور(نامہ نگار)مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف نے توہین عدالت کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم فوری طور پر عہدہ چھوڑ دیں۔جیو نیوز کے اینکر کامران خان کے ساتھ بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ جو بھی سپریم کورٹ نے آج کیا ہے وہ بالکل حق اور سچ پر مبنی ہے، کوئی بھی نہیں چاہتا کہ نہ ہی اس فیصلے پر کسی کو خوشی ہے نہ ہی میرے خیال میں سپریم کورٹ نے خوش دلی سے یہ فیصلہ دیا ہے، مگر حکومت نے بھی سپریم کورٹ کی تضحیک کا کوئی بھی موقع نہیں چھوڑا، اپنے من پسند افسر لگائے گئے کوئی کسر نہیں چھوڑی، سپریم کورٹ کا صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہوا ہوگا، جس طرح عوام کا صبر کا پیمانہ لبریز ہوا ہے، وزیراعظم کو جو سزا سنائی گئی ہے یہ جتنا وقت گزاریں گے قوم، ان کے عہدے، ان کے منصب اور پارلیمنٹ کا وقار مجروح ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کو اس فیصلے کے بعد فوری طور پر اپنا عہدہ چھوڑ دینا چاہیے، وزیر اعظم کو کسی سازش کا حصہ نہیں بننا چاہیے، بصورت دیگر سپریم کورٹ کی بھی توہین ہوگی۔انہوں نے یاد دلایا کہ 1993ء میں غلام اسحق خان نے ہماری حکومت کو ختم کردیا تھا اور اسمبلی تحلیل کردی تھی جب ہم سپریم کورٹ گئے تو انہوں نے ہمیں بحال کردیا اور غلام اسحق خان کے فیصلے کو مسترد کردیا تھا، اس کے باوجود پاکستان میں ہم نے حالات کو درست کرنے کیلئے خود اسمبلی کو تحلیل کیا اور نئے انتخابات کی جانب گئے تو جب ہم مقدمہ جیتنے کے باوجود حکومت چھوڑ سکتے ہیں یہ سزا پانے کے بعد کیوں نہیں؟ انہوں نے کہا کہ آج قوم ان سے پوچھے کہ آپ ان کے ساتھ کیوں گئے تو یہ کیا جواب دیں گے، کیا یہ کہیں گے کہ پاکستانیوں کا مال جو لوٹا ہے اس پر ان کا ساتھ دینے کیلئے گئے ہیں، جس نے عوام کی خون پسینے کی کمائی کو لوٹا اور سوئس بینک میں اس کو ڈالا تو اس پر حکومت نے اسٹینڈ لیا کہ ہم خط نہیں لکھیں گے یعنی حکومت نہیں چاہتی کہ عوام کا پیسہ ملک میں واپس آئے۔انہوں نے سوال کیا کہ کیا پاکستان کا مال لوٹا جانا بڑے فخر کی بات تھی، آج قوم جاننا چاہتی ہے کہ اس کا پس منظر کیا ہے، تمام سیاسی جماعتوں کو سوچنا چاہیے کہ ان کا کیا کردار ہے کیا یہ واقعی اس کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں یا نفرت سے، اب ایسا وزیراعظم کا امیدوار لایا جائے جو نیوٹرل ہو جو سوئس حکام کو خط لکھ سکے

یہ بھی پڑھیں  ڈنڈابردارجمہوریت

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker